تہوار کیوں ضروری ہیں-سائرہ رباب

نوآبادیات محض فوجی قبضے کا نام نہیں۔ جب بھی کوئی کولونائزر کسی خطے پر قابض ہوتا ہے تو اس کا بنیادی مقصد وسائل، خام مال اور محنت کی لوٹ کھسوٹ ہوتا ہے، اور مقامی لوگوں کو ان کی زمین، جغرافیہ اور حقِ ملکیت سے نفسیاتی طور پر بے دخل کرنا ہوتا ہے۔
چھوٹے رقبوں اور آبادیوں میں یہ کام نسل کشی اور براہِ راست تشدد سے ممکن ہو جاتا ہے، مگر ہندوستان جیسے وسیع خطے میں یہ فارمولا ناکام رہتا ہے۔ چنانچہ یہاں soft power استعمال کی جاتی ہے اور اس کا پہلا ہدف ثقافت اور زبان بنتی ہے۔
زبان کو ختم کرنے کا مطلب ہے اُس قوم کے علم، یادداشت، تہذیب، تشخص اور ماضی کو مٹا دینا….وہ سب کچھ جو فرد کو اپنی زمین سے جوڑ کر حق اور خودمختاری کا احساس دیتا ہے۔ برطانوی نوآبادیاتی بیانیے نے یہی کیا۔ مقامی زبانوں اور علوم کو کمتر ثابت کرنے کے لیے انہوں نے نہ صرف تعلیمی نظام بدلا بلکہ مقامی انسان کو بھی “غیر مہذب” ثابت کیا۔ برطانوی نوآبادیاتی تحریروں میں ایک جملہ بار بار دہرایا جاتا ہے:
“ہندوستانی بندروں کے مشابہ ہیں، زمین پر اکڑوں بیٹھتے ہیں، ہاتھ سے کھانا کھاتے ہیں، ان کی معاشرت میں کوئی تہذیب نہیں۔”

یہ محض گالی نہیں تھی، بلکہ ایک سیاسی ہتھیار تھا…جس کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا کہ مقامی علم، زبان، تہوار اور طرزِ زندگی “کمتر” ہیں، اور یورپی تہذیب “واحد معیار”۔ اسی منطق کے تحت مقامی تعلیم، فلسفہ، طب، زراعت اور تہذیب کو رد کر کے “ماڈرن ایجوکیشن” نافذ کی گئی، تاکہ ایسے مقامی پیدا کیے جائیں جو اپنی دھرتی سے کٹے ہوں مگر نوآبادیاتی مفادات کے لیے کارآمد ہوں۔
(Ngũgĩ wa Thiong’o اسی عمل کو colonization of the mind کہتا ہے۔)

اسی نوآبادیاتی ذہنیت کے تسلسل میں، آزادی کے بعد گورے انگریزوں کی جگہ براؤن انگریز آ گئے۔ پنجابی جیسی قدیم، زرخیز اور علم و حکمت سے بھرپور زبان کو Language of the lower class قرار دے کر پنجابیوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا گیا، اور انہیں اپنی زمین، وسائل اور ہزاروں سالہ شناخت سے بیگانہ کر دیا گیا…انگریزی اور اردو کے بیچ ایسی دوڑ میں دھکیل دیا گیا جہاں جڑیں کہیں پیچھے رہ گئیں۔
پھر گلوبلائزیشن، ماڈرنائزیشن اور اربنائزیشن کے نام پر نیو کولونیلزم آیا۔ اب قبضہ فوج سے نہیں، مارکیٹ سے ہونے لگا۔ ہم غلام نہیں رہے، بلکہ کنزیومرز اور سستی لیبر بن گئے۔ ہماری تعلیم نے ہمیں کبھی انگریزی تہذیب سے جوڑا، کبھی عرب سے…مگر اپنی دھرتی سے نہیں۔ یوں وہ تمام مقامی تہوار، ہیروز اور روایات غائب ہو گئیں جو ہمیں ایک کمیونٹی بناتی تھیں: خودمختار، آزاد اور مطمئن انسان۔

یہ محض ثقافتی زوال نہیں تھا، بلکہ کمیونٹی کے بطور جینے کی صلاحیت پر براہِ راست حملہ تھا۔ کیونکہ جس سماج سے اس کے اجتماعی عمل چھین لیے جائیں، وہ آہستہ آہستہ ہجوم میں بدل جاتا ہے….لوگ تو رہتے ہیں، مگر رشتہ نہیں رہتا۔
تہوار محض تفریح یا وقتی خوشی کا نام نہیں ہوتے، بلکہ وہ کسی بھی سماج کی اجتماعی یادداشت اور اجتماعی خودمختاری کا عملی اظہار ہوتے ہیں۔ تہواروں کے ذریعے لوگ اپنی زمین، موسم، محنت، زبان اور باہمی رشتوں کو مناتے ہیں….یعنی وہ سب کچھ جو ایک کمیونٹی کو ریاست یا منڈی کے بجائے اپنے اندر سے جڑا ہوا بناتا ہے۔ جب لوگ اکٹھے ہو کر گاتے، کھیلتے، بانٹتے اور مناتے ہیں تو وہ غیر محسوس طریقے سے مقابلے، تنہائی اور خوف کے بیانیے کو توڑ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوآبادیاتی اور نیو کولونیل طاقتیں سب سے پہلے تہواروں کو یا تو مسخ کرتی ہیں یا ختم کر دیتی ہیں، کیونکہ تہوار خودمختار انسان پیدا کرتے ہیں…..ایسے انسان جو صرف صارف یا فرمانبردار شہری نہیں ہوتے بلکہ ایک زندہ کمیونٹی کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس لیے تہواروں کا تحفظ دراصل ثقافت کا دفاع نہیں بلکہ آزادی کی حفاظت ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے اپنی دیسی، صحت مند غذاؤں کو چھوڑ کر فاسٹ فوڈ اپنایا؛ اپنی زبان اور ثقافت پر شرمندہ ہو کر غیر زبانوں کو “ترقی” سمجھا, رشتوں اور کمیونٹی کے بجائے اسٹیٹس اور برانڈز کے پیچھے دوڑ لگائی۔ Frantz Fanon کے مطابق یہی وہ مرحلہ ہے جہاں نوآبادیات انسان کو اندر سے خالی کر دیتی ہے….وہ نہ پورا اپنا رہتا ہے، نہ مکمل دوسرا۔. آدھا تیتر آدھا بٹیر
آج ہم ایک ایسی دہریت میں مبتلا ہیں جہاں ہم جو ہیں، وہ دکھا نہیں سکتے، اور جو نہیں ہیں، بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری پبلک اور پرائیویٹ زندگی میں تضاد ہے، اور یہی تضاد سماج کو منافقت میں بدل دیتا ہے۔
اسی لیے آزادی اور خودمختاری کا خواب زبان، کلچر، تہوار ، شناخت اور دھرتی سے جڑے بغیر محض ایک سراب ہے۔ ہمیں اپنی جدت کو ماضی سے جوڑنا ہو گا، اپنی جڑوں سے دوبارہ رشتہ بنانا ہو گا۔
تو آئیے!!
اپنی زبان، اپنے کلچر، اپنی شناخت اور اپنے تہواروں کی نئے سرے سے تجدید کریں۔
انہیں زندہ کریں، ان سے ناطہ جوڑیں، اور ایک مضبوط کمیونٹی بن کر ہر استحصالی قوت کا مقابلہ کریں۔
کیونکہ تہوار ہی وہ عمل ہیں جو ہمیں دھرتی سے جوڑتے ہیں، اور مقابلے، حسد اور نفرت کی جگہ محبت، اتحاد اور تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply