لیڈر بننے کا سفر جواب دہی: اختیار کا اخلاقی حساب(5)-مصور خان

قیادت کا اصل امتحان فیصلہ کرنے کے لمحے پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہیں سے شروع ہوتا ہے۔ فیصلہ ہو جانے کے بعد اس کے نتائج سامنے آتے ہیں، اور پھر لیڈر سے سوال کیا جاتا ہے۔ جواب دہی اسی سوال کا سامنا کرنے کا نام ہے۔ وژن راستہ دکھاتا ہے، کردار سمت درست رکھتا ہے، دیانت نیت کو صاف رکھتی ہے اور فیصلہ سازی عمل کو جنم دیتی ہے، مگر جواب دہی اس پورے عمل کو اخلاقی وزن عطا کرتی ہے۔ جواب دہی کے بغیر قیادت طاقت کے اظہار سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔
جواب دہی صرف کامیابی کا کریڈٹ لینے کا نام نہیں، بلکہ ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے کا حوصلہ ہے۔ ایک لیڈر اگر اچھے نتائج اپنے نام اور برے نتائج حالات، مشیروں یا ماتحتوں کے کھاتے میں ڈال دے تو وہ قیادت کے اس بنیادی اصول سے ہٹ جاتا ہے۔ اصل لیڈر وہ ہے جو یہ کہنے کی جرات رکھتا ہے کہ یہ فیصلہ اس کا تھا، اور اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔
حضرت محمد ﷺ کی قیادت میں جواب دہی ایک عملی حقیقت تھی۔ اجتماعی معاملات میں آپ ﷺ خود کو قانون اور اصول سے بالاتر نہیں سمجھتے تھے۔ یہی طرزِ عمل قیادت کو اخلاقی طاقت دیتا ہے، کیونکہ جب رہنما خود کو جواب دہ مانتا ہے تو اس کی بات میں وزن اور اعتماد پیدا ہو جاتا ہے۔
جدید تاریخ میں جاپان کے سابق وزیرِاعظم ناوٹو کان کی مثال قابلِ ذکر ہے، جنہوں نے فوکوشیما نیوکلیئر حادثے کے بعد عوام کے سامنے اپنی ذمہ داری تسلیم کی۔ یہ اعتراف بحران کو فوری طور پر ختم نہیں کر سکتا تھا، مگر اس نے قیادت اور عوام کے درمیان اعتماد کو برقرار رکھا۔ بعض اوقات جواب دہی مسائل حل نہیں کرتی، مگر اخلاقی دیوالیہ پن سے ضرور بچا لیتی ہے۔
جرمنی کی سابق چانسلر انجیلا مرکل کی قیادت میں جواب دہی ایک ادارہ جاتی رویّے کے طور پر سامنے آئی۔ بڑے فیصلوں کے بعد پارلیمان، میڈیا اور عوام کے سامنے وضاحت دینا ان کی سیاست کا مستقل حصہ تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ مضبوط لیڈر وہ نہیں جو سوال سے بچ نکلے، بلکہ وہ ہے جو سوال کا سامنا کرے اور دلیل کے ساتھ جواب دے۔
جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مفاہمت اور شفافیت کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے اپنے فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری قبول کی اور قوم کے سامنے خود کو جواب دہ سمجھا۔ ان کی قیادت یہ سبق دیتی ہے کہ جواب دہی صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ بھی ہے۔
جواب دہی مضبوط اداروں کے بغیر ممکن نہیں۔ آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور فعال پارلیمان لیڈر کی دشمن نہیں ہوتیں، بلکہ اس کی قیادت کو متوازن رکھتی ہیں۔ جو رہنما تنقید سے گھبراتا ہے اور ہر سوال کو ذاتی حملہ سمجھتا ہے، وہ دراصل جواب دہی سے فرار اختیار کرتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بڑے وژن اور جرات مندانہ فیصلے رکھنے والے کئی رہنما اس لیے ناکام ہوئے کہ وہ اپنے اعمال کا حساب دینے کو تیار نہیں تھے۔ عوام غلطی کو برداشت کر سکتی ہے، مگر غرور اور انکار کو نہیں۔ جواب دہی وہ آئینہ ہے جو لیڈر کو اس کی اصل حیثیت دکھاتا ہے۔
آج کے دور میں قیادت کا معیار یہ نہیں کہ لیڈر کتنی بار درست ثابت ہوتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ غلط ثابت ہونے پر وہ کیا رویّہ اختیار کرتا ہے۔ معافی مانگنا، اصلاح کرنا اور نظام کو بہتر بنانا جواب دہی کی اعلیٰ صورتیں ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اختیار خدمت میں ڈھلتا ہے اور قیادت محض حکمرانی نہیں بلکہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply