• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بسنت کا ہندوانہ تہواراوراس کا نظرانداز پہلو/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

بسنت کا ہندوانہ تہواراوراس کا نظرانداز پہلو/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

گزشتہ دنوں بسنت اپنے کرو فر کے ساتھ پنجاب کی تاریخی نگری لاہور میں آئی اور تین دنوں کی ہنگامہ خیزی کے بعد اس سرد موسم میں شائقین کے دلوں کوگرماتی، اپنے وجوب کی بحث کو تشنہ کامل چھوڑتی، تین تاریخوں کی رنگ و روشنی کی گزر گاہوں سے گزرتی ہوئی، اگلے برس پھرآنے کا وعدہ کرتی خیر آباد کہہ گئی۔ لاہور والوں کی خوشیوں کا کیا ٹھکانا تھا، بسنت کو دل و جان سے منانا تھا، آمد جشن بہارمنا نے اور مال و زر کو فضولیات میں بہانے کا بہانہ تھا، گڈیاں اور پتنگیں اڑانے والوں کا یہ حال کہ ہوگۓ نہال۔ بسنت کی بیس سال بعد آمد کا والہانہ استقبال ہوا اور پرائی ثقافت کے پژمردہ گلوں میں رنگ بھرگئے۔ دلوں میں امڈتے جوش و جذبے ایسے ہوئےکہ اپنوں کو ہی کرگۓ دنگ، وقت نے لی انگڑائی، پوری ہونے لگیں امنگ۔ کھلکھلاتی خوشیوں کے گیت، اور اپنی جانب کھینچتی ثقافت کے راگوں کے نئے ترنگ۔ دن میں سورج کی روشنی میں ہجوم بے کراں کا جوش جذبہ اور موسیقی کے جلترنگ، رات بھر آسمان کے اندھیروں کی چادر پر ٹکے چاند تاروں اور روشنیوں کی قوس و قزاح میں اڑتی ہزارہا پتنگ۔ شوقین دوستوں کی کوٹھوں پہ چڑھی دوستیاں اور ملن و میت، جوانوں کی مستیاں اور گھر والوں کی ضیافتوں کی ریت۔ آنگنوں، چوباروں اور چھتوں پر ساتھ دیتی بالیاں بجاتی ہوئی تالیاں، سکھیوں سمیت۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ ایسا موقع باربارنہیں آتا، کھیلو، ہنسو، مسکراؤ، بہار آئی ہے اس کے مزے اٹھاؤ۔ حسرتوں کے مارے بڑے بڑے معروف ٹی وی اینکروں اور معروف تجزیہ کاروں نے بسنت کو اپنی ثقافت قرار دینے، بسنت کے پر جوش لمحات سے لطف اندوز ہونے، بسنت کے میلوں سے کاروباری منفعت پانے، ملکی معیشت کے لئے نیک فال سمجھنے اور لوگوں کو دیوانہ وار شرکت کی دعوت دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ یوں لگا جیسے وہ عشق بسنت میں اندھیری دیواروں پہ دیوداسیوں کے لئے دیوے جلا رہے ہوں۔ بسنت منانی تھی تو جواز ہزاروں تھے۔ حکومت پنجاب جو صوبے میں بہتر کارکردگی کے چوکے چھکے مار کر نیک نامی کما رہی تھی، ترقی و شہری سہولیات کی فراہمی سے لوگوں کے دل جیت رہی تھی، ایک پنتھ دو کاج کرنے کو لوگوں کے موڈ کے آگے سر نگوں ہو گئی۔ اس کو اچانک کیا سوجھی کہ تین دن کے لئے بسنت منانے کا اعلان کردیا۔ بقول کسے یہ آٹھ تاریخ کے احتجاج کو ناکام بنانے کی ایک چال بھی تھی۔
اسے لاہور کی ثقافت کا نام دے دیا گیا۔ بس پھر کیا تھا، اہل شوق کے دلوں میں لڈو پھوٹنے لگے۔ ایک ایسے ہمسائے ملک کے ہندوانہ تہوار کو اپنی ثقافت کہنے والوں نے بسنت کے حق میں آوازیں بلند کرنا شروع کردیں۔ ان کے مطابق مدتوں سے تکالیف و پریشانیاں جھیلتے لوگوں کو اپنی مایوسیوں کے اندھیروں سے نکلنے کے لئے اس سے اچھا موقع نہیں ہو سکتا تھا کہ اس بے نسبت بسنت کی تقریبات سے خوب فائدہ اٹھایا جاۓ۔
بسنت منانے والوں کے مقابلے میں بسنت کو ناجائز سمجھنے والوں کا کہنا ہے کہ بسنت تہوار کو منانے کے لئے جو بہانہ گھڑا گیا تھا، کہ اسکے منانے سے لوگوں کے مرجھاۓ ہوۓ چہرے مسکرا اٹھیں گے، سیر و تفریح اور ہلے گلے کے مواقع میسر آئیں گے اورخوشیوں سے محروم، تھکے تھکے اور کمہلاۓ ہوئے چہرے مسرتوں سے تمتما اٹھیں گے۔ بظاہر یہ باتیں محض بہانے ہیں۔ وگرنہ ملک بھر میں لوگوں کی خوشیوں کے وافر مواقع موجود ہیں۔ ہمارے کھیلوں کے میدانوں میں قومی کرکٹ کے کھلاڑی اپنی بلے بازی سے شائقین کو ڈھیروں تفریح فراہم کرتے ہیں۔ سردیوں کی برفباری میں لوگ مری اور شمالی علاقوں کا رخ کرتے اور قدرتی نظاروں کے سحر سےبھر پور لطف اٹھاتے ہیں۔ ہمارے عیدین کے روح پرور مناظر، روحانی اور تہذیبی حظ اٹھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ہمارے یہاں شادی بیاہ کے مواقع پر متعلقہ خاندانوں کے گھروں میں ہی نہیں دلوں میں بھی خوشیوں کے چراغ جلتے ہیں۔ ہماری قومی تقریبات جن میں یوم آزادی اور تیئس مارچ کی روح پرورتقریبات ہوتی ہیں، جن میں شاندار فوجی پریڈ اور چاروں صوبوں کے ثقافتی فلوٹس دلوں کو گرماتے گزرتے ہیں۔ تئیس مارچ کو عمارتوں اور شاہراہوں کوقمقموں سےخوبصورتی کے ساتھ سجایا جاتا ہے۔ راتوں کو ایسا چراغاں کیا جاتا ہے کہ پورا ملک جگمگ کر اٹھتا ہے اور پوری قوم روشنیوں کو دیکھنے کے لئے آمد آتی ہے۔ کون کہتا ہے کہ لوگ خوشیوں اور لطف و تفریح کے ترسے ہوئے ہیں۔ ابھی بھی یہ تمام خوشیاں ادھوری لگتی ہیں تو گاہے بگاہے کلچرل شو کیئے جاسکتے ہیں۔ نمائشوں کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔ وقتاً فوقتاً ہارس اینڈ کیٹل شو اور کبڈی کے مقابلے کرواۓ جا سکتے ہیں۔ مختلف مواقع پر سرکسوں کا اہتمام کیا جاسکتا ہے، جنہیں دیکھنے کے لئے بچے اور بڑے سب کھنچے چلے آتے ہیں۔ لاہور کے سرسبز و شاداب پارکس، شالا مار باغ، فاطمہ جناح پارک، شاہی قلعہ اور شیش محل کو دیکھنے والوں کا ہجوم بیکراں سیر و تفریح کو دیوانہ وار چلا آتا ہے، ہفتہ وار چھٹیوں میں ہمارے چڑیا گھروں میں بچوں کو لیکر آنے والوں کی قطاریں ٹکٹ کٹاؤ لائن بناؤ کا سونگ گاتے ہوۓ بچوں کی خوشیوں میں اضافہ کر رہی ہوتی ہیں۔ اور کیا چاہئے خوش ہونے کو۔ لاہور کی فوڈ اسٹریٹس میں پسندیدہ کھانوں سے محظوظ ہونا از خود بڑی تفریح ہے۔ لہذا بسنت منانے کے حق میں یہ دلیل تو اللہ کی نعمتوں کی نا شکری محسوس ہوتی ہے۔ ہے۔ ساحل سمندر پہ جائیں یا ہری بھری وادیوں کا سیر سپاٹا کریں، سیر بینوں کے دلوں میں طویل عرصے تک محفوظ رہنے والے نقوش اور تصویریں دوبارہ وہاں جانے پر مجبور کرتے ہیں۔
اب آئیے بسنت تہوار کی مذہبی نوعیت پہ۔ یہ خالصتاً ہندوانہ تہوار ہے۔ جس کی شہرت ہندوانہ رسم ورواج پرمبنی ہے۔ ہم ایسے ملک سے مطابقت رکھنے والے اس فضول فیسٹیول کو اپنا کر اپنے ساتھ زیادتی کے مرتکب ہو رہے ہیں، وہ
ملک ہمارا اور ہمارے وطن کا ازلی دشمن ہے۔ ٹی وی کے تمام اینکر پرسنز اور تجزیہ کار جو صبح شام بھارت کی نسل پرستی, تعصب ، پاکستان دشمنی، اور ہمارے ملک کو خدانخواستہ توڑنے کی سازش کو ہدف تنقید بناتے ہیں اور بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی کروانے میں ملوث قرار دیتے ہیں، وہ کیوں اس فضول اور نقصان دہ تہوار کو جوش و خروش سے منانے کو بے چین ہوۓ جا رہے ہیں۔ سوچئے کہ بات ہے۔
ایک نقطہ نظر مذہبی حوالے سے بھی ہے۔ کراچی کے ایک معروف مدرسے کے دارا لافتاء کو ایک سوال بھیجا گیا کہ کیا بسنت میں پتنگ بازی، پتنگ اڑانا اور پتنگ لوٹنا جائز ہے؟ جواب میں دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ، علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن، کراچی نے جواباً کہا ہے کہ ” پتنگ بازی میں پیسوں اور وقت کا ضیاع ہے اور مختلف مواقع پر کئی انسانی جانوں کے ضیاع کی نوبت بھی آ چکی ہے۔ نیز بسنت ہندوانہ رسم ہے، لہذا پتنگ بازی اور بسنت منانا جائز نہیں ہے اور پتنگ پکڑنا بھی جائز نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ بسنت کے تہوار منانے کے حق میں ایسا لگتا ہے کہ اس میں جذباتیت کا غلبہ رہا اور اس کی تاریخی نسبت اور اخلاقی و مذہبی پہلو کو بہت بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply