میز پر دھرے پراٹھے کے بچے ہوئے ٹکڑے کا ذائقہ اس جھوٹ جیسا تھا جو عموما ہم اپنے باپ کے ساتھ بولتے ہیں ۔ اس کے ساتھ رکھی چائے کی پیالی سے اٹھتی بھاپ کسی بوڑھے کی آخری ہچکیوں کی طرح فضا میں لہریں بنا رہی تھی۔سگریٹ کی راکھ سے بھرے ہوئے ایش ٹرے نے احتجاجا منہ موڑا ہوا تھا۔ کمرے کے اکلوتے بلب نے دیواروں پر سائے اتنے طویل کر دیے تھے کہ وہ چھت سے ٹکرا کر واپس فرش پر رینگنے لگے۔تمہیں معلوم ہے، آج کل پیاز کے چھلکے بھی فلسفیانہ گفتگو کرنے لگے ہیں۔اس نے اخبار سے نظریں ہٹائے بغیر کہا۔ سامنے بیٹھے شخص نے اپنی انگلیوں کے پوروں کو ایک دوسرے سے جوڑا اور نہایت متانت سے جواب دیا۔یہ تو اچھی بات ہے۔ کم از کم وہ سیاست دانوں سے بہتر گفتگو کرتے ہوں گے۔ ویسے بھی، دنیا ایک بہت بڑا انڈا ہے جسے کوئی ہاتھی سینے کی کوشش کر رہا ہے۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ یہ وہ خاموشی نہیں تھی جو گفتگو کے اختتام پر ہوتی ہے، بلکہ وہ بے ہنگم خاموشی تھی جو کسی ٹوٹے ہوئے پیانو کی چابیوں سے برآمد ہوتی ہے۔ دیوار پر لٹکی گھڑی کا پینڈولم الٹی سمت میں چل رہا تھا، یا شاید وہ صرف دیکھنے والے کا وہم تھا۔میں نے کل ایک خواب دیکھا۔ دوسرے نے اچانک کہا۔میں ایک کوٹ سی رہا تھا، لیکن کپڑا انسانی آوازوں کا بنا ہوا تھا۔ میں جتنا سوئی چبھوتا، کپڑا اتنا ہی قہقہے لگاتا۔ مگر جب کوٹ مکمل ہوا، تو اس میں سے چیخیں برآمد ہونے لگیں۔کمال ہے۔ کیا پھرتم نے اسے پہنا۔نہیں، میں نے اسے ایک بھکاری کو دے دیا۔ اب وہ بھکاری جب بھی مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے، اس کے بازوؤں سے کلاسیکی موسیقی برآمد ہوتی ہے۔ لوگ اسے سکہ دینے کے بجائے تالیاں بجا کر چلے جاتے ہیں۔ وہ بھوک سے مر رہا ہے، لیکن اس کا فن عروج پر ہے۔
پہلے شخص نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی قینچی نکالی۔ وہ بڑی مہارت سے ہوا میں خیالی تصویریں کاٹنے لگا۔تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ تم اب بھی منطق ڈھونڈتے ہو۔ دیکھو، یہ کائنات ایک حادثہ ہے جو کسی نووارد جادوگر کے ہاتھوں ہو گیا ہے۔ ہم سب اس جادوگر کے ہیٹ سے نکلے ہوئے وہ خرگوش ہیں جنہیں گاجر کے بجائے سیمنٹ کھلایا جا رہا ہے۔منطق۔دوسرے نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔منطق تو اس دن مر گئی تھی جس دن مچھلیوں نے چھتریوں کا استعمال شروع کیا تھا۔ میں تو بس یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر میں خود کو الٹا لٹکا لوں، تو کیا زمین میری چھت بن جائے گی؟۔بالکل بن جائے گی۔ لیکن پھر تمہیں بادلوں پر چلنے کی مشق کرنی ہوگی۔ اور بادل بہت پھسلنے والے ہوتے ہیں، خاص کر جب وہ اداس ہوں۔
کمرے کے کونے میں پڑی ایک پرانی الماری کا دروازہ خود بخود کھلا اور اس میں سے ایک سوکھا ہوا گلاب کا پھول گرا۔ پہلے شخص نے اسے اٹھایااور جیسے اس کی آنکھ بھیگ گئی ۔ وہ چند لمحے اسے تکتا رہا پھر بڑے احترام سے اپنی چائے کی پیالی میں ڈال دیا۔یہ لو، اب چائے کا ذائقہ ماضی جیسا ہو جائے گا۔ کڑوا اور بے معنی اور گنگنانے لگا۔ جا تجھے معاف کیا، دل کو توڑنے والے۔۔۔ پھر چپ سا بیٹھ گیا، وہ دونوں کافی دیر تک ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ ان کی آنکھوں میں کوئی جذبہ نہیں تھا، بس ایک ایسی خالی جگہ تھی جہاں زندگی کے تمام نظریات آ کر دم توڑ دیتے تھے۔ اچانک باہر سے کسی کے بھاگنے کی آواز آئی۔ شور بڑھتا گیا، جیسے کوئی ہجوم کسی مجرم کے پیچھے ہو۔لگتا ہے کوئی سچ بولنے کی جرات کر بیٹھا ہے۔ دوسرے نے کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے کہا۔یا شاید کسی نے یہ دریافت کر لیا ہے کہ اس کے جوتے دراصل دو چھوٹے تابوت ہیں جن میں وہ اپنی خواہشات لے کر چل رہا ہے۔ پہلے نے قینچی بند کرتے ہوئے جواب دیا۔
یکایک دروازے پر زور دار دستک ہوئی اور دیوار پر لگی تصویریں ٹیڑھی ہو گئیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ دوسرا شخص اٹھا اور دھیرے دھیرے دروازے کی طرف بڑھا۔ اس کے ہاتھ تھرتھرا نہیں رہے تھے، بلکہ وہ ایک عجیب سی تال پر رقص کر رہے تھے۔اس نے ہینڈل گھمایا اور دروازہ کھول دیا۔باہر کوئی انسان نہیں تھا۔ صرف ایک بڑا سا آئینہ رکھا تھا جس پر خون سے لکھا تھا۔آپ کا وقت ختم ہو چکا ہے۔
پہلا شخص کرسی سے اٹھا اور آئینے کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا، لیکن وہاں اس کا چہرہ نہیں تھا۔ آئینے میں صرف ایک بہت بڑی قینچی نظر آ رہی تھی جو آہستہ آہستہ کھل اور بند ہو رہی تھی۔کتنی خوبصورت بات ہے۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔میں ہمیشہ سے جاننا چاہتا تھا کہ میری اصل شکل کیا ہے۔دوسرے نے الماری سے ایک ہتھوڑا نکالا اور اسے پہلے شخص کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا۔اب جب کہ تم اپنی حقیقت جان چکے ہو، تو اس عکس کو آزاد کر دو۔
ایک زوردار آواز گونجی۔ آئینہ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گیا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ فرش پر شیشے کے ٹکڑے نہیں گرے تھے۔ فرش پر ہزاروں چھوٹے چھوٹے لفظ بکھرے ہوئے تھے جو تڑپ رہے تھے۔پہلا شخص جھکا اور ایک لفظ اٹھایا۔ اس پر لکھا تھا۔مستقبل۔اس نے وہ لفظ اپنی جیب میں ڈالا، قینچی نکالی اور اپنی گردن پر رکھ دی۔تم کیا کر رہے ہو؟۔ دوسرے نے بڑے سکون سے پوچھا۔میں خود کو اس کہانی سے کاٹ رہا ہوں۔ اس نے جواب دیا۔کیونکہ مصنف قلم کی سیاہی ختم ہونے سے پہلے ہمیں مارنا بھول گیا ہے۔
ایک زوردار کچاک کی آواز آئی۔ لیکن کوئی خون نہیں بہا۔ اس کے جسم سے روئی برآمد ہونے لگی، جیسے وہ کوئی پرانا صوفہ ہو۔ دوسرا شخص یہ دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگا۔ اس کے قہقہے اتنے بلند تھے کہ کمرے کی چھت غائب ہو گئی اور اوپر آسمان کے بجائے ایک بہت بڑا سفید کاغذ نظر آنے لگا جس پر ایک دیو قامت قلم تیزی سے لکیریں کھینچ رہا تھا۔دیکھو ! دوسرے نے اوپر اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ہم صرف ایک فل اسٹاپ کے منتظر تھے۔پہلا شخص، جو اب آدھا کٹ چکا تھا، مسکرایا۔کتنا خوش قسمت ہے وہ فل اسٹاپ، جسے معلوم ہے کہ اسے کہاں رکنا ہے۔اور اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا، اوپر سے ایک سیاہ قطرہ گرا اور پورے منظر کو اندھیرے میں ڈبو دیا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں