میں یہاں ’پرسپشن‘(Perception) کو ’پرسپشن ‘ہی لکھوں گا کیوں کہ اس کا متبادل مجھے کوئی لفظ دکھائی نہیں دیا۔ پرسپشن یعنی لوگوں میں اپنی صلاحتیوں کا ایک خاص تصور قائم کرنا۔ یہ لازم نہیں کہ آپ باصلاحیت ہیں اور خاص قابلیت رکھتے ہیں مگر یہ ضروری ہے کہ آپ ایک خاص قسم کا ’پرسپشن‘ رکھتے ہوں جو آپ کی قابلیت یا صلاحیت کا تصور بنائے۔پرسپشن ایک الگ، خودمختار قوت ہے۔ یہ قابلیت کو پیدا نہیں کرتی، مگر قابلِ قبول بناتی ہے۔آپ نے کبھی غور کیا کہ جو سیاست دان ، ایکٹر، کھلاڑی، ادیب یا سماجی کارکن وغیرہ جب منظر سے ہٹتے ہیں یا سماج کی روزمرہ خبروں کا حصہ نہیں رہتے، مکمل غائب ہو جاتے ہیں یا بھلا دئے جاتے ہیں۔ ذرا یاد کیجئے کیسے کیسے عظیم لوگ ہم بھلا بیٹھے ہیں وہ کبھی ہماری روزمرہ زندگیوں کا حصہ تھے۔ ان کی ایک شناخت تھی ان کا ایک ’مقام‘ تک متعین تھا مگر جب وہ خموش ہوئے یا پس منظر میں گئے، سب کچھ ختم ہو گیا۔ لہٰذا ایک تصورِ حیات اس طرح سوچتا ہے کہ اگر باصلاحیت ہونا ہے تو ’پرسپشن‘ بھی قائم رکھنا ہے ، محض صلاحیت ، قابلیت یا ہنر سب کچھ نہیں۔
جو ہنر نہیں رکھتا یا اپنی عدم صلاحیت کا ادراک رکھتا ہے ، وہ تو ’پرسپشن‘ ہی پر قائم رہنے کی کوشش کرے گا، کیوں کہ ’پرسپشن‘ اُس کی بقا کے لیے ضرروی ہے مگر یہاں بات ہو رہی ہے جو باصلاحیت ہے یا ہنر مند ہے۔ ایسے فرد کو بھی ’پرسپشن‘ کے فلسفے کا پورا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ورنہ وہ غائب ہو جائے گا یا بھلا دیا جائے گا۔ پرسپشن جیسی چاہیں بنا لیں، یعنی صلاحیت اگر کم بھی ہو تو پرسپشن میں ایسی طاقت ہے کہ وہ ہر چیز کو بڑا کرکے دکھا سکتی ہے۔
ذرا دیکھیئے کہ اگر فیض ’پرسپشن‘ کے فلسفے کے قائل نہ ہوتے تو کیا اس طرح ’’اسٹبلش‘‘ ہو پاتے۔ آپ کے ذہن میں ایک عظیم شاعر کا تصور پیدا کیا گیا ہے۔ اقبال کے بعد کوئی اور نام ذہن میں آتا ہی نہیں۔ مجید امجد جیسے ’غریب شاعر‘ کو عظیم بنانے کے لیے ادیب برادری پورا زور لگا بیٹھی ہے ،مگر ابھی تک ناکام ہے کیوں کہ ’پرسپشن‘ قائم کرنے کے بھی پورے اصول و ضوابط ہیں۔ تاخیر کی تو معافی ہی نہیں۔
یہاں احمد سلیم کو کون جانتا ہے؟ حمید نسیم جیسے ناقد کو کس نے پڑھا ہوگا؟ اقبال ساجد جیسے شاعر کہاں گئے؟کیوں کہ وہ ’پرسپشن‘ قائم نہیں کر پائے۔ یہاں راولپنڈی کے رشید امجد کو سب جانتے ہیں مگر احمد جاوید کو کوئی نہیں جانتا۔
’پرسپشن‘ کے لیے سب سے اہم چیز فوکسڈ اور ٹارگٹڈ ہونا ضروری ہے۔ میں اکثر یہ الفاظ بولتا ہوں کہ جو ادیب لکھاری، سیاست دان، حتٰی کہ بزنس مین اور طالب علم تک ان دو چیزوں پر کاربند نہیں ، کم از کم آج کل کامیاب تصور نہیں کیا جاتا۔ ایک ہے فوکسڈ، یعنی آپ کو پتا ہو کہ آپ نے کیا کرنا ہے، کتنا کرنا ہے اور کب تک کرتے رہنا ہے۔ Focused ہوکے چلو گے تو کامیاب ہو گے ورنہ ’پرسپشن‘ قائم نہیں ہو پائی گا۔ دوسری چیز ہے Targeted ہونا، یعنی آپ کو مکمل ادراک ہو کے آپ جو کررہے ہیں اس کو پروجیکٹ بھی کرنا ہے، اس کا ’پرسپشن‘ بھی بنانا ہے۔ اسے تسلیم بھی کروانا ہے۔ آپ کو پورا ادراک ہو کے اپنی صلاحیت یا ہنر کو کہاں پیش کرنا ہے، کب تک سامنے رہنا ہے، کن میں ڈسکس ہونا ہے، تو آپ ’پرسپشن‘ قائم کر پائیں گے۔ اگر آپ سیاست دان ہیں تو آپ کو علم ہو کہ ٹی وی پر Peeper دیتے رہنا ہے سکرین پر زندہ رہنا ہے۔ نظر آنا ہے۔ کس سے بنا کے رکھنی ہے، کون کس مشکل میں کام آئے گا۔ کس کے پاس عوامی طاقت ہے کس کے پاس وہ طاقت ہے جو مجھے راستہ دے گی۔ اگر آپ ادیب ہیں تو آپ کو پتا ہو کہ آپ نے کس ادارہ سے چھپنا ہے، کہاں سے نہیں۔ کن لوگوں سے بنا کے رکھنی ہے کن کی ضرروت نہیں، کون سے پلیٹ فارم مجھے پروجیکٹ کریں گے مجھے راستہ دیں گے۔ کہاں سے میری ’پرسپشن‘ قائم ہوگی۔ مجھے عظیم بنائے گی۔ کن لوگوں سے بنا کے رکھنی ہے، کہاں اپنی ’حاضری‘ ضروری رکھنی ہے۔ دکھائی دیا جانا ضروری ہے محض صلاحیت یا ہنر کافی نہیں۔
ایسا طالب علم ہو ، بزنس مین یا ڈاکٹر، سرکاری آفسر وغیرہ ، ہر شخص ایک خاص ’پرسپشن‘ کے تصور میں زندہ ہے۔ ورنہ وہ بھلا دیا جائے گا، ختم ہو جائے گا یا وہ سماجی تصور قائم نہیں کر پائے گا جو اس کی صلاحیت ، قابلیت یا ہنر کا حق تھا۔ اگر حق دار نہیں بھی تو حق بنا لیا جائے کیوں کہ پرسپشن ہی سب کچھ ہے۔
یہ صرف آج کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمیشہ سے ہم ایسے تصورِ حیات کا حصہ رہے ہیں جہاں ’پرسپشن‘ ہی سب کچھ ہوتی آئی ہے۔ تاریخ اٹھا کے دیکھ لیں جو ’پرسپشن‘ قائم نہیں کر پایا ، وہ بھلا دیا گیا یا مٹا دیا گیا یا ہمیشہ کے لیے غائب ہوگیا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں