اختصار ایک دوہرا معیار ہے سطحی نظر میں یہ سہل انگاری اور بے توجہی کا پہلو دکھائی دیتا ہےمگر حقیقت میں اس میں مہارت حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی فنی ریاضت درکار ہوتی ہے۔ جامعیت اور اثر انگیزی کے ساتھ اختصار برتنا درحقیقت فنون لطیفہ کے سب سے دشوار ترین مراحل میں سے ایک ہے۔ پھر جب اس میں رمز و کنایہ، علامت سازی اور تجرید جیسے عناصر بھی شامل ہو جائیں تو چیلنج ایک نئی ہیئت اختیار کر لیتا ہے۔ مائیکرو فکشن کی صنف اسی نادر و نفیس اختصار کا شاہکار ہے۔مائیکرو فکشن ادب کی وہ منفرد صنف ہے جو چند سطروں میں کائناتی وسعتوں کو سمیٹ لیتی ہے۔ یہ فن قاری کے ذہن میں جذبات و خیالات کی لہر دوڑا دیتا ہے جبکہ مصنف کے لیے محدود الفاظ میں لامحدود معانی بیان کرنے کا ایک دلچسپ ہنر بھی ہوتا ہے۔ مائیکرو فکشن نے اردو میں نہ صرف اپنی شناخت مستحکم کر لی ہے بلکہ ایک ایسی روایت کی بنیاد رکھ دی ہے جو تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اردو مائیکرو فکشن کو نئی شناخت اور مقام دلانے میں خالد سہیل ملک کا نام خیبر پختونخوا کے ادبی منظر نامےپر ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی تازہ تصنیف”دوسرے جنم کا کینوس” ایک ایسی تخلیقی کوشش ہے جہاں خالد سہیل ملک معروضی دنیا (Objective World) کے ایک جزئیے کو اپنے ذاتی، موضوعی (Subjective) داخلیے کے ساتھ اس طرح جوڑتا ہے کہ دونوں کے ملاپ سے ایک تیسرابالکل نیا اور تخلیقی اظہاریہ وجود میں آتا ہے۔خالد سہیل ملک کے ہاں تخلیق کاری ایک فطری اور خودرو عمل ہے۔ اس میں اکتسابی عناصر کی موجودگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتالیکن یہاں کمال یہ ہے کہ وہ انہیں اس مہارت سے برتتے ہیں کہ پوری تخلیق ایک جیتے جاگتے فطری اظہار کا روپ دھار لیتی ہے۔ خالد سہیل ملک محبت جیسے فطری و ازلی جذبے کو ” تجرید میں بٹی محبت” میں فطری اور میٹا فزیکل انداز میں پیش کرتے ہیں جہاں محبت وجود کی آخری حقیقت تسلیم کرکے طبیعات قوانین سے بالا ہوجاتی ہے۔اسی طرح” شہ رگ کا تعاقب ” بھی فطری بیانیے کی دلیل ہے جوایک ماں کی بے بسی اور ان کے معصوم بچوں( ننگیال اور بریال )کی مجبوریوں کی کہانی ہے۔”رخ معدوم کا جگر” مجموعی سماجی بے حسی کا عنصر اور انسان کی المناک صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔شہوار کے کردار میں انتقام اور نفرت کہانی کے اختتام کو ظلم و جبر کے خلاف ایک طاقتور بیانیہ فراہم کرتی ہے ۔”جنریشن گیپ” جدیدیت اور روایت کے درمیان تصادم کو پیش کرتے ہوئے یادوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔جہاں یادیں پرانےانسان کی بقا کی ضمانت ہیں تو وہی یادیں نئے انسان کے لیے بوجھ۔”صیغہ بسمل” تخلیق کار اور اس کی تخلیق کے درمیان طاقت کے جدلیاتی تعلق کی بہترین تمثیل ہے۔ یہاں کرداروں کی بغاوت درحقیقت تخلیق کے اپنے ارتقائی قوانین اپنی خود مختار حیثیت اور اپنی الگ شناخت بنانے کی جدوجہد کی علامت ہے۔ “سنگ تراش” ایک ایسے شخص”‘مجید” کی کہانی ہے جس نے پتھر تراشی کے استعارے کے تحت اپنی شخصیت، عادات، لباس اور یہاں تک کہ خوابوں کو بھی معیاری اور ‘مکمل آدمی’ بنانے کے لیے اس طرح تراشا کہ وہ ایک پراعتماد کامیاب “مسٹر مجید”بن گیا جس کی اشرافیہ کی محفلوں میں خاص پذیرائی تھی۔ تاہم پروفیسر ندیم کے ایک سادہ اور بے ساختہ وجود اور اس کے پوچھے گئے بنیادی سوال آپ کون ہیں؟ نے اس کی اس مصنوعی کمال پذیر شخصیت میں دراڑ ڈال دی جس سے اس کے سامنے اس کی اصل ذات کے بحران اور شناخت کے سوال نے جنم لیا۔ یہ مختصر افسانہ درحقیقت جدید انسان کی اس داخلی کشمکش کو پیش کرتا ہے جہاں معاشرتی کامیابی اور مصنوعی کمال کے دباؤ میں اس کی اپنی اصلی ذات کہیں گم ہو کر رہ جاتی ہے۔”دوسرے جنم کا کینوس”بینائی کے متضاد محرکات کا عکس ہے ۔یہاں یہ واضح ہے کہ بینائی سے صرف روشنی ہی نہیں بلکہ اندھیرا بھی دکھائی دیتا ہے۔ یہ صرف رنگ برنگے منظر ہی نہیں دکھاتی، بلکہ انسانیت کی اچھائی اور برائی بھی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔”ملبے تلے دفن عید” جنگ کی تباہ کاریوں، انسانی المیے اور ٹوٹتی ہوئی رگوں میں دھڑکتے امید اور ایمان کے جزیروں کو انتہائی مؤثر طریقے سے پیش کرتا ہے۔ رافع کی معصوم خواہشوں اور کربناک حقیقت کے درمیان تضاد دل کو چھو لیتا ہے جہاں “مبارک” جیسا پر مسرت لفظ اپنے معنی کھو چکا ہے۔ ماں کی آنکھوں میں ٹپکتی خاموش فریاد اور اس کا یہ حکم کہ “نماز کے بعد کسی سے عید مبارک نہ کہنا” صرف ایک ذاتی المیہ نہیں بلکہ جنگ کے خلاف ایک گہرا اور درد سے بھرا احتجاج ہے۔
اس مجموعے میں مختصر افسانوی تخلیقات کے علاوہ متنوع اور انوکھے موضوعات پر مبنی تین سطری کہانیاں بھی شامل ہیں جو موضوعاتی و اسلوبیاتی تکمیلیت کی مثالیں ہیں۔ خالد سہیل ملک کی ان تخلیقات میں سادگی اور علامت نگاری کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ جہاں سادہ و شستہ زبان برتنے میں یکتا ہیں وہیں گہرے علامتی استعاروں کا استعمال بھی کرتے ہیں جو قاری کو فکر و تدبر کی نئی راہیں دکھاتے ہیں اور اسے معنوی تفکر پر مائل کرتے ہیں۔مجموعی طور پر خالد سہیل ملک مائیکرو فکشن اور مختصر افسانے کے میدان میں ایک منفرد اور توانا آواز ہیں۔ ان کا یہ مجموعہ نہ صرف اس صنف کی شائستہ روایت کو آگے بڑھائے گا بلکہ اپنی انفرادیت اور فنی بلندی کے باعث ایک یادگار اضافہ بھی ثابت ہوگا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں