یہ ہمارے عہد کی ایک تلخ مگر نظرانداز کی جانے والی حقیقت ہے کہ معاشرہ آج محنت، دیانت اور کردار سے زیادہ دکھاوے، جھوٹی شان اور خود نمائی کو عزت کا معیار سمجھنے لگا ہے۔ انسان اب وہ بننے کی کوشش نہیں کرتا جو وہ حقیقت میں ہے، بلکہ وہ دکھانا چاہتا ہے جو وہ نہیں۔ یہ رجحان محض ذاتی کمزوری نہیں رہا، بلکہ ایک اجتماعی بیماری کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات فرد کی نفسیات سے لے کر معیشت، خاندانی نظام اور سماجی اقدار تک پھیل چکے ہیں۔
ہم ایک ایسے سماج میں سانس لے رہے ہیں جہاں بساط سے بڑھ کر جینے کو کامیابی اور سادگی کو ناکامی سمجھا جاتا ہے۔ معمولی آمدن رکھنے والا شخص بھی بڑے برانڈز، مہنگی تقریبات، قیمتی موبائل فون اور نمائشی طرزِ زندگی کے ذریعے خود کو اس طبقے میں شامل دکھانا چاہتا ہے جس سے اس کا کوئی حقیقی تعلق نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ عزت اب کردار سے نہیں، کار سے جڑی ہے۔ انسان کی پہچان اس کی فکر اور عمل نہیں بلکہ اس کے لباس، گاڑی اور سوشل میڈیا پروفائل سے کی جاتی ہے۔
یہ جھوٹی شان دراصل ایک مہذب شکل ہے اس احساسِ کمتری کی، جسے ہم ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ انسان جب اندر سے خود کو کمزور محسوس کرتا ہے تو باہر سے خود کو بڑا دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود نمائی کا رجحان اکثر اُن معاشروں میں زیادہ ہوتا ہے جہاں معاشی ناہمواری، طبقاتی فرق اور سماجی دباؤ شدید ہو۔ وہاںدکھاوے کی قیمت اکثر قرض کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ یوں مہنگی زندگی دراصل ایک سستا ضمیر خریدنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ نمائشی طرزِ زندگی متوسط طبقے کی کمر توڑنے کا سبب بن رہا ہے۔ شادی بیاہ کی فضول رسومات، حیثیت سے بڑھ کر دعوتیں، برانڈڈ ملبوسات اور غیر ضروری اخراجات نے سادگی کو جرم بنا دیا ہے۔ لوگ خوشی کے لمحات بھی سکون سے نہیں منا پاتے، کیونکہ ہر تقریب ایک مقابلہ بن چکی ہے ۔ ۔ ۔ کس کی تقریب بڑی، کس کا لباس مہنگا اور کس کی تصاویر زیادہ متاثر کن ہیں۔ اس دوڑ میں اصل خوشی کہیں پیچھے رہ جاتی ہے اور قرض، ذہنی دباؤ اور احساسِ محرومی آگے آ جاتا ہے۔
نفسیاتی سطح پر اس کا سب سے خطرناک اثر ذہنی انتشار اور اندرونی خالی پن کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ انسان مسلسل دوسروں جیسا دِکھنے کی کوشش میں اپنی اصل پہچان کھو بیٹھتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی قدر اس کی انسانیت میں ہےنہ کہ اس کے ظاہری تاثر میں۔ تاثر کی غلامی انسان کو اس مقام پر لے آتی ہے جہاں وہ اپنی زندگی دوسروں کی نظر سے جینے لگتا ہے، اپنی خوشی کا پیمانہ بھی دوسروں کی تعریف اور قبولیت کو بنا لیتا ہے۔
اس پورے عمل میں سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ فلٹر زدہ تصاویر، بناوٹی مسکراہٹیں اور “ایڈیٹ شدہ” زندگیاں ایک ایسا غیر حقیقی معیار قائم کر چکی ہیں جسے دیکھ کر عام انسان خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے۔ آن لائن عزت اور لائکس کی معیشت نے حقیقی زندگی کو بے رنگ بنا دیا ہے۔ لوگ آف لائن مسائل کے باوجود آن لائن کامیاب دکھائی دینے پر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ یوں سچ اور دکھاوے کے درمیان فاصلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
ہم آخر ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم واقعی خوش ہیں یا صرف خوش دکھائی دینا چاہتے ہیں؟ کیا ہم عزت چاہتے ہیں یا محض توجہ؟ اس سوال کا ایماندار جواب ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی پر مجبور کرتا ہے۔ کیونکہ جو معاشرہ دکھاوے کو فروغ دیتا ہے، وہ رفتہ رفتہ سچ، سادگی اور قناعت جیسی اقدار سے محروم ہو جاتا ہے۔
مذہبی اور تہذیبی تناظر میں بھی خود نمائی اور جھوٹی شان کی سختی سے نفی کی گئی ہے۔ سادگی، قناعت اور عاجزی کو ہمیشہ اعلیٰ اوصاف قرار دیا گیا، جبکہ تکبر اور ریاکاری کو اخلاقی زوال کی علامت سمجھا گیا۔ مگر افسوس کہ ہم نے جدیدیت کے نام پر انہی برائیوں کو ترقی کی علامت بنا لیا ہے۔ ہم نے روحانی سکون کے بدلے سماجی تاثر کا سودا کر لیا ہے اور یہ سودا ہمیشہ خسارے میں ہی جاتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس نمائشی کلچر نے سچے رشتوں کو کمزور کر دیا ہے۔ تعلقات اب خلوص پر نہیں، حیثیت پر استوار ہونے لگے ہیں۔ دوستیاں فائدے سے، شادیاں نمائش سے اور رشتے سماجی دباؤ سے جڑ گئے ہیں۔ انسان انسان کو دل سے نہیں، ظاہری معیار سے پرکھنے لگا ہے۔ یوں معاشرہ بظاہر جڑا ہوا، مگر اندر سے ٹوٹا ہوا نظر آتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان اچھا لباس پہنے یا بہتر زندگی چاہے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ سب اپنی حقیقت چھپانےکے لیے کرے۔ فرق سادگی اور غربت کا نہیں، فرق نیت اور ترجیح کا ہے۔سہولت عادت بن سکتی ہے مگر دکھاوا اگر عادت بن جائے تو معاشرہ بگڑ جاتا ہے۔
شان وہ نہیں جو دکھائی دے۔۔۔ شان وہ ہے جو محسوس ہو۔ وہ انسان زیادہ مضبوط ہوتا ہے جو اپنی حیثیت کو قبول کر کے اس میں بہتری لاتا ہے نہ کہ وہ جو جھوٹے معیار کے پیچھے بھاگ کر خود کو کھو دیتا ہے۔
بناوٹ سے حقیقت تک آنے کے لیے پہلے خود کو سنوارنا پڑتا ہے۔جب ہم دکھانے کے بجائے بننے کا فیصلہ کریں گے، جب ہم دوسروں سے مقابلے کے بجائے خود سے مکالمہ کریں گے، تب ہی یہ معاشرہ نمائش کے بوجھ سے آزاد ہو سکے گا۔ ورنہ چمکتی زندگیاں بڑھتی رہیں گی اور اندر سے خالی انسان بھی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں