شکریہ, عمرلودھی۔۔۔۔منم تلوار می رقصم

قصہ  کوئی سال بھر پرانا ہے  کہ میں اپنے ایک دوست کےگھر تھا ۔لائٹ کسی خرابی کے باعث بند تھی اور  گرمی کی وجہ سےچارپائی گلی میں رکھی تھی۔    میرے  دوست نے اپنی گلی سے گزرتے لائن مین سے  شرارتاً   بل کم آنے کےلیے”رابطہ ” کیاتو اس نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا “یار ، صاحب بہت سخت ہیں، میری جان نکال لیں گے” ۔ہم سمجھ گئے کہ یہ اس کا ریٹ بڑھانے کا انداز ہےچنانچہ اسے انتہائی معقول آفر دی گئی۔ اس کے انداز سے واضح پتہ چل رہا تھا کہ وہ اتنی پُرکشش آفر ٹھکرانا بھی نہیں چاہتا مگر   وہ اسے قبول کرنے کی جرأت بھی نہیں کر  پا رہا۔صورتحال کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے جب آفر مزید بڑھائی گئی تو اس کا جواب  اس کے ڈر اور خوف کی مکمل عکاسی کرنے لگا کہ “یار ، تم خود بھی مرو گے اور مجھے بھی مرواؤ گے۔ لگتا ہے تم نے عمر لودھی کا نام نہیں سنا” ۔

اس کے ذہن میں عمر لودھی ایسا غیر مرئی کردار تھا کہ وہ لائن مین جہاں بھی دونمبری کرنے کی کوشش کرے گا ،عمر لودھی کو فوراً پتہ چل جائے گا اورپھر  اس کی جا ن بخشی ممکن نہیں۔ لائن مین  توچلا گیا مگر ہمیں وہ انجانے میں بے حد سکون دے گیا۔ اس بات کا سکون کہ اب اگر کوئی واپڈا ملازم ہمیں تنگ کرے تو چلو کوئی تو ہے جس کے پاس داد رسی کے لیے جایا سکتا ہے۔ میرا یہ سکون قریباً چھ ماہ برقرار رہا۔

کوئی چھ ماہ پرانی بات ہے کہ مجھے شجاع آباد کے علاقہ میں ایک صنعتی کنکشن لگوانے کی ضرورت پڑی۔کنکشن  لگوانے کے  موقع  کا معائنہ کرنے کی ایک باریش بزرگ کی ڈیوٹی تھی۔ان سے ملاقات پر معلوم ہوا کہ وہ  دیسی مرغی کے ساتھ کھانا کھلانے کی یقین دھانی کے بغیر ہلنے کو تیار نہیں۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس سفید داڑھی والے شخص نے انتہائی مکروہ انداز میں ہنستے ہوئے کہا کہ”سر جی، ٹیوب ویل کے کنکشن کی منظوری کے ریٹ کا تو آپ کو پتہ ہی ہو گا”   کیا مطلب؟  میں نے پوچھا۔  اس نے کہا ” سر جی، میرا مطلب ہے کہ مٹھائی آپ پہلے دیں گے یا کام ہونے کے بعد؟”

میں نے اس پر جھوٹا رعب جھاڑتے ہوئے کہا،”میں عمر لودھی صاحب سے کہوں کہ وہی تمہیں مٹھائی کھلا دیں؟میرا بہت اچھا تعلق ہے ان سے۔”

اس کا جواب  میری توقع کے برعکس تھا۔اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ دیکھو اگر تم نے کام کروانا ہے تو وہ تو میں ہی کر سکتا ہوں ۔اس کے فرعون سے لہجے میں اس قدر بے رخی تھی کہ میں یہ سوچنے پر  مجبور ہو گیا کہ عمر لودھی صاحب سے شکایت  کا پروگرام ترک کر کے اسی کے ساتھ “مک مکا” کر لوں کیونکہ دوسرے راستے میں پریشانی زیادہ نظر آ رہی تھیں ۔میں حیران تھا کہ ایک طرف تو لائن مین کا  اس قدر ڈر خوف جبکہ دوسری جانب اس باریش شخص کا کھلم کھلا رقم کا مطالبہ۔ میں نے مجبوراً اسے رقم تھمائی اور اپنا کیس اس عدالت کے لیے رکھ چھوڑا جہاں بہر حال انصاف ملنا  یقینی ہے ۔ وقت گزرتا گیا لیکن  یہ واقعہ اکثر میرے ذہن میں آجاتا۔

3 دن پہلے اخبار میں خبر پڑھنے کو ملی کہ : ” ایس۔ای ملتان عمر لودھی نے محکمانہ کاروائی کا فیصلہ سناتے ہوئے  (ی) کو نوکری سے برخاست کر دیا”

خبر سنتے ہی ایسا سکون ملا گویا پچھلے چھ ماہ سے دل اسی خبر کے انتظار میں تھا۔

خوشی ہونے کے ساتھ ساتھ ضمیر اس چیز پر ملامت بھی کر رہا ہے کہ   شاید عمرلودھی یہ کام چھ ماہ پہلے ہی کر دیتے اگر میں بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لیے تھوڑی مشکل برداشت کر سکتا۔اپنے قومی محکموں میں موجود ایماندار افسران کی حوصلہ افزائی ہمارا فرض ہے۔اگر آپ بھی کسی ایسے کردار کے بارے میں جانتے ہیں تو اس کے بارے میں ضرور لوگوں  کو آگاہ کیجیے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *