ایران ایک دیدہ زیب مثال/ اقتدار جاوید

ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ اس دنیا میں خلافتِ راشدہ تیس سال قائم رہی اور اس کی پیروی اور سنت میں ایران نے بھی یہ مدت آسانی سے پوری کر لی ہے۔ہمارا استدلال یہ تھا کہ ایران کو اپنی گوورننس اسلام کی روح کے مطابق دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملا تھا جسے وہ پوری طرح دکھا بھی نہیں سکا اور اپنے خیر خواہوں کو بھی مطمئن نہیں کر سکا۔ایران میں اسلامی انقلاب ہمارے سامنے آیا اور اب ہمارے سامنے ہی وہ اپنی زندگی کے مشکل ترین مرحلے سے گزر رہا ہے۔ویسے یہ اس کی پہلی آزمائش نہیں اس سے قبل بھی وہ انتہائی مشکل حالات میں اپنی بقا کا ثبوت دیتا آیا ہے۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے کہے کا اعتبار کرنا مشکل ہوتا ہے اس لیے نہیں کہ وہ غلط کہہ رہے ہوتے ہیں بلکہ اس لیے وہ تضاد کا شکار ہوتے ہیں۔خود ایک سسٹم سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اور عمر بھر پر تعیش زندگی گزارتے ہیں مگر ان کے اقوال اسی سسٹم کے خلاف ہوتے ہیں۔ایسے ہی ایک سرکردہ آدمی مرزا اسلم بیگ ہیں جو آج کل اللہ اللہ کر رہے ہیں اور وقت کی نزاکت کو پہچان کر اللہ میاں کی گائے کی طرح چپ ہیں۔ان کا عشروں پرانا کہا اب بھی یاد آتا ہے تو اس کی صداقت پر یقین سا آتا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ عراق کے بعد مغرب کا اگلا نشانہ ایران اور اس کے بعد ہماری باری ہو گی۔موجودہ صورت احوال ان کے کہے کی گواہی دے رہی ہے۔پورا مغرب اس وقت ایران کو بلقانستان بنانے کی بات کر رہا ہے اور اس کے چار ممکنہ تقسیم شدہ حصوں کی گردان کر رہا ہے۔کبھی کہا جاتا ہے کہ ایران دو یا تین حصوں میں ٹوٹ یا بٹ سکتا ہے ایک فارس مرکزی علاقہ، دوسرا کرد خودمختار شمال مغرب اور تیسرا بلوچ جو جنوب مشرق میں واقع ہے۔
ایران کئی نسلوں پر مشتمل ملک ہے۔اس میں ساٹھ فیصد فارسی لوگ ہیں اور دیگر آذری، کرد، عرب، بلوچ اور ترکمانی ہیں۔اس کا مطلب ہے جس طرح عثمانی دور حکومت میں جنوبی یورپ میں اس سے الگ ہو کر کئی ریاستیں وجود میں آئیں جن میں یونان، سربیا، مونٹی نیگرو، بلغاریہ اور رومانیہ شامل ہیں۔
یہ بیسویں صدی کی پہلی قسط تھی۔دوسری قسط کی بالکنائزئشںن میں یوگو سلاویہ سے الگ ہونے والے کئی حصے ہیں جن میں سلووینیا،کروشیا،شمالی مقدونیہ اور کوسوو شامل ہیں۔آج بلقان خطے کی اہم ریاستیں یہ ہیں البانیہ، بلغاریہ، بوسنیا و ہرزیگووینا، کروشیا، یونان، کوسوو، شمالی مقدونیہ، مونٹی نیگرو، رومانیہ، سربیا، سلووینیا اور جزوی طور پر ترکی کا یورپی حصہ ہیں۔ مغرب سے یہ تکلیف بھی نہیں دیکھی جاتی کہ آدھا یورپ تو عثمانیوں کے زیرِ اثر تھا۔ برِصغیر پر ایک ہزار سال سے مسلمان حکمرانی کر رہے تھے سینٹرل ایسشیا ان کے زیرِ نگین تھا یہی وجہ ہے کہ مغرب نے جس طرح برائے نام خلافت کو ختم کر کے الگ الگ ملک بنوا دیے اور ان پر خود قابض ہو گئے یہی کچھ وہ ایران کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یو ایس ایس آر کو بھی حصوں بخروں میں تقسیم کیا اور اس کی قوت کو پارہ پارہ کر دیا۔
ایران اس وقت جس گھمن گھیری میں پھنسا ہوا ہے اس سے نکلنا اس کا امتحان بھی ہے اور وقت بھی۔ایران کے حکمرانوں کی اصل طاقت ان کی نہ بکنے والی صلاحیت میں ہے۔ان پر کرپشن کے چارجز ہیں مگر یہ سب ہوائی باتیں ہیں۔ولائیت فقیہ اس وقت بھی تہران کی ایک عام گلی میں رہتے ہیں۔خامنہ ای کا کہنا ہے کہ نظام صحت مند ہے، کرپشن ایک سات سر والا ڈریگن ہے لیکن نظام میں نہیں۔جس سادہ سے گھر میں وہ رہتے ہیں جو فلسطین سٹریٹ تہران میں واقع ہے جو حسب روایت ایک امام بارگاہ یا مسجد سے متصل ہے۔ان کی زندگی زاہدانہ اور بے نیاز ہے۔بہت سے ویڈیوز اور تصاویر میں وہ سادہ لباس میں نظر آتے ہیں۔ان پر دو سو ارب ڈالر کے اثاثہ جات کے الزامات ہیں مگر وہ ایک سرکاری تنظیم کے نام پر ہیں۔ان کے بیٹے مجتبٰی پر بھی الزامات ہیں مگر ان کے اثاثے بیرون ملک بینک یا اندون ملک کسی بینک میں نہیں ہیں۔
ان کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ دشمن ممالک جو ایران کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تلے ہوئے ہیں اسے ایک اسلامی نظام حکومت تسلیم کرتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ایران کے موجودہ نظام کو اسلامی نظام کہنا بالکل درست ہے۔ اور یہ اس کا آئینی اور سرکاری نام بھی ہاسلامی جمہوریہ ایران (Islamic Republic of Iran) ہے۔ آئین کے آرٹیکل 1 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ حکومت کی شکل اسلامی جمہوریہ ہے جو عوام کی منظوری سے قائم ہوئی اور قرآنی عدل اور حقیقت کی حاکمیت پر مبنی ہے۔
اس حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بھی چارجز ہیں مگر یہ وہی چارجز ہیں جو تیسری دنیا کے لوگ خود استعماری طاقتوں پر لگاتے ہیں۔ان طاقتوں کے اپنے خود ساختہ قوانین ہیں جو اپنی مخالف حکومتوں پر لگاتے ہیں جہاں ان کی من مرضی کی حکومت ہوتی ہے خواہ وہ جعلی اور دو نمبر طریقوں سے اقتدار میں آئے ہوں وہ ان کو نظر نہیں آتے۔
ایرانی قوم اپنی الگ تاریخ بھی رکھتی ہے اور شکوہ بھی۔وہ قوم پرست ہیں اور انہوں نے استعماری قوتوں کی چالوں کو آزمایا ہوا ہے ان کے سامنے عراق، لبیا، شام اور کئی ممالک کی مثالیں ہیں جو باعثِ عبرت بھی ہیں اور سبق آموز بھی۔عوام کا غالب حصہ اب بھی خامنہ ای کے سسٹم کے ساتھ ہے جو مخالف بھی ہیں وہ اپنے ملک کو لبیا،عراق، شام اور یمن بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔ہر گز نہیں۔پورا عالمِ اسلام بے حس و حرکت ہے کہ اونچا سانس لینے کی انکل سام کو خبر نہ ہو جائے۔
ایران دنیا کے لیے ایک مثال رہا ہے مثال ہے اور دونوں صورتوں میں مثال رہے گا۔اگر وہ اپنا سسٹم بچا پاتا ہے تب بھی اور اگر خدانخوستہ اس کا سسٹم گرتا ہے تب بھی اپنی عزت نفس، شکوہ اور خودداری کے حوالے سے۔
۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply