بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ/ڈاکٹر مختیار ملغانی

عوامی شعور سماج کی حقیقت کو جاننے سے کتراتا ہے، بلکہ یہ اجتماعی شعور سماجی حقیقت کو افسانوی شکل دینے میں آسانی محسوس کرتا ہے کہ حقیقت جس قدر تلخ ہے اسے نہ ہی چھیڑا جائے تو بہتر ہے ۔ سماجیات بطور مضمون کچھ زیادہ پرانا نہیں ، سترھویں اٹھارویں صدی کی مثبت سماجیات سے لے کر مارکس کے نظریات تک کہ سوشیالوجی اپنی اصل میں سماج اور فرد کے باہمہ تعلق کی حقیقت سے نظر چرانے کی ” علمی ” کوشش ہے۔

انسان اپنی پیدائش کے بعد سے جو کچھ بھی سیکھتا ہے ، اس میں اس کے اپنے فطری اور خالص مشاہدے کا دخل بہت کم ہے، بحیثیت مجموعی سماج ہی فرد کو سب کچھ سکھاتا ہے، اس کی فکر اور اقدار سماج طے کرتا ہے، گویا کہ فرد کسی چکنی مٹی کی مانند سماج کے ہاتھ آتا ہے اور سماج اسے اپنی مرضی کی شکل دیتا جاتا ہے، اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ کوئی بھی انسان کبھی اپنے خواب میں ایسی کوئی انفرادی علامت نہیں دیکھتا جو اس سے پہلے آج تک نہ کسی نے دیکھی ہو اور نہ سنی ہو ، یا ایسا خواب جس کی تعبیر کوئی حقیقی ماہر بتانے سے قاصر ہو، خوابوں کی تعبیر میں یہ یکسانیت ظاہر کرتی ہے کہ انسان کا لاشعور بھی ایک اجتماعی لاشعور کے زیر اثر ہے ، یہ سماج کی انفرادیت پہ گرفت کو ظاہر کرتا ہے ۔ فرد کو معاشرے کی اکائی اسی لئے کہا جاتا ہے کہ فرد فقط ایک اینٹ کی طرح ہے اور سماج اس اینٹ کو اپنے مقاصد کی تعمیر و تعبیر میں استعمال کرتا ہے۔

فرد مادہ اور سماج جوہر ہے ، سماج نہ تو عوام ہے اور نہ ہی ملک و ریاست، سیاسی ، تعلیمی اور عسکری ادارے بھی سماج نہیں ، منڈیاں اور کاروباری مراکز بھی اس کیٹاگری میں نہیں آتے، بلکہ درج بالا تمام اکائیوں کے باہمی تعلق کو بھی سماج کہنا ممکن نہیں، تو پھر سماج کی تعریف کیا ہے؟

سماج ایک پراسرار حقیقت ہے ، یہ زمین پر اس آسمانی وجود اعظم کی عملی طاقت کا اظہار ہے جس وجود اعظم کی طرف پجاری ذات کی تمام کوششوں کا رخ ہے، ایسی کوششیں جو فانی انسان کو لافانی کائنات سے جوڑنے اور غیر مادی اشیاء کے تبادلے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں، یہ تبادلہ روایات کے قیام سے کیا جاتا ہے، چاہے وہ روایات مغربی ( عقلی و فلسفیانہ ) ہوں یا مشرقی (مذہبی و مافوق الفطرت )، روایات کا منبہ یہی وجود اعظم ہے اور ان کے قیام و منسوخ کا اختیار حرم میں بیٹھے پروہت کے پاس ہے ۔اس تصور کو سب سے پہلے فرانسیسی انقلاب کے سب سے بڑے اور مضبوط سیاسی گروہ Jacobins نے سمجھا اور آشکار کیا, Jacobins کی اکثریت بورژوا سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ دنیا کے ہر انقلاب کے پیچھے اصل وجوہات میٹافزیکل ہوتی ہیں، فزیکل (سیاسی معاشی ) وجوہات کی حیثیت ثانوی ہے ( یہ علیحدہ موضوع ہے )، فرانسیسی انقلاب کے اصل بانی Emanuel Joseph Sieyes سکہ بند پادری تھے۔

یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ قبائل کو سماج کہنا درست نہیں ، قبیلے اور سماج میں فرق ہے، فرق یہ کہ قبیلے کا کوئی بھی آدمی سماج میں آکر اسی سماج کا حصہ بن سکتا ہے لیکن سماج کا آدمی قبیلے میں جا کر اس قبیلے کا مستقل حصہ نہیں بن سکتا، وہ ہمیشہ اجنبی رہے گا، یہ بات رومی اور یونانی ماہرین اچھی طرح جانتے تھے، اپنے سماج سے باہر کے آدمی کیلئے وہ Barbarian کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ قبائلی آدمی کی تعریف بڑی جان جوکھوں کا کام ہے، شاید یوں کہا جائے تو درست ہوگا کہ قبائلی آدمی وہ فرد ہے جو ماورائے وقت کسی اساطیری کہانی کے خاص تعلق کی تخلیق میں مصروف ہے ، ہر قدیم قبیلے کے پاس اپنا ایک مخصوص اسطورہ، کہانی یا رسم ہوتی ہے ، اس میں شریک ہونا انسان کو وقت کی حد سے باہر لے جاتا ہے، جہاں وجودیت کا اپنا ایک خاص تصور ہے، اور اسی دائرے میں طواف کرتے رہنے سے فرد کے اپنے قبیلے کے دوسرے افراد کے ساتھ ذاتی تعلقات بھی پائیدار ہوتے ہیں۔ یوں قبائلی فرد فقط مادہ نہیں رہتا بلکہ خود کو جوہر محسوس کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ قبائلی آدمی جزوی طور پر ہی وجود اعظم کے زیر اثر ہو سکتا ہے مگر مکمل نہیں ، سماج کا آدمی البتہ کسی طور وجود اعظم کی اثر سے باہر نکل سکتا ۔ سماج کا آدمی کسی قبیلے میں چلا جائے تو ایسا نہیں کہ وہ وہاں انسانی سطح پہ کوئی اجنبیت محسوس کرتا ہے، بلکہ اسے وہاں اخروٹ کے چھلکے جیسی مضبوط بندش دکھائی دیتی ہے، گویا کہ قبیلہ زمان و مکاں کے کسی خاص ٹکڑے کو کاٹ کر اس پہ اپنی اسطورہ کے طواف میں غرق ہے اور یہ جینیاتی و جادوئی شراکت صرف اسے حاصل ہے جو اس قبیلے کا حصہ ہے۔

قبیلے کے اس اخروٹی پردے کو حرم کہا جائے تو درست ہوگا، اس حرم کے باہر جو بھی ہے وہ ” غیر مقدس ” ہے اس کیلئے انگریزی میں profanism کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے، سماج جہاں ایک طرف حرم کے باہر ہے وہاں دوسری طرف وجود اعظم کی مافوق الفطرت طاقتوں کے اظہار کا پلیٹ فارم بھی ہے تو ایسے میں سماج کو ، مقدس غیر تقدس کا پیراڈیکس کہا جا سکتا ہے، سیکولر اور لبرل شعور کی ابتداء اسی profanism سے ہوئی، دوسرے الفاظ میں سماج ہی لبرل اور سیکولر اقدار کو جنم دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے مثبت اور منفی، دونوں اطراف سے ڈسکس کیا جا سکتا ہے ۔ ایک طرف تازہ ہوا یعنی نئی فکر کے جھونکے کی گنجائش فقط سماج سے اٹھ سکتی ہے، قبیلہ اس کا حامل نہیں ، مگر دوسری طرف اخروٹ کی بجائے یہاں فقط انڈے کے چھلکے جیسی بندش ہے تو وجود اعظم سے جڑی روایات و خرافات و رسومات قدرے آسانی کے ساتھ انڈیلی جا سکتی ہیں۔ روم اور یونان پہلے ایسے معاشرے تھے جنہوں نے اس اخروٹی چھلکے کو اتار پھینکا ، یہی وجہ ہے کہ قدیم علوم میں دلچسپی کے محور آج بھی یہی دو خطے ہیں ۔

julia rana solicitors london

یہ دونوں معاشرے مگر قدیم تھے اور اس میں سب سے گھاٹے میں اگر کوئی رہا تو وہ حرم کے اندر بیٹھا برہمن ذات پروہت تھا، وہ اس لئے کہ پروہت فقط سماج اور وجود اعظم کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھا، وجود اعظم کی اس کیفیت یا اس طاقت، جسے سنسکرت می غالباً اناندا کہا جاتا ہے، تک پہنچنا پروہت کیلئے ممکن نہیں تھا جس کی بدولت وہ almighty کے عہدے پر فائز ہو سکتا، اور اس عہدے تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی وہی جینیاتی صلاحیت تھی جو اس کی سب سے بڑی طاقت بھی تھی، یعنی کہ عقلی مشاہدے کی طاقت، رب اکبر کا نعرہ فرعون نے لگایا مگر حرم میں موجود پروہت دیکھتا رہ گیا، یروشلیم میں مقدس حرم کے سامنے ایمپرر ایڈریان کا مجسمہ تو لگا دیا گیا مگر جس کی بدولت یہ ممکن ہوا وہ پروہت بس ملازم ہی رہا، یہی وجہ ہے کہ آج یہ برہمن ذات پروہت کسی سیاسی یا عسکری فرد کو اس عہدے تک پہنچانے کی بجائے خود یہ عہدہ لینا چاہتا ہے تو اسے نئے سماج کی ضرورت پڑی جہاں اخروٹ تو کیا، انڈے کے چھلکے جیسی رکاوٹ بھی دخل انداز نہ ہو، جس وقت خراج کی قیمت بڑھ جائے اور سماج کی اوپری سطح کو اس حد تک نچوڑا جا چکا ہو کہ وہ اپنے وقت اور توانائی کا مزید خراج دینے سے قاصر ہوں تو پروہت بنام انقلاب اس سطح کو نیچے والی سطح سے بدل دے گا جن میں ابھی توانائیاں باقی ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply