اسلامی خارجہ پالیسی کے اصول(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔مشرف اسد

قبل از ریاست ِمدینہ سفارت کاری اور حجرت حبشہ:

تاریخ دانوں اور سیرت نگاروں نے دین اسلام کا سب سے پہلا سفارتی سفر حجرت حبشہ کو قرار دیا ہے۔کیونکہ مشرکین نے مسلمانوں پر مکہ کی زمین تنگ کر کے رکھ دی تھی۔ان کا مکمل سوشل بائیکاٹ کردیا تھا اور مسلمانوں پر ہر طرح کی پابندیاں عائد کردی تھیں اور مسلمانوں کا مکہ میں سکھ کا سانس لینا بھی مشکل ہوگیا تھا۔ یہی حالات دیکھتے ہوئے نبیﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ  وہ حبشہ ہجرت کرلیں۔  جب مسلمان ہجرت کرکے حبشہ گئے تونجاشی جو اس وقت کا بادشاہ تھا اس نے مسلمانوں کے نمائندوں کو بلایا اور پوچھنا چاہا کہ ہجرت کی کیا وجہ ہے جس پر آپﷺ کے چچا زاد بھائی  حضرت جعفر بن ابی طالب آگے بڑھے اور ہجرت کی  وجہ بیان کی:

tripako tours pakistan

“اے بادشاہ! ہم لوگ پہلے سخت جاہل تھے۔ بتوں کی پرستش ہمارامذہب تھا۔ فواحش اور گناہ کا ارتقاب کرتے تھے۔ قطع رحم اور پڑوس کی حق تلفی کو ہم نے جائز سمجھ  رکھا تھا جو طاقتور ہوتا وہ کمزور کو کھا جاتا پس ہم ایسی ہی ذلیل حالت میں تھے کہ اللہ نے ہم پر کرم کیا اور ہمارے بیچ اپنا رسول بھیجا جس کے نسب وشرف اور صدق و امانت سے ہم سب بخوبی واقف ہیں اس رسول نے ہم کو توحید معارفت کی طرف بلایا اور بت پرستی جو ہمارے باپ دادا سے چلی آرہی تھی اس سے ہم کو منع کیا اور ادائے امانت  صلح رحمی اور پڑوسیوں کے حقوق اور گناہوں سے بچنے اور فواحش کو ترک کرنے کا حکم دیا اور یتیم کا حق تلف کرنے اور عورتوں پر تہمت لگانے سے منع فرمایا اور واحد خدا کی عبادت اور نماز و روزہ اور زکوٰ ۃ کو فرض کیا۔”(14)

یہ تاریخ اسلام میں سب سے پہلی اور سب سے شاندار اور کامیاب سفارت  کاری تھی۔اس کے بعد رسولﷺ نے بھرپور سفارت کاری انجام دی۔

سفیر کی خصوصیات

1۔اسلامی ریاستوں  کے سفیر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہو کہ وہ پختہ یقین اور داعیانہ جذبے سے سرشار ہوں۔ ارشاد باری تعالیٰ  ہے۔

“آپ کہہ دیجیے کہ میرا طریق یہی ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ،دلیل پر قائم ہوں،میں(بھی) اور میرے پیروکار بھی اور پاک ہے کہ اللہ کی ذات اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔”(القرآن 108:12)

2۔سفیر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہونی چاہیے کہ سفیر جہاں سفارت کار بن کر جائے تو وہاں کی زبان پر اسے عبور حاصل ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اپنا مدعا بیان کرنے اور سمجھانے کا بھی ماہر ہو۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ آپﷺ نے حضرت زید بن ثابت کو فارسی سیکھنے کا حکم دیا: مجھے رسولﷺ نےفرمایا میرے پاس ان لوگوں کے خطوط آتے ہیں میں یہ پسند  نہیں کرتا اسے کوئی  اور پڑھے ،کیا آپ یہ استطاعت رکھتے ہیں کہ عبرانی زبان سیکھ لیں، یا آپ نےیہ فرمایا کہ سریانی زبان سیکھ لیں ،میں نے کہاں، ہاں۔پھر فرماتے ہیں کہ میں نے سترہ دنوں میں وہ زبان سیکھ لی۔(15)

3 سفیر کی خوبیوں میں سے ایک خوبی اس کا جدمانی قد بھی شمار کیا جاتا ہے۔آپﷺ نے حضرت حاطب جن کا قد و قامت بڑا تھا،  کو   سکندریہ کی طرف اپنا سفیر بنا کر بھیجا۔۔ آپ نے زبردست مناظرہ کیا ،جس سے متاثر ہو کر مقوقس سکندریہ نے کہا:انت حکیم جائی  من عن حکیم” تم تو حکیم اور حکیم کے پاس سے آئے ہو۔(16)

4۔ سفیر کی ایک اہم خصوصیت یہ ہونی چاہے کہ وہ اتباع محمدی سے سرشار ہو کیونکہ رسولﷺ کی  اطاعت اللہ  کی اطاعت ہے، آیت قرآنی ہے:

“جس نے رسول کی اطاعت کی اس نےدرحقیقت  اللہ کی اطاعت کی۔”(القرآن 80:4)

سفیر کے حقوق

اوپر سفیر کی وہ خصوصیات بیان کی ہیں جو آپﷺ کسی سفیر کا انتخاب کرتے وقت دیکھا کرتے تھے لیکن جب کسی غیر مسلم ملک سے سفیر آتا تب آپﷺ اس کے ساتھ  کیا معاملہ فرماتے تھے درج ذیل ہے:

1۔ دین اسلام میں  شروع سے ہی سفیر کو   احترام حاصل ہے اور سفراء کو مکمل عزت دینے کا حامل ہے۔حدیث مبارکہ میں ارشاد  رسولﷺ ہے:

“نبی ﷺ کے پاس مخالف اقوام کے سفیر آتے ،وہ آپﷺ کے خلاف دشمنی کا اظہار کرتے، آپﷺ نہ ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرتے اور نہ ہی قتل کرتےتھےَ”(17)

2۔اگر کسی غیر مسلم ملک کا سفیر دار اسلام میں سفیر بن کر آجائے اور اس کے پاس تجارت کا سامان نہ ہو تو ایسے سفیر سے کسی قسم کا ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔

3۔ آپﷺ سفراء کو انعامات و کرام  سے نوازا کرتے تھے۔

صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ:” قاصدوں کو اس طرح انعام دینا جس طرح میں دیتا تھا۔” (18)

مکتوبات نبویﷺ

نبیﷺرسول انسانیت ہیں آپ کی دعوت و نبوت پوری نسل انسانی ہر فرد،ہر قوم اور ہر ملک کے لئے ہے۔آپﷺ نے نبوت کے مرتبے پر فائز ہونے کے بعد جو سب سے پہلا خطاب کیا  وہ یا ایھاالناس کے عنوان سے تھا آپﷺ نے یا ایھا القریش یا یا ایھا العرب نہیں بولا کیونکہ آپﷺ پوری انسانیت سے مخاطب تھے۔اس لئے آپﷺ نے دوسری حکومتوں سرداروں، ریاستوں اور بادشاہوں کو جو خطوط لکھے ان میں سب سے زیادہ اہمیت اور اولیت اسلام کی دعوت و تبلیغ کو حاصل تھی۔ آپﷺ نے سینکڑوں خطوط لکھے جن میں سے ہمیں کچھ ہی خطوط کی   تفصیل ملتی ہے۔ آپﷺ نے جن 6 مشہور بادشاہوں کو خط  بھیجے ان کے نام ہیں: حبشہ کا بادشاہ نجاشی،فارس  کا بادشاہ کسرہ، مصر کا بادشاہ مقوقسن، قیصر و روم کا بادشاہ ہرقل، بحرین کا بادشاہ منذر بنسادی اور دمشق کا بادشاہ حاکم بن ابی شمر۔ میں یہاں صرف دو خطوط کی تفصیل بیان کروں گا۔ ایک خط خط شاہ مصر مقوقس کے نام اور دوسرا خیبر میں یہود کے سرداروں کے نام۔

یہود خیبر کے نام مکتوب گرامی

رسولﷺ نے جو مکتوب گرامی خیبر کے یہود کے سرداروں کے نام روانہ کیے  تھے وہ کچھ یوں تھے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔من محمد رسول اللہ صآحب موسی واخیہ والمصدق  لما جاء بہ موسی الان اللہ عزوجل قال لکم یا معشیھود اھل التوراۃ وانکم تجدون ذلک فی کتابکم ان محمد رسول اللہ معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم الی آخر السورۃ و انی انشد کم باللہ او بالذی انزل علیکم و انشد کم باللہ او بالذی انزل علیکم و انشس کم بالذی اطعم من کان قبلکم من اسباطکم المن و السلوی و انشد کم بالذی ایس البحر لابائکم حتی کم من فرعون و عملہ الا آخبر تمونا گل تجدون فیما انزل اللہ علیکم ان تومنوا بحمد فان کنتم لا تجدون فی ذالک فی کتابکم فلا کرہ لکم علیکم قد تبین الرشد من الغی وادعو کم الی اللہ و الی نبیہﷺ۔”(19)

“محمد رسول اللہ کی جانب سے جو نبوت و رسالت میں موسی علیہ سلام کی طرح ہیں۔ اے اہل تورات کیا اللہ نے تورات میں یہ نہیں کہا کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔وہ اللہ کے سانے جھکنے والے ہونگے اور اللہ کے فظل اقر خوشنودی کے کے طلبگار ہوں گے۔میں تمہیں اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے تمہارے لئے تورات نازل کی  اور جس نے تمہارے بزرگوں کو من و سلوی کھلایا اور سمندر کو  ان کے لئے خشک کرکے فرعون کے ظلم سے نجات دلائی  ۔ کیا میری نسبت تورات کی اس تصریح کے بعد کیا ہدایت اور گمراہی واضح نہیں ہوجاتی؟ پس میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف تمہیں دعوت دیتا ہوں۔”

حاکم مصر مقوقس کے نام مکتوب گرامی

مصر کے بادشاہ حاکم کو خط بھیجنے کے لئے آپﷺ نے حضرت حاطب بن ابی بلتہ کو روانہ کیا،اس میں لکھا کہ:

بسم اللہ الرحٰمن الرحیم۔من محمد عبداللہ و رسولہ الی المقوقس عظیم القبط،سلام علی من اتبع الھدی۔اما بعد فانی ادوک بدعایۃ الاسلام۔ اسلم تسلم واسلم یوتک اللہ اجرک مرتین۔ فان تولیت فعلیک اثم اھل القبط ویا اھل الکتاب تعالو الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم الا نعبدوا الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا۔ ولا تنخذ بعضا اربابا من دون اللہ فان تولو فقولوا اشھدوا بانا مسلمون۔”(20)

“میں آپ کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں ، پس اگر سلامتی منظور ہو تو اسلام قبول کرلیجیے، اگر آپ نے اسلام قبول کرلیا تو اللہ آپ کو دوہرا اجر عطا فرمائے گا اورا گر آپ نے انکار کیا تو سارے اہل قحط کا گناہ بھی آپ پر ہوگا۔’اے اہل کتاب! ایک ایسی بات تسلیم کرو جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں طور پر مسلم ہیں ۔ وہ یہ کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں۔ اور اس کے علاوہ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور اگر تمہیں   اس بات سے اختلاف ہے تو تمہیں معلوم رہنا چاہیے کہ ہم بہرحال خدا کی یکتائی کا عقیدہ رکھتے ہیں۔”

مقوقس نے اس خط کو پڑھ کر عزت و عقیدت کے ساتھ محفوظ جگہ پر رکھ دیا اور حضورﷺ کے لئے خط لکھوایا اور  تحائف روانہ کیے۔

حرف آخر

اسلام عدل و انصاف کے فلسفے پر مبنی ہے۔ اور اس فلسفے کی بہترین مثال فتح مکہ ہے۔چونکہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام اپنے فلسفے پر غالب تھا لیکن پھر بھی اسلام نے اپنے جانی دشمنوں کو معاف کردیا، ان سے انتقام نہیں لیا اور ان کی جان بخش دی۔اور پھر انہی طاقتوں نے اسلام کے لئے وہ اعلیٰ  خدمات سرانجام دیں کہ محقق اس کو پڑھ  کر آج بھی رشک کرتے ہیں۔اور یہی وہ اصول ہیں جن پر آپﷺ نے کاربند رہتے ہوئے دنیا کی دیگر اقوام و ریاستوں کے ساتھ تعلقات قائم کیے اور آنے  والی نسلوں کو بھی بہترین ہدایات جاری فرمائیں۔

اسلام صرف اپنے پیغمبر کو اس کا حکم نہیں دیتا کہ   عدل و انصاف،تعاون،رواداری کے اصولوں پر تعلقات قائم کیے جائیں بلکہ روح زمین پر موجود ہر فرد کو اس کی تعلیم دیتا ہے کہ اگر دنیا کی اقوام انہی اصولوں پر اپنی خارجہ پالیسی مرتب کریں تو اس بات میں کوئی  شک نہیں کہ معاشرہ راحت و سکون، امن و امان کا گہوارہ بن جائے۔

آپﷺ کی قائدانہ و سیاسی بصیرت سے وہ انقلاب رونما ہوا جس کے اثرات آج بھی دیکھے اور سنے جاتے ہیں۔جس کا اعتراف تاریخ عالم کے حقیقت پسند غیر مسلم مورخین کو بھی ہے۔ امریکی مصنف مائیکل ایچ ہارٹ(Michael Hart H.) لکھتے ہیں:

“My choice of to lead the list of the world’s most influential persons may surprise some readers and may be questioned by others, but he was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels. Of humble origins, Muhammad founded and promulgated one of the, world great, religions, and become immensely effective  leader. Today, thirteen centuries after his death, his influence is still powerful and pervasive.”(21)

“محمدﷺ کو دنیا کی سب سے ذی اثر شخصیت رکھنے کا میرا انتخاب  کچھ لوگوں کے لئے حیران کُن ثابت ہوسکتا ہے اور کچھ لوگوں کے لئے قابل اعتراض بھی ہوسکتا ہے۔لیکن محمدﷺ ہی وہ واحد شخصیت ہیں جنوں نے اعلیٰ  کامیابی حاصل کی ،دینی اور دنیاوی دونوں سطحوں  پر۔ ایک انتہائی  متوسطہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے محمدﷺ نے نہ  صرف ایک عظیم مذہب کی بنیاد رکھی۔بلکہ اسکی اشاعت بھی کی۔ وہ دنیا کے سب سے موئثر  راہ نما بن گئے۔ آج ان کی وفات  کی   تیرہ  صدیوں بعد بھی ان کا اثر   پائیدار اور  جاری و ساری ہے۔”

حوالاجات

1۔المھیری،سعید عبداللہ ،العلاقات الخاجیہ لدولۃ اسلامیہ،ص،24ِمحولہ بالا۔

2.Francel Joseph prof “The making of foreign policy, London,1963

3۔ڈاکڑ،حسین بانو،رسولﷺ کی سفارت کاری اور خارجہ پولیسی، ص140،141، ،راحیل پبلی کیشن، کراچی،پاکستان ستمبر،2018، ۔

4۔الویس المعلوف،المنجد،لفظ،العہد،ص850،محولہ بالا۔

5۔اصفہانی،راغب ،حسین بن علی،مفردات القرآن،ص356،نورمحمداصح المطابع،کراچی،س،ن

6۔علی بن برہان الدین الحلبی،سیرتالحلبیہ،ج2،ص132،مصطفی البابی،مصر،1349ھ

7۔ایصا،ص234

8۔ مودودی،سید ابو الاعکی،تفہیم القرآن،ج5،ص41،محولہ بالہ،

9۔ابن کثیر، اسماعیلابن عمر،البدایہ والنہایہ،ج4۔ص127،المطبعہالسلفیہ،مصر،1351ھ

10۔ ابن ہشام،السیرۃ النبویہ،ج3،ص325،محوبالہ

11۔افریقی،ابن منظور،لسان العرب،(ذ،س) سفر،ج 20،50،دار المعارف،س،ن

12۔ایضا

13۔ الزبیدی،الحسینی،سید محمد مرتضی،تاج العروس، من جواہر القاموس،ج12،ص 41،مطبعۃ الحسینیہالمصریۃ،1344ح

13.The illustrated dictionary. (Ambassador)Oxford university press.p.45

14۔ابن ہشام،السیرۃ النبویہ،ج1،ص 360359،محولہ بالا

15۔الواقدمی،محمد بن سعد،الطبقات الکبری،ج،4۔ص،38،مطبع برسل،لندن،1422ھ

16۔الحلبی،،علی بن برہان الدین،السیرۃ الحلبیہ ،ج2،ص،169،موسئسہ الرسالہ،بعروت،1989ھ

17۔ابن قیم،محمد بن ابی بکر، زاد لامعادفی ھدیخیر العباد،ج،3،ص138،139،محولہ بالہ۔

18۔البخاری ،محمد بن اسماعیل، صحیح بخاری، کتاب الجہاد والسیر،باب جوائز الوفد،ج،1،ص،169،دارالاشاعت،کراچی،1958ء

19۔قادری، ابوالبرکات،عبدالرؤف ،اصح السیرخیرالبشرﷺ،ص26،27،ستار ھند،کلکتہ،1348ھ

20۔شمس الدین محمد بن علی  طولون الدمشقی ،اعلام،السائلین عن کتب سید المرسلین ،ص،19،مکتنہ القدسی البدین،دمشق،1348ھ۔

21.(Michael H.Hart/”The 100” new York. 1978)

Musharaf asad
Musharaf asad
جامعہ کراچی,شعبہ علوم اسلامیہ کا ایک طالب علم