گلگت بلتستان مسلہ کشمیر سے منسلک پاکستان کے زیر انتظام متنازعہ خطہ ہے۔ اس خطے کا مملکت پاکستان کے ساتھ قانونی رشتہ معاہدہ کراچی اٹھائیس اپریل 1949 کی بنیاد پر ہے جو اُس کے کشمیری رہنماوں اور حکومت پاکستان کے درمیان طے پایا تھا۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق یہ خطہ آج بھی سابق ریاست جموں کشمیر کی اکائی ہے۔ ریاست پاکستان کا بھی بین الاقوامی فورمز میں یہی بیانیہ ہے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 257 اور سپریم کورٹ آف پاکستان کا گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے تین اہم فیصلوں میں بھی یہی کہا گیا ہے۔ لیکن گلگت بلتستان کے لوگوں کا خیال ہے اور ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس خطے نے یکم نومبر 1947 کو سابق ریاست سے آزادی حاصل کرکے جمہوریہ گلگت کے نام پر اپنی الگ حکومت قائم کی تھی، جو برقرار نہیں رکھ سکے اور 16 نومبر کو ایک نئی سمت کی طرف کی طرف چل پڑا اور یہ خطہ ایک تحصیلدار کے ماتحت چلا گیا،ایک غیر مقامی پشتون تحصیلدار کو گلگت کے مقامی راجاؤں نے اس پورے علاقے کی چابی تھما دی اور اس نے ایف سی آر کا کالا قانون نافذ کرکے بیوروکریسی راج کی شروعات کی۔ آج کی تاریخ میں گلگت بلتستان کے باشندے پاکستانی شہری ہیں کہلاتے ہیں قومی شناختی کارڈ رکھتے ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں، فوج میں خدمات انجام دیتے ہیں، مگر آئینی طور پر یہ اب تک پاکستان کا مکمل حصہ نہیں بن سکا۔ یہی وجہ ہے کہ قومی اسمبلی سینٹ میں اس علاقے کو نمائندگی حاصل نہیں اور نہ ووٹ کا حق حاصل ہے، اسی طرح نیشل فانس کمیشن (این ایف سی) میں بھی شامل نہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں وسائل جس کے بارے سابق وزیر اعظم عمران خان سے لیکر شہباز شریف سمیت کئی وزراء میڈیا کہہ چکے ہیں کہ اس خطے کی وسائل کو بروئے کار لایا تو پاکستان کا قرضہ اتر سکتا ہے، پورے ملک میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔لیکن المیہ یہ ہے اسلام آباد کا گلگت بلتستان کے حوالے سے غیر واضح ناپائیدار پالیسی کی وجہ سے خطے میں شدید تشویش پایا جاتا ہے خاص طور نوجوان نسل میں یہ سوال اب شدت اختیار کرگیا ہے۔ کیونکہ اس خطے میں اسمبلی تو ہے لیکن اس اسمبلی کے ممبران متعدد بار میڈیا پر جاری بیانات کے مطابق اختیارات اور فیصلہ سازی کا منبع بیوروکریسی ہے جو وفاق کی منشاء کے مطابق فیصلہ سازی کرتے ہیں۔ یعنی خطے میں جمہوریت صرف کاغذی سطح پر تو موجود ہے، لیکن عملی طور پر اس کی شکل و صورت ہمیشہ سے متنازع رہی ہے۔ انتخابی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ 1969 سے شروع ہوتی ہے جب جنرل ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کے نام سے نظام متعارف کرایا جس کے تحت پہلی مشاورتی کونسل وجود میں آئی جو بارہ مقامی راجاوں پر مشتمل تھا۔ اور اس نظام کے تحت دسمبر 1970 میں پہلے انتخابات ہوئے جن میں گلگت اور سکردو ایجنسیوں کے لیے 14 نشستیں تھیں (8 گلگت، 6 سکردو)، جبکہ 7 نشستیں حکومت نامزد کرتی تھی اور پولیٹیکل ایجنٹ/کمشنر چیئرمین ہوتا تھا۔ یعنی تمام تر اختیارات وفاق کے پاس تھا۔ اسی طرح ضیاء الحق کے آمرانہ دور (1983 اور 1987) میں بھی یہاں انتخاب ہوتے رہے اور 1987 میں خواتین کے لیے دو نشستیں مختص کی گئیں اور کل اراکین 18 ہو گئے۔ مگر طاقت کا مرکز کمشنر ہی رہا۔ اور عوامی ووٹوں سے اقتدار حاصل کرنے والے سرکاری ٹھیکوں اور ملازمت کی بندر بانٹ میں مست رہے۔ پاکستان میں ضیاء الحق آمرانہ نظام کا سورج غروب ہونے کے ساتھ گلگت بلتستان میں جمہوری نظام کی نفاذ کا سلسلہ شروع ہوئے اور 1994 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت نے پارٹی بنیاد پر الیکشن کا اعلان کرکے قانون ساز اسمبلی کی نشستیں 24 تک بڑھائیں اور پہلی بار پارٹی بنیاد پر انتخابات کرائے گئے۔ لیکن بدقسمتی سے اس الیکشن کو مذہبی بنیاد پر کیش کرایا گیا اور تحریک جعفریہ پاکستان نے مکمل پانچواں آئینی صوبہ کی منشور کے ساتھ الیکشن میں بھرپور حصہ لیا۔ جو کہ ایک فریبی نعرہ تھا۔ یوں اس الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک جعفریہ کی مخلوط حکومت خطے کی شناخت کو مسلہ حل کرنے میں ناکام ہوئے البتہ مذہبی سیاست کی وجہ سے پاکستان کے مذہبی انتہا پسند جماعت کو دیوبندی چھتری کا سہارا لیکر گلگت بلتستان میں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کا بھرپور موقع ملا جس کی وجہ سے جس طرح کے انسانیت سوز واقعات پیش آئے تاریخ شاہد ہے دیامر میں دہشت گردی کے واقعات آج بھی رونما ہوتے ہیں۔ اب اگر جنرل پرویز مشرف کے دور کی بات کریں تو انہوں نے بھی گلگت بلتستان میں اصلاحات کے نام پیکج میں ردوبدل کرتے ہوئے 2000 سنہ میں خواتین کی نشست 5 کردی اور قانون ساز اسمبلی میں اسپیکر کا عہدہ متعارف کرکے اسمبلی کو شمالی علاقہ جات قانون ساز اسمبلی کا نام دیا اور داخلی معاملات میں غالباً 48 سبجیکٹ قانون سازی کا اختیار دیا، عوامی سطح ان کے دور حکومت کے حوالے سے مثبت رائے پایا جاتا ہے کہ جہاں عوامی مسائل کی حل کیلئے بلدیاتی الیکشن کے زریعے اچھے کام ہوئے وہیں گلگت بلتستان کی ترقی اور تعمیر کا بھی ایک گراف دوسروں سے بہتر ثابت ہوئے۔ اب اگر مشہور زمانہ آرڈننس 2009 کا احوال مزید دلچسپ ہے۔ سنیئر صحافی حامد میر نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو اپنے دور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو مکمل طور پاکستان میں شامل کرنے کی خواہش رکھتے تھے، انہوں اس وقت کے قوم پرست رہنما مرحوم امان اللہ خان صاحب کو قائل کرنے کوشش کی تو امان اللہ خان صاحب نے جواب دیا آپ مسلہ کشمیر کا کیا کریں گے۔یوں بھٹو خاموش ہوگیا۔ لیکن جب بھٹو کے داماد صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان آرڈنینس 2009 کا اعلان کیا تو عوامی سطح پر یہ شوشا پھیل گیا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا گیا لیکن ایسا نہیں تھا البتہ پہلی بار شمالی علاقہ جات جو ایک ڈائریکشن کا نام تھا جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے شورش زدہ علاقوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کو بھی اس خطے سے جوڑا جاتا تھا، گلگت بلتستان کا نام دیکر صدر زرداری نے خطے کی منجمد شناخت کو ضرور بحال کیا۔ لیکن سیاسی معاشی حقوق نہیں ملے۔اس آرڈننس کے تحت گلگت بلتستان کونسل معرضِ وجود میں آیا جس کی حیثیت بلواسطہ گلگت بلتستان سینٹ کی ہے، یعنی صدر زرداری نے گلگت بلتستان کیلئے نام تبدیل کرکے آذاد کشمیر طرز کا نظام دیا جس میں معاشی مالی اور فیصلہ سازی کے اختیارات شامل نہیں اور نہ ہی اس پیکچ کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ اس صدراتی آرڈننس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے اور پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان رہنما سید مہدی وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ اسی طرح سال 2015 میں چونکہ وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اور گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن نے حکومت بنایا اور حافظ حفیظ الرحمن دوسرے وزیر اعلیٰ کے طور فائز ہوئے اور تیسری بار اسلام آباد میں تحریک انصاف کی حکومت بنی تو انہوں نے میدان مار لیا اور تحریک انصاف کے رہنما خالد خورشید وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔اسلام آباد میں رجیم چینج کے بعد گلگت بلتستان اس کا شکار بنے لیکن حکومت برقرار رہے اور اس حکومت نے وہ تمام کام انجام دئے جو گلگت بلتستان کی تاریخ کا سیاہ باب کے طور پر لکھا جائے گا۔
چوبیس اکتوبر 2025 کو اس حکومت کا بھی خاتمہ ہوگیا اور نئے الیکشن کے لئے 24 جنوری 2026 کا اعلان تو ہوگیا لیکن شدید طرف باری اور سردیوں کے باعث موخر کرنا پڑا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی تاریخ کا کب اعلان کرتے ہیں۔ لیکن ان تمام تجربات کے باوجود مسلہ کشمیر کے تناظر میں گلگت بلتستان کے حوالے سے اقوام متحدہ کے اس قرارداد پر اسلام آباد آج بھی عمل درآمد کرنے سے قاصر ہے جس پر وہ باقاعدہ دستخط کار ہیں۔ اقوام متحدہ کے قرارداد 13 اگست 1948 میں کہا گیا تھا کہ مسلہ کشمیر کی حل کیلئے استصواب رائے ہونا ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ ہندوستان اور پاکستان اپنے زیر انتظام علاقوں میں لوکل اتھارٹی گورنمنٹ کو یقینی بنائیں، یعنی مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے گلگت بلتستان میں بلکل اسی طرح کا نظام حکومت قائم ہونا چاہیے تھا جو آج آذاد کشمیر کے پاس ہے اور 5 اگست 2019 سے پہلے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں تھے جس کی مودی نے خلاف ورزی کی۔ اگر مسلہ کشمیر کی بات کریں تو گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے مسلہ کشمیر کی اصل کنجی ہے، اس وقت مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت کے پیچھے امریکہ کا عملی طور گلگت بلتستان تک رسائی کی حکمت عملی بھی شامل ہیں ہے تاکہ چین جو تیزی سے عالمی طاقت بن کر ابھر رہا ہے جسے روکنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں مسلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی ہورہا ہے جسے روکنے کیلئے ریاست کو کردار ادا کرنا ہوگا اور گلگت بلتستان کی 77 سالہ سیاسی معاشی محرومیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔ جس کیلئے ضروری ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کو آئین ساز اسمبلی بنا کر اس خطے کے وسائل پر یہاں کے لوگوں کو بااختیار بنائیں اور مسلہ کشمیر کی حل کیلئے گلگت بلتستان کو ایک مثال بنا کر دنیا کے سامنے نریندر مودی کی فاشزم کو بے نقاب کریں ورنہ پیکچ کی تبدیلی سے نہ مسلہ کشمیر حل ہوگا نہ گلگت بلتستان کے مسائل حل ہونگے البتہ محرومیوں میں مزید اضافہ ہوگا جو کسی بھی وقت لاؤا بن کر پھٹ سکتا ہے۔ کیونکہ گلگت بلتستان کی نئی نسل میں سیاسی سماجی اور معاشی محرومیاں باقاعدہ ایک بیانیہ بن چکا ہے جس کا اِزالہ کرنا ہوگا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں