انگریزی میں لفظ ’ہجے‘ کو ’اسپیلنگ‘ (spelling) کہتے ہیں، ’اسپیل‘ یعنی کہ جادو!
یہ بات تو طے ہے کہ الفاظ جادو کا سا تاثر رکھتے ہیں، اچھے الفاظ مثبت جذبات جبکہ تنقیدی اور منفی الفاظ کا چناؤ انسانوں میں منفی جذبات کو اجاگر کرتا ہے۔ انسانوں کی دنیا میں گفتگو دو سطح پر ہوتی ہے، پہلی سطح ”نروس سسٹم“ جسے ہم غیر-زبانی مواصلات (non-verbal communication ) کہتے ہیں، اس میں جذبات، رویہ، چہرے کے تاثرات، باڈی لینگویج وغیرہ شامل ہیں، جب کہ دوسری سطح ”بات چیت“ جسے ہم زبانی مواصلات (verbal communication ) کہتے ہیں۔
اس میں سب سے اہم اور جسے ہم کنٹرول نہیں کرتے وہ نروس سسٹم کی سطح پر بولی جانے والی غیر مواصلاتی زبان ہے۔ اگر آپ والدین ہیں تو آپ کے بچوں کا نروس سسٹم آپ کی گفتگو سے زیادہ آپ کے ”نروس سسٹم“، یعنی کہ غیر-زبانی مواصلات (non-verbal communication ) کے ساتھ ہم آہنگ (attune ) رہتا ہے، آپ باتیں کتنی ہی اچھی اور مثبت کرلیں لیکن بچہ آپ کے نروس سسٹم میں موجود اضطراب کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے، اسے جذب کرتا ہے، نہ کہ آپ کے الفاظ!
الفاظ بھی اہم ہیں، لیکن وہ دوسرے نمبر پر آتے ہیں، انکا اثر تب گہرا ہوتا ہے جب آپ کا نروس سسٹم یعنی کہ غیر زبانی مواصلات آپ کی زبانی مواصلات کے ساتھ ہم آہنگی میں ہوں…….. میں سمجھ سکتی ہوں کہ یہ بات بہت گہری اور پیچیدہ ہے اور شاید آپ کو اسے سمجھنے کے لیے کچھ دیر اپنے فون کو سائیڈ پر رکھ کر سوچنا پڑے کہ میں کس قسم کی ہم آہنگی کی بات کررہی ہوں!
خیر! الفاظ اور ان کے جادو پر واپس آتے ہیں……
آپ نے یقیناً اس آرٹیکل کے عنوان میں لفظ ”سدھی“ کو ملاخطہ کیا ہوگا، یہ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہوتا ہے ”ماسٹری“ (mastery)، ”جادوئی طاقت کا حصول“ یا کسی چیز پر ”مکمل قابو پانا“….. اور اس جادو کو حاصل کرنے کے لیے بہت پریکٹس کرنی پڑتی ہے۔
ہندو-ازم میں ”یوگی “ عموماً ان لوگوں کو کہتے ہیں جو ”غیر معمولی تجربات“ (Optimal Human Experience ) کو محسوس کرنے کے لیے مختلف مشق یا تکنیک کا استعمال کرتے تھے، بلکل ویسے جیسے ہم اسپورٹس سائیکالوجی (Sports Psychology) میں پڑھتے ہیں کہ کسی کھلاڑی کو اس کی بہترین کارکردگی کو حاصل کروانے میں کن تکنیک کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ اسپورٹس سائیکالوجسٹ اور مختلف ماہرین ایک کھلاڑی کو اسکی بہترین کارکردگی کو حاصل کروانے میں اسکی مدد کرتے ہیں، اور اب چونکہ سائنس کی مدد سے یہ کام اور بھی جدید اور بہتر ہوگیا ہے۔
بہتری کی جانب بڑھنا بیشک انسانی نفسیات ہے، ہر انسان بہترین کارکردگی دکھانا چاہتا ہے….
ان غیر معمولی تجربات (Optimal Human Experience ) کو سائیکالوجسٹ میہائل چکسین میہائی (بہت مشکل نام ہے یقیناً) کہتے ہیں ”فلو اسٹیٹ“ (flow state)، اور میہائیل کی تحقیق کے مطابق اس فلو والی کیفیت کو حاصل کرنے کے لیے ہم آہنگی ضروری ہے، آپ کے اندرونی اور بیرونی حالات میں….. ہم آہنگی کی اہمیت کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، یہ بہت اہم ہوتی ہے۔ اسپورٹس سائیکالوجسٹ بھی کھلاڑیوں کے ذہن میں موجود ”مزاحمت“ (resistance) کو ہٹا کر ہم آہنگی کو پیدا کرتے ہیں کھلاڑی اور اسکے کھیل کے درمیان، جس کی وجہ سے کھلاڑی کو کھیل میں مہارت یا پھر ”سدھی“ حاصل ہوتی ہے۔
اب اتنی لمبی تمہید باندھنے کے بعد ”واک سدھی“ اور اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں، اس پر بات کریں گے….
”واک سدھی“ یعنی کہ ایسی طاقت کہ جو آپ بولیں وہ سچ ہوجائے…. اسے حاصل کرنے کے لیے کیا کرسکتے ہیں آپ؟؟؟؟
واک سدھی کو حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے تو آپ کو ”سچ“ بولنا سیکھنا ہوگا….. لیکن کس سے؟؟؟
دنیا سے؟؟
ہرگز نہیں! خود کی ذات سے سچ، خود کی ذات کے بارے میں سچ، آپ کیا محسوس کرتے ہیں اسکا سچ، آپ کیا سوچتے ہیں، کیا چاہتے ہیں، وہ سب سچ بولنا ہے اپنے آپ سے……
میرے پاس اکثر کلائنٹ آتے ہیں جو سوچتے کچھ ہیں، بولتے کچھ اور محسوس کچھ اور کرتے ہیں، مجھے سالوں لگے ہیں ایسے لوگوں کو سکھانے میں کہ آپ کو سوچ، احساسات اور الفاظ میں ہم آہنگی کیسے لانی ہے…. کیونکہ یہی راز ہے اچھی گفتگو کا، یہی راز ہے اس طاقت کو پانے کا کہ جو آپ بولیں وہ ”ظہور پذیر“ ہوجائے۔
جب انسان ”فلو اسٹیٹ“ میں بات کرتا ہے، جب اسکے نروس سسٹم اور الفاظ میں ہم آہنگی ہوتی ہے تو وہ صرف ”سچ“ ہی بولتا ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ ”سچ“ کو مینیفیسٹ ہونا ہی ہوتا ہے….. اگر آپ جھوٹ بولیں گے یا پھر وہ کہیں گے جو آپ محسوس نہیں کرتے تو وہ کبھی ”مینیفیسٹ“ نہیں ہوگا۔ یہ سارا کھیل ہم آہنگی اور توازن کا ہے۔
آپ جو بھی محسوس کرتے ہیں اسے بنا کسی ”مزاحمت“ (resistance ) کے محسوس کرنا، جو سوچتے ہیں اسکا بنا کسی ججمنٹ کے مشاہدہ کرنا، اور الفاظ کا چناؤ کرکے اظہار کرنا اس حقیقت کو ”ظہور پذیر“ کرتا ہے، جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں جسے آپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم اسپورٹس سائیکالوجی میں پڑھتے ہیں کہ کیسے آپ کھلاڑی کی لاشعوری مزاحمت (unconscious resistance) کم کرکے اسے اپنی بہترین کارکردگی کو حاصل کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ سچ بولنے کے ساتھ کم بولنا بھی آپ کو طاقتور بناتا ہے، کم بولنا یا کبھی کبھار ”چپ کا روزہ“ رکھنا آپ کو توانائی بخشتا ہے۔
اسپورٹس سائیکالوجسٹ عموماً ”ہپنوسس“ (hypnosis) کا استعمال کرتے ہیں اس مزاحمت (resistance) کو ختم کرنے کے لیے جو ہمارے لاشعور میں ہوتی ہے اور ہمارے والدین یا معاشرے کی نافذ کردہ پابندیوں کا نتیجہ ہوتی ہے (ہپنوسس پر میں پھر کسی دن بات کروں گی)۔ جذبات، احساسات، سوچوں، خیالات، تصوارات، ان سب کو ہم آہنگ کرکے، مکمل طور پر محسوس کرکے انسان اس مزاحمت کو ختم کرتا ہے جو اس کے لاشعور میں ہوتی ہے جسے ہم لاشعوری مزاحمت (unconscious resistance ) کہتے ہیں، تبھی آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر لوگ بولتے کچھ ہیں، سوچتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں، یہ لوگ اپنی زندگی میں سب سے زیادہ نفسیاتی درد سے گزرتے ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسپورٹس سائیکالوجسٹ لاشعوری مزاحمت کم کیوں کرتے ہیں کھلاڑیوں کی اور اسکا کیا فائدہ ہوتا ہے؟
لاشعوری مزاحمت جب کم ہوتی ہے تو کھلاڑی ماہرین کی تجاویز کو نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ اس پر عمل بھی کر پاتا ہے۔ کیونکہ لاشعوری مزاحمت یا پھر کنڈیشن آپ کو دوسروں کی تجویز کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے روکتی ہے۔
اس تضاد اور لاشعوری نفسیاتی مزاحمت کو ختم کیجیے، ”واک سدھی“ کو حاصل کیجیے، پھر آپ جو بھی کہیں گے وہ ”سچ“ ہوجائے گا، کیونکہ نفسیاتی مزاحمت کو ختم کرکے آپ جو بھی کہیں گے وہ ہوگا ہی ”سچ“، آپ کا سچ!
اور یقیناً ”سچ “ ہمیشہ ظہور پذیر ہوتا ہے……
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں