• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • گلگت بلتستان: ماحولیاتی آلودگی پر مثبت اثرات اور موسمیاتی چیلنجز/شیر علی انجم

گلگت بلتستان: ماحولیاتی آلودگی پر مثبت اثرات اور موسمیاتی چیلنجز/شیر علی انجم

گلگت بلتستان قدرت کی حسین وادیوں اور بلند پہاڑوں کا گہوارہ ہے، اس بار بہت تاخیر کے ساتھ شدید برف باری کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ جنوری کے آخری ہفتے میں ہونے والی یہ برف باری، جو عام طور پر سال گزشتہ نومبر کے آخر میں شروع ہوتی تھی، اب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا۔ یہ برف باری نہ صرف گلیشیرز کی افزائش کرتی ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے اور پانی کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم، سیاحت کی بڑھتی ہوئی یلغار اور انسانی سرگرمیوں نے اس خطے کے قدرتی طور پر صاف شفاف ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو کراچی جیسی شہری آلودگی کی یاد دلاتا ہے۔ یقیناً پانی قدرت کا انمول تحفہ ہے اور گلگت بلتستان میں قطبین کے بعد میٹھے پانی کا دوسرا بڑا ذخیرہ گلیشیرز کی شکل میں موجود ہے۔ یہاں تقریباً تیرا ہزار سے زائد گلیشیرز ہیں جو دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کو پانی فراہم کرتے ہیں، جو پاکستان کی زراعت اور بجلی کی پیداوار کا اہم ذریعہ ہیں۔ برف باری گلیشیرز کی افزائش نسل کرتی ہے، یعنی برف کی تہہ گلیشیرز کو پگھلنے سے بچاتی ہے اور ان کی موٹائی میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرتی ہے کیونکہ برف کی تہہ فضائی آلودگی کو جذب کرتی ہے اور پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نظامِ زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے، گزشتہ کئی سالوں سے سیاحت کے نام پر وسائل اور نظام کے بغیر سیاحوں کی یلغار نے خطے کے ماحول کو شدید متاثر کیا ہے۔ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ٹھوس کچرا، فضائی آلودگی، پانی کی آلودگی اور جنگلات کی کٹائی کو جنم دیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ اس خطے کو کراچی جیسی شہری الودگی کی طرف دھکیل رہا ہے اور لوگ اسے ترقی سمجھ کر خاموش بیٹھے ہیں، حکومت نااہلی اپنی جگہ لیکن عوام نے اپنے اندر احساس زمہ داری پیدا نہیں کیا تو موسمیاتی تبدیلیوں نے گلگت بلتستان کو مکمل طور پر جکڑ لینا ہے۔ نومبر اور دسمبر میں برف باری کے بجائے بارشیں ہونے لگی ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کا واضح اشارہ ہے۔ اس کی وجہ سے گلیشرز تیزی سے پگھل رہا ہے جس سے گلیشرز پھٹ کر تباہی پیدا کر سکتا ہے،یعنی گلگت بلتستان میں گلیشرز لیک آؤٹ برسٹ فیلڈز(GLOFs) کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یہ تبدیلیاں نہ صرف مقامی آبادی کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ پورے خطے کی بقا کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ گلگت بلتستان کی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (GBEPA) کے مطابق، برف باری اب جنوری اور فروری میں منتقل ہو گئی ہے، جس سے برف کی کمپیکٹ ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے اور گلیشیرز پر منفی اثرات پڑتے ہیں مزید برآں، جنگلات کی کٹائی، سڑکوں کی تعمیر، سیاحت کی وجہ سے ٹریفک کی آلودگی اور گلیشیرز کے قریب انسانی سرگرمیاں اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ تاہم، قدرت نے جنوری کے آخری ہفتے میں شدید برف باری کی شکل میں مہربانی کی ہے۔ یہ برف باری گلیشیرز کی صحت کو بہتر بنائے گی کیونکہ برف کی تہہ گلیشیرز کو پگھلنے سے بچاتی ہے اور پانی کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق، برف باری سیاہ کاربن جیسی آلودگی کو جذب کرتی ہے، جو گلیشیرز کی سطح کی عکاسی کو کم کر کے پگھلاؤ کو تیز کرتی ہے۔ اس کے فوائد میں شامل ہیں: زراعت کے لیے پانی کی فراہمی کا اضافہ، ماحولیاتی توازن کی بحالی، اور سیلاب کے خطرات میں کمی۔ برف باری پانی کی کمی کو دور کرتی ہے، جو مقامی کمیونٹیز کی لائیو لائیوہڈز کو سپورٹ کرتی ہے۔ مزید برآں، یہ سیاحت کو فروغ دیتی ہے، جو معیشت کا اہم ستون ہے، لیکن اسے ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ کیونکہ سیاحت کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سنگین ہیں۔ گلگت بلتستان میں سیاحت نے روزگار کے کثیر مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن ایک اندازے کے مطابق ٹھوس کچرا (گرمیوں میں 55 ٹن یومیہ)، پانی کی آلودگی، فضائی آلودگی اور جنگلات کی کٹائی کا سبب بھی بنتی ہے اور سیاحوں کی گاڑیاں ٹریفک جام اور آلودگی کا باعث بنتی ہیں، جبکہ غیر منظم تعمیرات نے قدرتی مناظر کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ مزید برآں، موسمیاتی تبدیلی سے گلیشیرز 10% تک سکڑ چکے ہیں، جو پانی کی کمی کا سبب بن رہے ہیں۔ اس صورتحال میں، محکمہ ماحولیات کو ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، جیسے ایکو ٹورزم کو فروغ دینا، کچرا مینجمنٹ سسٹم قائم کرنا، اور جنگلات کی بحالی کے پروگرام شروع کرنا۔ لہذا یہ بات سمجھنے کی ہے کہ شدید برف باری ایک امید کی کرن ضرور ہے، لیکن یہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وارننگ بھی ہے۔ گلگت بلتستان کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ سیاحت کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ جوڑا جائے۔ حکومت اور مقامی کمیونٹیز کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ یہ خطہ اپنی قدرتی خوبصورتی اور وسائل کو محفوظ رکھ سکے۔ اگر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ خطہ مزید سنگین مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔

وما علینا الاالبلاغ

 

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply