ٹنوں کے حساب سے ہونے والی شاعری اور ہزاروں کی تعداد میں چھپنے والی کتابوں میں سچی بات یہ ہے کہ کم ہی کوئی ایساشعری مجموعہ ہاتھ آتاہے کہ جسے کھولتے ہی ایک سرخوشی کا احساس آپ کو جکڑ لے۔ میرے نزدیک شاعری ہوتی ہی وہ ہے جو منفرد ، تازہ اور جاندار ہو، باقی یاوہ گوئی یا زیادہ سے زیادہ کلام موزوں ہوتا ہے۔زیرنظر کتاب “ ہم ابھی رستے میں ہیں” نے، خاص طور پراس کی غزلوں نے، مجھے واقعی جکڑ لیا۔
یہ شاعری اول تا آخر تاثیر سے بھرپورہے اور یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کے ساتھ وقت گزارا جائے اوربار بار پڑھا جائے۔میں نے اپنی گزارشات کو ’’تاثیر حیرت کی دعا مانگتا ہوا شاعر‘‘ کا عنوان کتاب کی ابتدامیں دیے گئے دعائیہ سے لیا ہے۔مجھے اس کتاب کے دعائیے نے ہی روک لیا اور کافی دیر تک روکے رکھا۔
حیرت کیا ہے ؟ اس کے بارے میں ایک مغالطہ پایا جاتا ہے کہ یہ چونکانے کا عمل ہے۔نہ صاحب یہ چونکاناہرگز نہیں ہے بلکہ حیران کرنا کسی حد تک پریشان کر دینے کا نام ہے۔ایسی پریشانی جو سوچنے پر مجبور کر دے اور آپ کے تخیل کی جھیل میں ہلچل پیدا کر دے۔چونکانا بہت فوری اور کم دیرپا کیفیت کا نام ہے۔ ہمارا آج کا شاعر خاص طور پر نئی نسل کا شاعر چونکانے کی کوشش میں مصروف ہے۔اس کا ایک سبب تو خود یہ زمانہ ہے کہ جو تیز رفتاری سے معروف ہے۔جدید سوشل میڈیا جو فوری رسائی اور ردعمل کا میڈیم ہے،اس کا تقاضا ہے کہ آپ لوگوں کو چونکائیں، اور یوں لوگوں کی فوری توجہ حاصل کریں۔ توجہ کا حصول ،سستی اورفوری شہرت کی تمنا اور عجلت پسندی نے ہمارے شعری رویوں کوبھی متاثر کیا ہے۔ لیکن غنیمت ہیں حامد یزدانی صاحب جیسے سنجیدہ شعرا ،جو، ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ کے اصول پر عمل پیرا ہیں اور اپنا وقت اور اپنا آپ سنجیدگی سے شعر وادب کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔ تومیں عرض کررہا تھا کہ حیرت چونکانے سے آگے کا عمل ہے اور بہت مختلف کیفیت ہے۔ چونکنے میں آپ کا جذبہ شامل نہیں بھی ہوتالیکن شاعر کا مسئلہ وہ حیرت ہے جواس کی متخیلہ پر اپنے نقوش ثبت کرتے ہوئے اس میں کوئی تبدیلی لائے۔ اس حیرت کوتاثیر کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کی برکت سے حیرت لفظوں میں ڈھلتی ہے۔ اس حیرت کا ابلاغ تیسرا مرحلہ ہے۔ جو شاعر یہ تینوں مرحلے سر کر جائے وہ شاعر کہلاتا ہے۔
حامد یزدانی صاحب کی دعائیہ سطروں نے مجھے ایک تجسس میں مبتلا کر دیااور میں یہ سوچنے لگا کہ جس تاثیر حیرت کی دعا مانگی گئی ہے کیا وہ انھیں میسر ہوئی ہے یا نہیں ۔میں جوں جوں اس کتاب کا مطالعہ کرتا گیا ان کی دعا کے مستجاب ہونے کا یقین ہوتا گیا اور مسرت اس بات کی ہوئی کہ وہ حیرت بحیثیت قاری میرے دل و دماغ پر منکشف بھی ہوتی گئی ۔میں چونکہ غزل کہتا ہوں اور یہی میری محبوب صنف ہے سو میںغزلوں میں سے چند منتخب اشعار پیش کروں گا ۔ایسا ہرگز نہیں کہ یہ حیرت صرف انھی اشعار تک مخصوص ہے جو میں نے منتخب کیے ہیں ۔اس کتاب کی بیشتر شاعری میں یہ حیرت کسی نہ کسی رنگ میں جھلکتی ہے، میرے منتخب کردہ اشعاروہ ہیں جن میں حیرت نہ صرف تاثیر کے ساتھ بھرپور انداز میں منتقل ہوئی ہے بلکہ وہ کسی سطح پر ان اشعار کا ایک طرح سے موضوع بھی ہے۔
نعت کے اس شعر میں انھوں نے جس تاثیر کی دعا مانگی ہے اس کی قبولیت کا اشارہ بھی دیا ہے
یہ حبِ آل محمد کا فیض ہے حامد
کہ تیرے شعر میں تاثیر ہے ، نہیں ہے کیا؟
اس نعت میں اور خاص طور پر اس شعر میں اس ردیف کا لطف الگ ہے۔
اب دیکھیے کہ شاعر نے خواب اور حیرت کے امکانا ت سے متعلق کیسا خوبصورت اور زندہ رہنے والا شعر کہا ہے
مرے خیال کے سب روپ، اپنے حسن کی دھوپ
وہ لے اڑا ہے مرے خواب سے گزرتے ہوئے
حیرت او رآئینہ غزل کی شاعری کا مرغوب موضوع ہے۔ آئینہ خانے میں اس حیرت کامختلف انداز میں نظارہ کیجے
عہد رفتہ کے شکستہ عکس کی تکرار ہوں
تم سمجھ بیٹھے ہوکوئی آئنہ خانہ مجھے
آئنہ خانہ میں ہر سو ہے مرے عکس کی گونج
جانے کس سمت سے یہ مجھ کو صدا دی گئی ہے
اور دیکھیے کہ تاثیرِ حیرت کی توفیق ملتی ہے توکیا کیا منظر بنتے ہیں
وہ ایک سادہ سی شام تھی پر کسی نظر نے
اس ایک منظر سے کتنے منظر بنا لیے تھے
ریت کی سلوٹوں میں ڈھونڈتاہوں
ایک دریا کہ آئنہ تھا مجھے
اورکمال یہ ہے کہ یہ حیرت دشت امکاں میں بھی زمین سے جدا نہیں ہوتی:
یہ پرندے ہٹیں تو دیکھوں میں
آسماں کتنا خوبصورت ہے
پرندوں سے چہکتے آسماں سے
یہ شکوہ ہے کہ چپ ہوتا نہیں ہے
اور کبھی کبھی یہ حیرت شاعر کو اس مقام تک لےجاتی ہے کہ جہاں شش جہات معدوم ہونے لگتی ہیں:
دھرتی نہیں ہے پائوں کے نیچے یہ دھند ہے
نیلا دھواں ہے سر پہ مرے آسماں نہیں
اور کبھی کبھی تو یہ حیرت کچھ ایسے منظر قاری کے دل پر منکشف کرتی ہے کہ اسے مبہوت کر کے رکھ دیتی ہے:
روشنی نیند میں بکھرتی رہی
خواب جلتا رہا چراغوں میں
ٹیبل لیمپ کازرد اجالا فرش پہ رینگتا ہے
گیلے، گہرے سبز اندھیرے چھت سے چپکے ہیں
بہت سادہ سی اک دیوار تھی دیوارِہستی بھی
مرے ہونے کی حیرت نےمجھے حیران رکھا تھا
حامد یزدانی صاحب کے زیر نظر مجموعے کی تمام شاعری اسی حیرت سے عبارت ہے۔ ان کی شاعری کے کئی شیڈز ہیں اور ان شیڈزکے کئی پہلو ہیں، مثلاً، دیس سے دوری کا احساس، زندگی کی روانی اوراس کی بے ثباتی کا احساس اور زندگی کے
دکھ سکھ اور کیفیات و جذبات کہ جن میں سے ایک ایک پہلو پر تفصیل سے بات کی جاسکتی ہے اور اس تناظر میں اشعار بھی پیش کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر لاہور، اس کی یادوں کی گونج اوراس سے دوری کی کسک ،جواس کتاب کی شعری فضا پر حاوی ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں