یہ تحریرلکھتے ہوئے بار بار ایک خیال ذہن میں چبھتا ہے کہ آخر ہم کب سے یہ طے کرنے لگے کہ ہماری زندگی کا پیمانہ لوگوں کی زبانیں ہوں گی؟ شاید اسی دن سے جب ہوش سنبھالا اور پہلی بار یہ جملہ سنا کہ “لوگ کیا کہیں گے۔” یہ جملہ ہمارے کانوں میں اذان کی طرح نہیں، مگر تقدیر کے کسی اَن لکھے قانون کی طرح اتر جاتا ہے۔ بچپن میں کھیلتے ہوئے، جوانی میں خواب بُنتے ہوئے اور بڑھاپے میں پچھتاووں کو سمیٹتے ہوئے۔۔۔ ہر مرحلے پر یہی آواز پیچھا کرتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ یہ “لوگ” آخر ہیں کون، ان کا اختیار کہاں تک ہےاورکیا دوسروں کے فیصلے ہماری باطنی کائنات کا مرکز بن چکے ہیں؟
بندے کا انسانوں سے خوف کھانا اس بات کا اعلان ہے کہ دل میں خدا کا خوف مدھم ہو چکا ہے اور جب دل میں خدا کی جواب دہی کا احساس مدھم پڑ جاتا ہے تو انسان اپنی حفاظت کے لیے ایک “نیا خدا ” تراش لیتا ہے اور وہ خدا “لوگ” ہوتے ہیں،یہی لوگ جن کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے ہمیں اپنا سچ چھپانا پڑتا ہے، یہاں جینے کا سلیقہ یہی سکھایا جاتا ہے کہ اپنی پسند سے انکار اور خوابوں سے فاصلہ رکھا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ خوف ہمیں بہتر انسان بناتا ہے یا صرف ایک محتاط منافق؟
جو ہجوم سے الگ سوچے، وہی ہجوم کے غیظ و غضب کا نشانہ بنتا ہے۔ کوئی فن سے محبت کرے، کوئی علم سے، کوئی خاموشی سے، کوئی تنہائی سے۔۔۔ روایت کے بھاری پتھر تلے شوق کچلے جاتے ہیں۔۔ سماج کے آئینے میں ایک ہی روزی کسی کے ماتھے کا جھومر اور کسی کے لیے سر جھکانے کی وجہ بن جاتی ہے۔ اصل مسئلہ کام نہیں۔۔۔ کرنے والا ہوتا ہے۔یہاں ہنر اور گناہ کا فرق کردار سے نہیں، شناخت سے کیا جاتا ہے تب سمجھ آتا ہے کہ انصاف کا تعلق اصولوں سے نہیں۔۔۔ شناخت سے ہے۔
لباس، عبادت، مطالعہ، تخلیق۔۔۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں لوگوں کی زبانیں خاموش ہوں۔ کوئی اچھا کپڑا پہن لے تو نیت پر شک، کوئی سادہ رہ لے تو غربت پر طنز، کوئی عبادت کرے تو ریا کا الزام، کوئی خاموش رہے تو سازش کا گمان۔ یہاں خاموشی بھی جرم ہے اور بولنا بھی، جینا بھی مشکوک ہے اور نہ جینا بھی۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب تک یہ سب سنتے رہیں گے؟
وقت کے ساتھ ساتھ یہ خوف ہماری اگلی نسلوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ بچے سیکھ لیتے ہیں کہ اچھا بننے کا فائدہ نہیں، مختلف ہونے کی سزا ملتی ہے اور اپنی مرضی جینے کا مطلب تنہائی ہے۔ سماج نے انسان کو نہیں، انسان کے عکس کو پرکھنا سیکھ لیا ہے۔ سب ایک جیسے کپڑے، ایک جیسے خواب، ایک جیسے خوف لے کر چلتے ہیں۔۔۔ جو ذرا سا الگ ہوا۔۔۔ وہ نظام سے باہر پھینک دیا گیا۔
تجربہ یہی بتاتا ہے کہ لوگوں کی باتوں نے نہ کبھی کسی کو برائی سے روکا، نہ کبھی کسی کو بھلائی پر آمادہ کیا۔ یہ باتیں محض شور ہیں۔۔۔پس منظر کا شور۔۔۔ جو ہر دور میں رہا ہے۔ اصل فیصلے انسان اپنے اندر کے خوف، خواہش یا مجبوری سے کرتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ہم نے اس شور کو اپنی زندگی کا مرکز کیوں بنا لیا؟
شاید اصل آزادی اسی دن ملے جب ہم یہ مان لیں کہ ہر اچھا کام سب کو اچھا نہیں لگتا اور ہر برائی سب کو بری نہیں لگتی۔ شاید سکون اسی لمحے آئے جب ہم لوگوں کی زبانوں کو ان کے کام پر چھوڑ دیں اور اپنی زندگی کو اپنے ضمیر کے حوالے کر دیں۔ آخر لوگ تو باتیں کریں گے ہی اگر ہم کچھ کریں تب بھی اگر کچھ نہ کریں تب بھی۔۔۔ کیوں نہ ہم اپنی پسند کو جرم نہ سمجھیں اور خوابوں کو دفن نہ کریںبلکہ انہیں جینے دیں؟

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے آج لوگوں کے ڈر سے ایک قدم پیچھے ہٹا لیا تو کل ہمارا ضمیر ہم سے کیا سوال کرے گا؟ کیا ہم اس دن یہ کہہ سکیں گے کہ ہم نے اپنی زندگی خود جی یا یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہم نے ساری عمر دوسروں کی زبانوں کے اشاروں پر سانس لی؟ کیا ہم واقعی اتنے کمزور ہیں کہ چند جملوں کے بوجھ تلے اپنے خواب دفن کر دیں یا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم قہقہہ لگا کر آگے بڑھیں اور خود سے پوچھیں۔۔۔ آخر کب تک؟ اور کس کے لیے؟
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں