آج کے دور میں فیض کیوں ضروری ہیں ؟- علی عباس کاظمی

اردو ادب کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف اپنی تخلیقات کی وجہ سے زندہ نہیں رہتے بلکہ اپنے عہد کی علامت بن جاتے ہیں۔فیض احمد فیض اُن کمیاب اذہان میں سے ایک ہیں جنہوں نے ادب کو نئی جہت دی۔ وہ محض ایک شاعر نہیں تھے۔۔۔وہ ایک فکر، ایک رویہ، ایک مزاج اور ایک عہد کا نام تھے۔ ان کی شاعری کو پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لفظ کاغذ پر نہیں، تاریخ کے سینے پر رقم ہو رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ فیض کو سمجھنا دراصل برصغیر کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی تاریخ کو سمجھنا ہے۔

فیض کی زندگی ایک عام شاعر کی زندگی نہیں تھی۔ سیالکوٹ کی سرزمین پر آنکھ کھولنے والا یہ نوجوان جب گورنمنٹ کالج لاہور اور بعد ازاں فوج اور صحافت کے میدان میں آیا تو اس کے سامنے ایک ایسا معاشرہ تھا جو غلامی، استحصال اور طبقاتی ناہمواری کا شکار تھا۔ فیض نے اس معاشرے کو محض دیکھا نہیں۔۔۔ محسوس کیا، جھیلا اور پھر اسے اپنے اشعار میں ڈھال دیا۔ ان کے ہاں عشق بھی ہے، انقلاب بھی۔۔۔ محبوب بھی ہے اور مزدور بھی۔۔۔ گل بھی ہے اور زنجیر بھی۔ یہی ہمہ گیری انہیں ایک عہد کا نمائندہ بناتی ہے۔

فیض کی شاعری کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ انہوں نے محبت کو صرف فرد کی ذات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماج کی وسعتوں تک پھیلا دیا۔ ان کی مشہور نظم “مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ” محض ایک عاشق کا اعتراف نہیں بلکہ ایک حساس انسان کا اعلان ہے کہ وہ اپنی آنکھیں معاشرتی ناانصافیوں سے بند نہیں رکھ سکتا۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں فیض روایتی غزل کے دائرے سے نکل کر اجتماعی شعور کی آواز بن جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔۔۔یہ مصرعہ دراصل ان کے فکری انقلاب کا استعارہ ہے۔

فیض کے ہاں انقلاب کی بات کسی نعرے کی صورت میں نہیں آتی۔ وہ بلند آہنگ خطیب نہیں بلکہ نرم لہجے کے شاعر ہیں۔ ان کے اشعار میں احتجاج بھی ہے تو شائستگی کے ساتھ، مزاحمت بھی ہے تو جمالیات کے پردے میں۔۔۔ یہی ان کی اصل قوت ہے۔ جب وہ کہتے ہیں؎

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے

تو یہ محض الفاظ نہیں رہتےیہ ہر دور کے مظلوم انسان کی آواز بن جاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ آمریت ہو یا جمہوری بحران، جب بھی اظہار پر قدغن لگتی ہے، فیض کے اشعار پھر سے زندہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی شاعری کسی ایک سیاسی دور تک محدود نہیں رہی بلکہ ہر دور کے لیے ایک استعارہ بن گئی۔

فیض کی زندگی کا ایک اہم باب قید و بند کی صعوبتیں ہیں۔ راولپنڈی سازش کیس میں گرفتاری اور جیل کی تنہائی نے انہیں توڑا نہیں بلکہ مزید نکھارا۔ “زنداں نامہ” کی نظمیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سلاخیں فکر کو قید نہیں کر سکتیں۔ وہ جیل کی کوٹھڑی میں بیٹھ کر بھی امید کے چراغ روشن رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں مایوسی کی دھند نہیں بلکہ امید کی روشنی ہے۔ وہ کہتے ہیں؎

ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

یہ نظم محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ یقین اور ایمان کی علامت ہے۔ اسی یقین نے انہیں ہر دور کا شاعر بنا دیا۔ جب بھی ظلم کی تاریکی بڑھتی ہے، فیض کا یہ پیغام روشنی کی طرح ابھرتا ہے۔

فیض کی شخصیت بھی ان کی شاعری کی طرح باوقار اور منکسرالمزاج تھی۔ وہ عالمی سطح پر سراہے گئے، لینن امن انعام ملا، دنیا کے مختلف ملکوں میں ان کی پذیرائی ہوئی مگر ان کے لہجے میں کبھی غرور نہیں آیا۔ ان کے دوست اور معاصرین بیان کرتے ہیں کہ وہ محفل میں بھی خاموش طبع اور نرم گفتار رہتے تھے۔ یہی انکسار ان کی شاعری میں بھی جھلکتا ہے۔ وہ خود کو کسی مسند پر نہیں بٹھاتے بلکہ عوام کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

انہوں نے جو موضوعات چنے وہ کسی خاص زمانے کے پابند نہیں تھے۔ ظلم، جبر، طبقاتی فرق، محبت، امید، جلاوطنی۔۔۔یہ سب انسانی تاریخ کے مستقل موضوعات ہیں۔ جب تک دنیا میں ناانصافی رہے گی، فیض کے اشعار اپنی معنویت برقرار رکھیں گے۔ جب تک انسان محبت کرے گا اور خواب دیکھے گا، فیض کی غزلیں زندہ رہیں گی۔

آج کے پاکستان میں جب نوجوان بے یقینی، معاشی دباؤ اور سماجی انتشار کا شکار ہیں، فیض کی شاعری انہیں حوصلہ دیتی ہے۔ وہ مایوسی کے اندھیرے میں امید کا دیا جلاتے ہیں۔ ان کے اشعار ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ جدوجہد کے بغیر تبدیلی ممکن نہیں، مگر جدوجہد میں بھی جمالیات اور انسان دوستی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہی توازن فیض کو دوسرے انقلابی شاعروں سے ممتاز کرتا ہے۔

فیض کی زبان بھی ان کی عظمت کا ایک سبب ہے۔ انہوں نے فارسی آمیز کلاسیکی اسلوب کو جدید احساسات سے ہم آہنگ کیا۔ ان کے ہاں استعارے اور علامات نہایت خوبصورتی سے برتے گئے ہیں۔ “گلوں میں رنگ بھرے” جیسی غزل میں جہاں رومان کی لطافت ہے وہیں ہجرت اور جدائی کا کرب بھی پوشیدہ ہے۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ لفظوں سے تصویریں بناتے ہیں اور جذبات کو موسیقیت میں ڈھال دیتے ہیں۔

فیض کو بعض حلقوں نے نظریاتی شاعر قرار دے کر محدود کرنے کی کوشش بھی کی، مگر وقت نے ثابت کیا کہ ان کی شاعری کسی مخصوص نظریے کی قید میں نہیں۔ وہ بنیادی طور پر انسان دوست شاعر تھے۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی قدر انسان کی حرمت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فلسطین کے مظلوموں کے لیے بھی لکھتے ہیں اور اپنے وطن کے محکوم طبقات کے لیے بھی۔ ان کا دکھ سرحدوں میں مقید نہیں تھا۔

“ڈھاکہ سے واپسی پر” فیض احمد فیض کی وہ نظم ہے جو 1971 کے سانحۂ مشرقی پاکستان کے بعد کے کرب کو خاموش مگر گہرے انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہ محض ایک سفر کی واپسی نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے خوابوں اور بکھری ہوئی قوم کا نوحہ ہے۔ فیض اس نظم میں شور نہیں مچاتے، نہ الزام تراشی کرتے ہیں بلکہ انسانی دکھ کو محسوس کرتے ہیں۔ ان کا لہجہ نرم ہے مگر سوال گہرا کہ ہم سے کہاں غلطی ہوئی؟ یہ نظم ہمیں ماضی پر سوچنے اور خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔

فیض کی وفات کے بعد بھی ان کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ آج بھی یونیورسٹیوں کے کیمپس ہوں یا ادبی محافل، احتجاجی ریلیاں ہوں یا مشاعرے—فیض کے اشعار گونجتے سنائی دیتے ہیں۔ یہ کسی شاعر کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے کہ اس کی تخلیق محض کتابوں تک محدود نہ رہے بلکہ عوام کے دلوں میں جگہ بنا لے۔ فیض احمد فیض محض ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد کا استعارہ ہیں۔ وہ اس عہد کے نمائندہ تھے جس میں امید اور مزاحمت ساتھ ساتھ چلتی تھیں۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ محبت کمزوری نہیں، طاقت ہے اور خواب دیکھنا جرم نہیں، حق ہے۔ ان کی شاعری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ؎

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

julia rana solicitors

فیض ہر دور کا شاعر اس لیے ہیں کہ انہوں نے انسان کے بنیادی دکھ اور بنیادی خواب کو آواز دی۔ جب تک دنیا میں کوئی شخص ناانصافی کے خلاف بولنے کی ہمت کرے گا، جب تک کوئی دل محبت کے لیے دھڑکے گا، جب تک کوئی آنکھ بہتر کل کا خواب دیکھے گی۔۔۔فیض زندہ رہیں گے۔ وہ شاعر نہیں، ایک عہد ہیں اور ایسے عہد کبھی ختم نہیں ہوتے، صرف نئے زمانوں میں نئے معنی کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply