آرٹیکل : محبت سے خالی ایمان تشدد پر ابھارتا ہے
محبت اور رحمت سے خالی ایمان دراصل ایک پُرتشدد ایمان ہوتا ہے، اس لیے کہ ایمان محض چند اعتقادی جملوں کا نام نہیں، بلکہ وہ باطنی ہیئت ہے جس کے ذریعے انسان خدا سے نسبت قائم کرتا ہے، کائنات کو معنی دیتا ہے، اپنے وجود کو سمجھتا ہے، اور دوسرے انسان سے اپنے تعلق کی صورت متعین کرتا ہے۔ ہم شاذ ہی ایسی محبت کا مشاہدہ کرتے ہیں جو نفرت کے غبار سے پوری طرح پاک ہو، یا ایسی محبت جو ہمیشہ روشن اور متوقد رہے—سوائے اللہ کی محبت کے۔ اللہ کی محبت خالص ہے، دوام کے ساتھ جڑ پکڑتی ہے، مستحکم ہوتی ہے، اور محب کے دل کو مسلسل جِلا بخشتی رہتی ہے۔ جب یہ محبت غذا پاتی ہے تو پھیلتی ہے، سیراب ہوتی ہے، اور اپنے ثمرات فوری طور پر ظاہر کرتی ہے؛ تب انسانِ محب ایک روشن وجود بن جاتا ہے، اس کا دل انوارِ الٰہی سے جگمگا اٹھتا ہے، اور جو اس کے قریب آتا ہے وہ بھی اس روشنی سے حصہ پاتا ہے۔ اسی لیے ایمان خدا کی تصویر کے تنوع کے ساتھ متنوع ہو جاتا ہے: جو شخص خدا کی ایک جنگجو اور سخت گیر تصویر پر ایمان رکھتا ہے، وہ خدا کی مخلوق کے خلاف جنگ کے اعلان میں مبتلا ہو جاتا ہے، اور جو شخص خدا کی ایک محب اور رحیم تصویر پر ایمان رکھتا ہے، وہ دنیا میں امن، باہمی رحمت، محبت اور جمال کے معماروں میں شامل ہو جاتا ہے۔
اللہ کے ساتھ انسان کی نسبت اسی ایمان کی ہیئت پر تشکیل پاتی ہے جو اس کا عقیدہ اس پر عائد کرتا ہے، نیز اس کی روحانی و اخلاقی زندگی کے اسلوب پر، اور اس تصویر پر جو اس کے نزدیک خدا کی ہوتی ہے۔ یہی تصویر اس کی خدا سے نسبت، اس کی کائنات بینی، اپنے وجود کی آگاہی، اور دوسرے انسان کے ساتھ تعلق کے فہم کو متعین کرتی ہے۔ اسی لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تکفیری جماعتوں میں خودکش کارروائیوں کے لیے تیار ہونے والے افراد ایمان سے محروم نہیں ہوتے؛ مگر ان کا ایمان—اللہ، آخرت اور جزا پر—خدا کی ایک تاریک تصویر کے مطابق تشکیل پاتا ہے: ایسی تصویر جو محبت اور رحمت سے خالی ہوتی ہے، جو خون سے سیر نہیں ہوتی؛ اسی لیے وہ انہیں بے گناہوں کے خلاف اندھا دھند —بازاروں، عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر
اجتماعی قتل کی دعوتوں میں دھکیل دیتی ہے یہ ایمان محبت اور رحمت سے محروم ہوتا ہے؛ خودکش شخص انسان کو نورِ الٰہی میں نہیں دیکھتا، بلکہ تاریکی میں دیکھتا ہے—وہ انسان کو اپنی فرقہ وارانہ تکفیری کلامیات سے تراشی ہوئی خدا کی مخصوص تصویر کے دائرے میں دیکھتا ہے، اور اس تصویر کو اپنی جماعت کے لیے خاص سمجھ کر یوں برتاؤ کرتا ہے گویا خدا خون نوشی اور ان انسانوں کی ہلاکت کا شائق ہے جو اس تاریک دائرے سے باہر خدا کی عبادت کرتے ہیں۔
یہی ذہنی ساخت “صراطی الٰہیات” کے تصور میں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے، جہاں خدا نہ ربّ العالمین رہتا ہے اور نہ تمام انسانوں کا خدا؛ بلکہ وہ اس دین اور اس گروہ کا خدا بن جاتا ہے جس کے ماننے والے اس الٰہیات پر ایمان رکھتے ہیں۔ جوں جوں عقیدے کا دائرہ تنگ ہوتا ہے، اسی نسبت سے خدا کی تصویر کی حدود بھی سمٹتی چلی جاتی ہیں۔ فرقہ پرست یہ باور کرنے لگتا ہے کہ خدا صرف اسی کا خدا ہے، دوسروں کا نہیں؛ بلکہ بسا اوقات ایک ہی فرقہ ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے اور کئی جماعتیں بن جاتی ہیں، جن میں سے ہر ایک یہ گمان کرتی ہے کہ خدا کی تصویر پر اس کی اجارہ داری ہے۔ صراطی الٰہیات انسان کے اندر یہ احساس راسخ کرتی ہے کہ اللہ کی رحمت صرف اسی اور اس کے عقیدے کے پیروکاروں کے لیے خاص ہے، اور نجات و خلاصی کا حق انہی کے حصے میں آتا ہے۔ یہ وہم مسلسل اس یقین سے غذا پاتا ہے کہ انسان اللہ کی رحمت کو—گویا وہ ایک ذاتی ملکیت ہو—اپنے عقیدے کی ملکیت بنا سکتا ہے، اسے اپنے حلقے تک محدود کر سکتا ہے، اور اس قدر سکیڑ سکتا ہے کہ اپنے عقیدے سے باہر کے سب انسانوں کو رحمتِ الٰہی کے اشراقات سے خارج کر دے۔
حالانکہ انسان کے باطن میں ایک درندہ صفت وحشی کے جنم لینے کی استعداد موجود ہوتی ہے۔ اس وحشی کو مہذب اور قابو میں رکھنے والی چیز صرف وہ ایمان ہے جو محبت سے سیراب ہو، اور انسانوں کو اس کے شر سے بچانے والی شے اخلاق، اس کے باطن میں گونجنے والی رحمت کی پکار، اور وہ عادل قانون ہے جو بلا امتیاز سب پر سختی سے نافذ ہو۔ جب دل میں رحمت مر جاتی ہے تو انسان کی انسانیت بھی مر جاتی ہے، کیونکہ رحمت روح کے ہر طرح کے عروج اور اس کے نورانی ہونے کا سرچشمہ ہے۔ محبت اور رحمت حقیقت کے ذوق کی ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والے تجربات ہیں: محبت کا رحمت سے عضوی تعلق ہے؛ محبت رحمت سے متاثر بھی ہوتی ہے اور اس پر اثرانداز بھی، اور رحمت محبت سے متاثر بھی ہوتی ہے اور اسے متاثر بھی کرتی ہے۔
اسی لیے محبت اور رحمت وہ قیمتی ترین مقام ہیں جہاں ادیان کا جوہر باہم ملتا ہے، اور وہی ان کے لیے سب سے نفیس ذریعہ ہیں جن کے ذریعے وہ شیریں اور دل آویز زبان میں کلام کر سکتے ہیں۔ ہر وہ دین جو محبت اور رحمت سے خالی ہو، انسان کو تشدد سے بچانے والی قوت سے محروم ہوتا ہے۔ اور محض محبت—اگر رحمت سے خالی ہو—ضروری نہیں کہ انسان کو نفرت میں الجھنے سے بچا لے؛ بعض اوقات انتقام کی کیفیت اس پر اس قدر غالب آ جاتی ہے کہ وہ علامتی اور لفظی تشدد، حتیٰ کہ قتل تک کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ اس لیے دین کی انسانیت کا معیار صرف جذباتی وابستگی نہیں، بلکہ رحمت کا وہ باطنی مزاج ہے جو انسان کو انسان کے لیے نرم کرتا ہے اور اسے دوسرے کی حرمت کا پاس سکھاتا ہے۔
رحمت خدا کی آواز اور دین کی انسانیت کا معیار ہے۔ دین اپنے ثمرات اسی وقت دیتا ہے جب وہ ایک ایسی ایمانی تجربہ گاہ بن جائے جس میں مومن کی روح رحمت سے دھڑکتی ہو۔ رحمت وہ قطب نما ہے جو دین کے مقاصد کی سمت متعین کرتا ہے؛ پس ہر وہ دین جو رحمت سے خالی ہو، اپنی انسانی رسالت سے محروم اور اس تخلیقی و محرک قوت سے عاری ہو جاتا ہے جو انسان کے روح، دل اور ضمیر کو بیدار کرتی ہے۔ رحمت ایک عمومی حالت ہے، کسی ایک کے لیے خاص نہیں کی جاتی؛ رحیم روح اسے سب پر بہا دیتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جس طرح محبت اور رحمت کے بغیر صحت مند معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا، اسی طرح محض رحمت کے سہارے—عدالت سے بے نیاز ہو کر—کام نہیں چل سکتا۔ عدالت انسانی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے، ہر صحت مند سماجی تعمیر کے لیے لازمی شرط، اور امنِ عامہ و سماجی سلامتی کی ضمانت؛ تاکہ دوسرے کے حقِ زیستِ مشترک پر ہر طرح کے تشدد اور تعدّی کا سدِّباب ہو، اور سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی میں افراد کے لیے مساوی مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ اسی لیے کوئی بھی صحت مند معاشرہ ان قوانین کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا جو معاشی، سیاسی، عدالتی اور انتظامی زندگی کو منظم کریں، سماجی امن اور عدل کو یقینی بنائیں، اور عادلانہ تعزیری نظام فراہم کریں جو مظلوم کو انصاف دے اور ظالم کو روکے—ایسے منصفانہ اور متوازن انداز میں کہ فرد اور جماعت دونوں کے مفادات محفوظ رہیں، اور افراد اپنے حقوق اور آزادیوں میں برابر ہوں۔
محبت ایمان کی زبان ہے؛ محبت کے بغیر ایمان فقیر ہوتا ہے، اور محبت و رحمت کے بغیر ایمان تشدد آمیز بن جاتا ہے۔ معنی سے محروم انسان دنیا کا سب سے مفلس انسان ہے، اس لیے کہ وہ وجود کی سب سے قیمتی شے—معنی—سے محروم ہوتا ہے۔ انسان کی قدر اس مجموعے سے متعین ہوتی ہے جو وہ زندگی کو روحانی، اخلاقی، جمالیاتی اور معرفتی معانی کی صورت میں عطا کرتا ہے، اور اس صلاحیت سے کہ وہ زمین پر زندگی کو زیادہ مسرّت بخش اور دنیا کو زیادہ خوب صورت بنا سکے۔ دین کی میری تعریف کے مطابق دین “معنی کے افق میں ایک زندگی” ہے، جسے انسان کی وجودی ضرورت اس لیے فرض کرتی ہے کہ وہ اپنی فردی اور اجتماعی زندگی کے لیے روحانی، اخلاقی اور جمالیاتی معنی پیدا کر سکے۔ یہ فہمِ دین اللہ کے ساتھ کسی ایسی نسبت کے قیام کی نفی کرتا ہے جو محبت اور رحمت پر قائم نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی میں دین پر کچھ لکھتا ہوں تو محبت اور رحمت کے الفاظ اس کے حضور کے اظہار میں مجھ سے سبقت لے جاتے ہیں، کیونکہ محبت اور رحمت جس طرح دل کو پاک کرتی ہیں، اسی طرح بہائے گئے خون سے زمین کو بھی پاک کرتی ہیں، انسان کی کرامت، آزادیوں اور حقوق کی نگہبانی کرتی ہیں؛ اور جو ان صفات سے متصف ہو وہ اللہ کے دفاع کے نام پر انسان پر جارحیت کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔
ایمان اور اللہ کی محبت—دونوں روح کی کیمیاء ہیں، دونوں ایک ہی جوہر سے پھوٹتے ہیں۔ یہ ساتھ پیدا ہوتے ہیں، ساتھ پرورش پاتے ہیں، ساتھ مستحکم ہوتے ہیں اور ساتھ ہی یک جان ہو جاتے ہیں۔ جہاں ایمان نمو پاتا ہے وہاں محبت بھی نمو پاتی ہے، اور جہاں ایمان پژمردہ ہوتا ہے وہاں محبت بھی پژمردہ ہو جاتی ہے۔ یہ دونوں ایک مسلسل صیرورت، تعامل اور جوش میں رہتے ہیں؛ ایمان محبت میں ڈھل جاتا ہے، اور محبت ایمان میں۔ ایمان محبت کا نچوڑ ہے اور محبت ایمان کا نچوڑ؛ دونوں ایک ہی آبشار سے سیراب ہوتے ہیں، یوں ہر ایک ایک ہی حقیقت کی کثیر الجہات صورت بن جاتا ہے۔ جب ایمان محبت بن جائے اور محبت ایمان، تو انسان کی زندگی ازلیت کے انوار کی شاہد بن جاتی ہے۔ ایمان اس زمانے میں روح کی خوشی ہے جس زمانے میں روح کم ہی خوش ہوتی ہے، کیونکہ دنیا کو ایک افسردہ مذہبیت لاحق ہے جو روح کو غم سے بھر دیتی ہے۔
محبان کی مناجات میں—جو امام سجادؑ سے مروی ہے—یہ تعبیر کس قدر دل نشیں ہے: “اے میرے معبود! وہ کون ہے جس نے تیری محبت کی حلاوت چکھی ہو اور پھر تجھ سے بدل کا طلبگار ہو؟ اور وہ کون ہے جو تیرے قرب سے مانوس ہوا ہو اور پھر تجھ سے ہٹ کر کسی اور کا خواہاں ہو؟” عرفاء—اہلِ قلب—ایمان، محبت، سکون اور سلامتی کی لذت چکھتے ہیں۔ وہ دل کی زبان میں مہارت رکھتے ہیں اور اس کے بارے میں لطیف، گرم اور اپنی روح کی خوشبو سے لبریز الفاظ میں گفتگو کرتے ہیں۔ دل کی زبان زمین کی سب سے شفاف اور شیریں زبان ہے۔ وہ دل جسے ایمان منور کرے اور محبت مسرّت بخشے—ایمان اور محبت دنیا کی تمام زبانوں کو ایک ہی معنی میں ترجمہ کر دیتے ہیں۔ جرمن عارف مائسٹر ایکہارٹ نے خوب کہا تھا کہ الٰہیات کے علما بحث کرتے ہیں، مگر دنیا کے عرفاء ایک ہی زبان بولتے ہیں۔
اور پھر بھی عقل کا راستہ دل کے راستے سے مختلف ہے۔ سوال کرنے والی عقل اپنی پرسشوں کو خاموش نہیں کرتی؛ وہ محبت، ایمان اور ہر شے کی ماہیت کے بارے میں سوال کرتی ہے، اور یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ ادراک کی کیفیت کیا ہے اور اس کی حقیقت تک رسائی کی حدیں کہاں تک ہیں۔ فلاسفہ سوال کرنے والی عقل کی زبان بولتے ہیں؛ ان کی عقلیں اس وقت بھی قرار نہیں پاتیں جب وہ اپنے سوالات کے بعض جوابات پا لیں، کیونکہ ہر جواب مزید گہرے سوالات کو جنم دیتا رہتا ہے۔ اسی اضطراب کی ایک مثال نطشے کی زندگی میں بھی دیکھی جا سکتی ہے کہ سوالات کا آتش فشاں اگر قلب کے امن اور اخلاقی رحمت کے افق سے کٹ جائے تو انسان کو چین کم اور اضطراب زیادہ نصیب ہوتا ہے؛ یوں سوال عقل کو بیدار بھی کرتا ہے، مگر دل کی رحمت کے بغیر وہ کبھی کبھی انسان کو اندر سے نڈھال بھی کر دیتا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں