ادھوری ملاقات/ علی عباس کاظمی

یہ بات اب ماضی لگتی ہے مگر کبھی یہ حال تھا کہ خط لکھنا بھی ایک پورا دن مانگتا تھا۔ قلم ہاتھ میں آتا تو الفاظ فوراً نہیں اترتے تھے دل کو پہلے سنبھالنا پڑتا تھا۔ شاید اسی لیے میں ہمیشہ خط لکھنے سے گھبراتا رہا۔ عجیب سا خوف تھا۔۔۔کہیں بات ادھوری نہ رہ جائے، کہیں لفظ جذبات کا بوجھ نہ اٹھا پائیں، کہیں املا کی کوئی غلطی اعتراض بن کر سامنے نہ آ جائے۔

پھر بھی ایک وقت تھا جب میں سکول کے زمانہ میں باقاعدگی سے بچوں کے رسائل میں کہانیاں اور خطوط لکھا کرتا تھا۔ ہر نیا شمارہ ہاتھ میں لیتے ہوئے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی۔۔۔کہ شاید اس بار میرا خط شائع ہو گیا ہو۔ تب خطوط کی اتنی اہمیت ہوتی تھی کہ بس لکھ دیا اور شائع ہو گیا۔۔۔ یہی کافی تھا۔ کوئی لائک، کوئی کمنٹ، کوئی فوری ردِعمل نہیں ہوتا تھا مگر دل مطمئن رہتا تھا۔

وقت نے کروٹ لی روزگار کی مجبوریوں نے مجھے دبئی پہنچا دیا۔ وہاں جا کر دو چیزیں ایسی دیکھیں جو آج سوچوں تو کسی خواب کا حصہ لگتا ہے۔ اس زمانے میں ٹیلی فون کالز مہنگی ہوتی تھیں، ہر منٹ ناپ تول کر بولا جاتا تھا اس کا متبادل آڈیو کیسٹ تھی۔آڈیو کیسٹ آتی تو سب سے پہلے محلے کا حال، پھر رشتہ داروں کی خیریت اور پھر آہستہ آہستہ پورے علاقے کی خیر خبر۔ ان آوازوں میں صرف الفاظ نہیں ہوتے تھے، سانسیں، خاموشیاں، ہنسی، دعائیں سب شامل ہوتیں۔

اور پھر خط۔۔۔ خط لکھنا اور خط پڑھنا واقعی ایک ادھوری ملاقات تھا، مگر اس میں ایک عجیب تسلی ہوتی تھی۔ والد صاحب اس فن کے ماہر تھے،ہر آنے جانے والے کے ہاتھ خط بھیجنا اور پھر ہر خط کے جواب کا انتظار کرنا ان کا معمول تھا۔ اگر کسی نے کسی بات کا جواب نہ دیا ہو تو اگلے خط میں باقاعدہ یاد دہانی کرواتےکہ“میں نے پچھلے خط میں یہ بات لکھی تھی اس پر آپ نے کچھ نہیں لکھا۔”

انہی خطوط نے میرے اندر لکھنے کا شوق پیدا کیا، مگر ساتھ ہی ایک خوف بھی۔ والد صاحب ہمیشہ کہتے تھے کہ خط یونہی نہیں لکھا جاتا، اس کا مقصد ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے میں ہمیشہ کنی کتراتا رہا۔ دوستوں کو شکوہ رہتا کہ میں بدل گیا ہوں، کہ پردیس نے مجھے لاپروا بنا دیا ہے۔ مگر سچ یہ تھا کہ میں خط میں وہ سب کچھ نہیں لکھ پاتا تھا جو دل میں ہوتا تھا۔

خط نویسی ایک بندھے بندھائے اصول پر چلتی تھی، جس سے انحراف جرم سمجھا جاتا تھا۔
“میں خیریت سے ہوں، آپ کی یاد آتی ہے۔”
“امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔”
اور آخر میں:
“جواب ضرور دیجیے گا۔”

یہ سب لکھا جاتا تھا مگر اصل بات اکثر ان سطروں کے بیچ کہیں گم ہو جاتی تھی۔ اگر خط مختصر ہوتا تو ناراضی، اور اگر طویل ہوتا تو شبہ کہ شاید کچھ چھپایا جا رہا ہے۔ خط لکھتے وقت یہ خوف الگ ہوتا کہ کہیں وہ پوچھ نہ لیں “سب لکھ دیا، مگر دل کا حال کیوں نہیں بتایا؟”

پھر وقت نے ایک اور پلٹا کھایا۔ ڈیجیٹل دور آ گیا۔ واٹس ایپ، میسج، وائس نوٹس، ویڈیو کال۔۔۔سب کچھ ایک انگلی کی جنبش پر۔ بات فوراً ہو جاتی ہے، خبر لمحوں میں پہنچ جاتی ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ اب کسی کی آواز سن کر دل نہیں کانپتا، کسی کے “آن لائن” ہونے سے تسلی نہیں ہوتی۔

اس کے مقابلے میں وہ آڈیو کیسٹ کا زمانہ، وہ خطوط کا دور کتنا سچا تھا۔ انتظار تھا مگر یاد بھی تھی۔ خاموشی تھی مگرتعلق زندہ تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو یاد رکھتے تھےچاہے جواب دیر سے آتامگر آتا ضرور تھا۔

اور اب۔۔۔
کچھ بھی ہوان خطوط کی مہک آج بھی دِلوں میں بسی ہے۔ آج بھی جب دل بے چین ہوتا ہے، زندگی کسی انجانی تھکن میں لپٹی محسوس ہوتی ہے تو میں والد صاحب کے وہ پرانے خطوط نکال لیتا ہوں جو اب تک سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔ کاغذ پیلا پڑ چکا ہے، روشنائی مدھم ہو گئی ہے مگر الفاظ آج بھی تازہ ہیں۔

وہ خطوط کھولتے ہی یوں لگتا ہے جیسے والد صاحب میرے سامنے بیٹھے ہوں، دھیرے دھیرے بات کر رہے ہوں، نصیحت بھی، دعا بھی۔۔۔ اور خاموش محبت بھی۔ ہر جملہ جیسے وقت کو چیر کر مجھ تک آ جاتا ہے۔ اس لمحے مجھے احساس ہوتا ہے کہ اصل رابطہ شاید کبھی الفاظ کا محتاج نہیں تھا اصل تعلق تو احساس سے جڑا تھا۔

اور آخری خط بند کرتے وقت دل پر ایک عجیب بوجھ سا آ جاتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے میں نے ایک بار پھر ان سے بات تو کر لی مگر جواب دینے کا موقع پھر بھی نہیں ملا۔ وہ خاموشی۔۔۔ جو خط کے بعد رہ جاتی ہےوہی سب سے زیادہ بولتی ہے۔
شاید اسی خاموشی میں ہی یہ حقیقت چھپی ہے کہ کچھ آوازیں، کچھ ہاتھ کی لکھی ہوئی سطریں اور کچھ یادیں۔۔۔ہمیشہ کے لیے ہمارے اندر زندہ رہتی ہیں۔۔۔ مگر ہم انہیں کبھی دوبارہ چھو نہیں سکتے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply