• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایوو میں کورونا وائرس اور پاکستان پہنچنے والا مشکوک مریض طالبعلم۔۔۔محمد سلیم

ایوو میں کورونا وائرس اور پاکستان پہنچنے والا مشکوک مریض طالبعلم۔۔۔محمد سلیم

کل ایوو شہر کی شناخت اور مشہور زمانہ تجارتی مرکز “فوتھیان مارکیٹ” کو ایک پُرشکوہ تقریب کے بعد تجارت کےلیے کھول دیا گیا۔ تجارتی مرکز میں داخلے کےلیے لوگوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

داخلے کےلیے باقاعدہ طریقہ کار تھا۔ ایک ایپ کے ذریعے رجسٹر ہونا تھا، لگ بھگ آدھے گھنٹے کے اندر ہی ایپ آپ کے سفری ریکارڈ کی چھان بین کر کے آپ کو مارکیٹ میں داخلے کا اہل قرار دیتی تھی۔ پاسپورٹ اور ایپ کے فراہم کردہ تصدیقی کوڈ کے ساتھ مارکیٹ میں داخلہ کےلیے آپ کو ایک حفاظتی حصار میں سے گزر کر اندر جانا ہوتا تھا۔ اس حصار میں کئی ایجنسیوں کے لوگ اپنے اپنے انداز میں آپ کی صحت کے بارے   تسلی کرتے تھے، ان مراحل میں سے ایک انفراریڈ تھرمامیٹر کے سامنے سے گزرنا بھی تھا۔

کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کےلیے موقع پر ہی قرنطینہ کا قیام، طبی اور عسکری عملہ ہر قسم کی ہنگامی کاروائی کےلیے تیار کھڑا تھا۔

حکومت ایوو کی مسکراہٹیں واپس کرنے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مقامی حکومت نے شہر میں موجود ہر اہم سماجی خدمت کی شہرت رکھتے غیر ملکی کو بلا کر ٹاسک دیا ہے کہ اپنے ملک سے ایوو آنے والوں کا ریکارڈ مہیا کیجیے، ہم آپ کو ابھی ایک مفت چارٹرڈ جہاز مہیا کر دیتے ہیں۔ آنے والے مہمانوں کو سات روز کے لیے چار تاروں والا ہوٹل بھی دیگر سہولیات کے ساتھ مفت رہائش کےلیے مہیا کیا جائے گا۔

یہ سہولت غیر ملکیوں کیلیئے ہی نہیں: ملک بھر میں ریلوے نے ہر ایسے چینی باشندے کو، جو ایوو میں کام پر واپس لوٹنا چاہتا ہے کو مفت ٹکٹ دینے کا کام (آپ ایوو اپنے کام پر واپس جا رہے ہیں؟ یہ مفت ٹکٹ ہماری طرف سے قبول کیجیئے) کہہ کر شروع کر دیا ہے۔

ایوو کے محلے ابھی تک لاک ڈاؤن ہیں، اب محلے سے باہر جانے کے لیے ویسی سختی نہیں رہی۔ تاہم واپس محلے میں داخل ہونے پر مکمل تحقیقات کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جس میں آپ کا لیزر تھرمامیٹر سے لیا گیا ٹمپریچر اور آپ کا اس محلے کا سکونتی ہونا چیک کیا جا رہا ہے۔

شہر بھر میں سارے کے ایف سی، مکڈونالڈز، پیزا ہٹ اور مشہور مقامی ریسٹورنٹ “اونلی ٹیک اوے” کےلیے کھل چکے ہیں۔ سڑکوں کی رونق بحال ہو چکی ہے۔ گروسری شاپس کی کیٹیگری رکھنے والی ساری سپرمارکیٹ کھل گئی ہیں۔ تاہم شاپنگ مال اور دیگر اقسام کی دکانیں تاحال بند ہیں۔

دوسرے شہر سے واپس آنے والوں کو پہلے پولیس سٹیشن جانا ہوتا ہے جو مکمل تحقیق اور تسلی کے بعد “ایوو کارڈ” جاری کر دیتے ہیں جو اس بات کی سند ہوتا ہے کہ آپ باہر سے آئے ہوئے محفوظ مہمان ہیں۔

ایوو کو کھولنے کے لیے میڈیا کی کوریج، مفت ٹکٹوں اور دیگر شاہانہ سہولیات پیشکش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

1: کورونا وائرس شاید اتنا سنگین خطرہ نہ ہو مگر غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے اس کو جتنا بڑا ہوا بنا کر کھڑا کیا ہے “شاید” اس کا توڑ ضروری تھا۔ فقط نمونیہ جیسے اس مرض کے مریضوں کو سڑکوں پر گرتے تڑپتے دکھانا، گولیوں کی آوازیں سنوا کر بتانا کہ حکومت مریضوں کو موقع پر گولی مار دیتی ہے یا چینی صدر معافی مانگنے کے لیے مسلمانوں کے پاس ان کی مسجدوں میں پہنچ گئے، نماز بھی پڑھ ڈالی اور دعا بھی منگوائی، یا چین میں ہلاکتوں کی تعداد روزانہ پچاس ہزار سے زیادہ ہوتی ہے جیسی افواہیں اپنے عروج پر رہیں۔

2: چین پر بھلے یہ بائیالوجیکل حملہ نہ ہو مگر چین پر میڈیائی یلغار دیکھنے کے لائق تھی۔ صحافت کے علاوہ مذہب سے جڑے لوگوں نے بھی اسے خوب خوب استعمال کیا۔

3: چین نے اس مرض کو کرہ ارضی پر کسی بڑی آفت کا پیش خیمہ نہ بننے کیلیئے جس قدر قربانیاں دی ہیں ان کو مٹی میں ملا کر رکھ دینے کی کوشش کی گئی۔

4: اپنے آپ کو ترقی یافتہ ملک شمار کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کا اس وقت سارا تصور چکنا چور ہو گیا جب انہوں نے “ڈائمنڈ پرنس کروز” پر سے اپنے اپنے باشندے جہاز پر مرنے کےلیے چھوڑ دیئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرض موجود ہے۔ مرض کا دوسرا کلائیمکس مارچ کے وسط میں متوقع ہے۔ ماسک پہننے کے علاوہ ہر دوسری شخصی احتیاط بے حد ضروری ہے۔ جو شخص آپ کو اس مرض سے بچا سکتا ہے وہ آپ خود ہیں۔

‘جتوئی” طالبعلم جو چین سے پاکستان پہنچا تھا، نے اپنی وقتی خرابی صحت کو کورونا سمجھ کر جس طرح پورے پاکستان کا ہنگامی چکر لگایا، اور جس طرح اسے سندھ سے پنجاب کی طرف دھکیلا گیا، جس طرح اسے ملتان نشتر سے بھگایا گیا اور اسلام آباد تک پہنچنے دیا گیا، جس قسم کے وزیر صحت، میڈیا اور مقامی انتظامی اداروں کے بیانات اور رویئے دیکھنے سننے کو ملے وہ پاکستان کی بدحالی، پاکستان میں کسی آفت سے بچاؤ، حفاظتی تدابیر یا علاج اور بچاؤ کا ننگا پن تھے۔ ایسے میں وہ احباب جو شدت سے اس بات کی حمایت کر رہے تھے کہ “ووھان” سے سب بچوں کو واپس لا کر یہاں پاکستان میں رکھا جائے اور ان میں کسی بیماری کا علاج یہاں کیا جائے کی یقیناً تشفی ہو گئی ہوگی۔

ایک مزیدار اضافی بات: علامہ حضرت مولانا رضوی صاحب کا بھرے اجتماع میں ہاتھ اٹھا اٹھا کر چین اور چینیوں کےلیے بد دعائیں کرنا میری خاتون خانہ کو بہت گراں گزرا تھا۔ اب وہ کوئی ایسا ٹک ٹوک (اس کےلیے خبروں کا واحد سورس بس ٹک ٹوک ہی ہے) تلاش کر رہی ہے جس میں علامہ صاحب کیماڑی میں پھیلی گیس اور گیس کی وجہ سے ہلاکتوں کو کیماڑی والوں کے اعمال کا نتیجہ قرار دیں اور کیماڑی والوں کو بھی اپنی بد دعاؤں سے نوازیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *