دال اور دو چشمی ھ کی دنیا/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

بعض لوگوں کے ذہن پر گیتوں کی دھنیں سننے کی ایسی دھن سوار ہوتی ہے کہ وہ اپنے موبائل پراپنی مرضی کے گانوں کی دھن سن کر سر دھننے لگتے ہیں۔ وہ نماز بھی پڑھیں تو موبائل کی رنگ ٹون کے بجتے ہی ان کا دھیان جیب میں پڑے موبائل فون پرجاتا ہے اور وہ اسے دھڑلے سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح دوسرے نمازیوں کی نمازمیں خلل پڑتا ہے، بلکہ یہ سوچ کر ان کا دل دھک سے رہ جاتا ہے کہ کہیں کوئی خود کش بمبار موبائل فون آن کر کے دھماکہ تو کرنے نہیں جا رہا۔ ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ لوگ پر ہجوم جگہوں پر جانے سے گریز کرتے ہیں، کیونکہ انہیں وہاں دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ راہگیر بھی گزرتے وقت یوں دھکے دیتے ہیں جیسے وہ روزگار کی تلاش میں دھکے کھانے کا بدلہ لے رہے ہوں۔ اس دھما چوکڑی میں کسی کے سر کو دھمک پہنچتی ہے اور کوئی مرنے مارنے کی دھمکی دیتا ہے۔ یہ دھمکی سن کرکمزور دل والوں کے دل دہل جاتے ہیں۔ مرنے مارنے پر یاد آیا کہ ایسےلوگ بھی ہوتے ہیں جو مرکھنے بیل کی طرح اپنے بچوں کو نا صرف بات بے بات ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں بلکہ انکی دے دھنا دھن دھنائی کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ معلوم نہیں کیوں اان کا دھیان ہر وقت مارنے پیٹنے پر کیوں جاتا ہے۔

ہم نے دیکھا ہے کہ محنتی لوگ اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں۔ وہ دھن دولت کمانے کے لئے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ نا ہی دولت لوٹنے کا کوئی دھندہ کرتے ہیں، کچھ بھی ہو جائے، وہ دھرتی کا بھرم رکھتے ہیں۔ ہر موسم میں چاہے چلچلاتی دھوپ ہو یا سردیوں کی دھند، ہر وقت، کام اور کام پہ آمادہ رہتے ہیں۔ دھول اور دھواں انکا راستہ روکتا ہے نہ دھواں دھار بارش ان کے قدم آگے بڑھنے میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ ایسے لوگوں کی دوڑ دھوپ بالآخر انہیں کامیابی دیتی ہے۔ جن لوگوں نے دھوپ میں بال سفید نہیں کئے ہوتے وہ کبھی دھوکہ نہیں کھاتے۔ حالانکہ ہر جگہ دھوکے باز تاک میں رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ع
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گرکھلا۔
ہمارا اشارہ ان سیاسی لوگوں کی طرف ہرگز نہیں جو عام انتخابات میں دھونس اور دھاندلی سے جیت تو جاتے ہیں، لیکن وہ عوام کو دھوکے میں رکھ کر مال بٹورتے ہیں۔ پھر جب ان کی بد عنوانیاں سامنے آتی ہیں تو ایف آئی اے والے ہاتھ دھو کے ان پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ ویسے سیاستدانوں پہ ہی کیا موقوف ہر مکتب فکر کے لوگ پہلے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں اور پھر دھر لئے جانے کے خوف سے فرار ہو جاتے ہیں۔ اگر انکے ہاتھ لمبے نہ ہوں تو ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ دھونی ہندوستان کی کرکٹ ٹیم کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ مگر جب پاکستانی بالرز اسے بال کراتے تھے تو اس کی ایسی دھلائی کرتے تھے کہ دیکھا کرے کوئی۔

ہمارے معاشرے میں سب کچھ برا نہیں ہے۔ اچھے، نیک، ہمدرد اور برگزیده بندے بھی ہیں، لوگ، ان کی نیک سیرت کی دھوم کی وجہ سے ان کے پیر دھو دھو کر پیتے ہیں۔ ایسے نیک لوگوں کو نہ تو شہرت کی طلب ہوتی ہے، نہ دھوم دھام سے کوئی دلچسپی، اور نہ وہ کروفراوردھوم دھڑکے کو پسند کرتے ہیں۔ ایک بہت پرانی بات ہمیں یاد آرہی ہے کہ پہلے زمانے میں غریب لوگ بھی بھیک مانگنا پسند نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ وہ جلتے انگاروں پہ پنکھا جھل کر دکانوں میں اجوائن کی دھونی دیا کرتے تھے اور دکاندار اس کے صلے میں انہیں کچھ پیسے دے دیا کرتے تھے۔ وہ دھیرج سے کام لیتے تھے اور کوئی دھیلا دے یا ٹکا، دھیمے سے دعا دیتے گزر جاتے تھے۔ دھیرے دھیرے وقت گزرا تو بھیک مانگنا ایک کاروبار بن گیا ہے۔ ہر چوک پر، ہر مارکیٹ میں بھکاریوں کے غول در غول دھینگا مشتی کرتے ہؤۓ نظر آتے ہیں۔ آپ کی جیبیں خالی ہو جاتی ہیں،، اور ساری خریداری دھری کی دھری رہ جاتی ہے، اور آپ خالی ہاتھ گھر کو لوٹ جاتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیں کہ اس بربادی کا الزام کس پر دھریں۔
ہم مسلمان تو ہیں، مگر اکثر ہمارے کام دینی تقاضوں کے منافی ہوتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ ہر جگہ ناچ گانے اور باجے گاجے کے ساتھ دھمال ڈالے جا رہے ہوتے ہیں۔ یہ خلاف دین عمل ہے۔ دولہا کی بارات ہو یا مزاروں پہ جانے والی ڈالیاں، شرکاء ڈھول کی تھاپ پہ دھمال ڈالتے ہوئے جاتے ہیں۔ ان کے سر جھکے ہوتے ہیں، لیکن ان کے دھڑ تھرک رہے ہوتے ہیں۔ کیا زمانہ آگیا ہے؟

julia rana solicitors london

ہم نے ایک بات نوٹ کی ہے کہ گاڑیوں کے مکینک چاہے کتنے بھی عزت دار کیوں نہ ہوں، ان کے کپڑوں پہ جا بجا آئل کے اتنے دھبے لگے ہوتے ہیں کہ دھوبی بھی ان کپڑوں کی دھلائی سے انکار کر دیتے ہیں۔ مگر کیا، کیا جاۓ ان لوگوں کا جن کے اپنے دامن پہ داغ دھبوں سے بھرے ہوتے ہیں، وہی دوسروں کو پاک دامنی کا سبق دیتے ہیں۔ تف ہے ان پر۔ ان کو یہ کہہ کر ایک دھپ لگا دینا چاہئۓ کہ منافقت نہ کرو۔ اگر انکے دھپ کا وار خالی چلا جائے تو شرمندہ ہو کر کہتے ہیں دھت تیری کی۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply