تحقیق اور تدوین کسی بھی زبان کے ادبی ورثے کو محفوظ کرنے اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کے بنیادی ذرائع ہیں۔ اردو ادب میں تحقیق کا سفر تذکرہ نگاری سے شروع ہوا اور وقت کے ساتھ ساتھ سائنسی و معروضی منہاج تک پہنچا۔ روایت اس پورے عمل میں ایک ایسے تسلسل کا نام ہے جو ماضی کے شعور کو حال کے ادراک سے جوڑتا ہے۔ تدوین، دراصل تحقیق کی وہ عملی صورت ہے جس کے ذریعے قدیم متن (Texts) کو ان کی اصل روح کے ساتھ بازیافت کیا جاتا ہے۔
۱. تحقیق: مفہوم اور ارتقائی سفر
تحقیق کا مادہ ‘حق’ ہے، جس کے معنی سچائی کی تلاش اور حقائق کی چھان بین کے ہیں۔ ادبی اصطلاح میں تحقیق سے مراد وہ فکری کاوش ہے جس کے ذریعے ہم گمشدہ حقائق کو دریافت کرتے ہیں یا موجودہ حقائق کی نئی تعبیر پیش کرتے ہیں۔
ابتدائی نقوش: اردو میں تحقیق کا آغاز تذکروں (مثلاً نکات الشعرا، گلشنِ ہند) سے ہوا۔ اگرچہ ان میں معروضیت کی کمی تھی، لیکن مواد کی فراہمی میں یہ بنیاد بنے۔
انجمنِ پنجاب اور سرسید تحریک: اردو تحقیق کو جدید رخ ڈاکٹر لائٹنر اور کرنل ہالرائیڈ کی کوششوں اور سرسید کی ‘آثار الصنادید’ جیسی تصانیف سے ملا، جہاں پہلی بار تاریخی و آثارِ قدیمہ کے شواہد کو اہمیت دی گئی۔
جامعہ پنجاب کا کردار: حافظ محمود شیرانی نے اپنی معرکہ آرا کتاب ‘پنجاب میں اردو’ کے ذریعے اردو تحقیق کو سائنسی بنیادیں فراہم کیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ تحقیق صرف سنی سنائی باتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ٹھوس شواہد کی مرہونِ منت ہے۔
۲. تدوینِ متن: روایت کی بازیافت
تدوین (Editing) تحقیق کا ایک کٹھن شعبہ ہے۔ اس کا مقصد کسی مصنف کے متن کو تمام تر تحریفات اور غلطیوں سے پاک کر کے اس کی اصل شکل میں پیش کرنا ہے۔
تدوین کے مراحل: ایک ماہرِ تدوین (ایڈیٹر) کے لیے ضروری ہے کہ وہ نسخوں کا تقابل کرے، املا کی تصحیح کرے اور متن کے اختلاف کو حواشی میں درج کرے۔
اردو کے اہم مدون: مولوی عبدالحق، امتیاز علی خان عرشی، اور ڈاکٹر رشید حسن خان نے اردو تدوین کو ایک مکمل فن کا درجہ دیا۔ رشید حسن خان کی مرتب کردہ ‘فسانہ عجائب’ اور ‘گلزارِ نسیم’ تدوینِ متن کے اعلیٰ نمونے ہیں۔
۳. روایت اور تحقیق کا باہمی ربط
• روایت سے مراد وہ علمی و فکری اثاثہ ہے جو ہمیں اسلاف سے ملا ہے۔ تحقیق روایت کو اندھی تقلید سے بچاتی ہے۔
• روایت کی پرکھ: تحقیق روایت کو پرکھتی ہے کہ کیا وہ حقائق پر مبنی ہے یا محض افسانہ؟
• تسلسل: روایت تحقیق کو ایک پس منظر فراہم کرتی ہے۔ بغیر روایت کے تحقیق کی جڑیں کھوکھلی رہتی ہیں۔
• تجدید: تحقیق روایت کی تجدید (Re-evaluation) کرتی ہے، جس سے ادب میں جمود ختم ہوتا ہے۔
۴. معاصر رجحانات اور چیلنجز
موجودہ دور میں اردو تحقیق اور تدوین کو جدید ٹیکنالوجی (ڈیجیٹلائزیشن) سے مدد مل رہی ہے، لیکن کچھ سنجیدہ مسائل بھی درپیش ہیں:
سرقہ (Plagiarism): معلومات تک آسان رسائی نے تحقیقی بددیانتی کو جنم دیا ہے۔
معیار کی کمی: اکثر جامعات میں ڈگری کے حصول کے لیے کی جانے والی تحقیق محض “کاٹ چھانٹ” (Scissors and Paste) تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
لسانی مہارت کا فقدان: قدیم متن کی تدوین کے لیے فارسی، عربی اور برج بھاشا سے واقفیت ضروری ہے، جس کی نئی نسل میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
۵. تدوینِ متن کے سائنسی اصول اور منہاج
جدید تدوین محض متن کی نقل نہیں بلکہ ایک تقابلی اور تجزیاتی عمل ہے۔ ڈاکٹر رشید حسن خان اور امتیاز علی خان عرشی نے اس فن کو جن اصولوں پر استوار کیا، وہ درج ذیل ہیں:
تقابلِ نسخ (Collation): مدون کا پہلا فرض ہے کہ وہ دستیاب تمام قلمی اور مطبوعہ نسخوں کو اکٹھا کرے۔ ان میں ‘نسخۂ اول’ (جو مصنف کی زندگی میں چھپا یا لکھا گیا) کو بنیاد بنانا علمی دیانت ہے۔
ترجیحِ متن: اگر مختلف نسخوں میں الفاظ کا اختلاف ہو، تو وہاں صرف قیاس سے کام نہیں لیا جاتا بلکہ مصنف کے اسلوب، ہم عصر لسانی رویوں اور لغت کی مدد سے صحیح لفظ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
املا کی یکسانیت: قدیم متون میں املا کی تبدیلیاں (مثلاً ‘گئ’ اور ‘گئی’، ‘طرح’ اور ‘طرے’) ایک بڑا چیلنج ہیں۔ جدید تدوین میں کوشش کی جاتی ہے کہ متن کی اصل روح برقرار رکھتے ہوئے اسے موجودہ املا کے مطابق سہل بنایا جائے تاکہ قاری اور متن کے درمیان بعد ختم ہو۔
۶. تحقیق اور لسانیات کا تلازمہ
تحقیق کا ایک اہم رخ لسانی ارتقا کا مطالعہ ہے۔ حافظ محمود شیرانی نے جب ‘پنجاب میں اردو’ لکھی تو ان کا بنیادی ہتھیار تقابلی لسانیات ہی تھا۔
• صوتیاتی مطالعہ: تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ وقت کے ساتھ آوازوں کے آہنگ میں کیا تبدیلی آئی۔ مثال کے طور پر دکنی اردو اور شمالی ہند کی اردو کے صوتیاتی فرق کو سمجھے بغیر قدیم تذکروں کی تدوین ناممکن ہے۔
• صرف و نحو کی تبدیلی: تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ فعل، فاعل اور مفعول کی ترتیب میں قدیم دور سے اب تک کیا انقلابات آئے۔ یہ مطالعہ “روایت” کو محض ایک قصہ نہیں بلکہ ایک زندہ لسانی حقیقت ثابت کرتا ہے۔
۷. مابعد جدیدیت اور اردو تحقیق
اکیسویں صدی میں تحقیق کا رخ ‘ساختیات’ اور ‘مابعد ساختیات’ کی طرف مڑ گیا ہے۔ اب تحقیق صرف سوانحی خاکوں یا تاریخِ وفات کی درستی تک محدود نہیں رہی بلکہ:
متن کی سماجیات: یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک خاص متن (Text) کن سماجی اور سیاسی حالات کی پیداوار ہے۔
فکری ابعاد: معاصر محققین اب کلاسیکی ادب کی نئی تفہیم (Re-reading) کر رہے ہیں، جس سے غالب، میر اور اقبال کے کلام کے نئے گوشے سامنے آ رہے ہیں۔
۸. پنجاب یونیورسٹی: تحقیق کی کہکشاں
پنجاب یونیورسٹی کا شعبہ اردو اس لحاظ سے خوش قسمت رہا ہے کہ اسے حافظ محمود شیرانی، ڈاکٹر سید عبداللہ، ڈاکٹر عبادت بریلوی اور ڈاکٹر وحید قریشی جیسے اساطینِ علم میسر آئے۔ڈاکٹر سید عبداللہ نے تحقیق کو تنقید کے ساتھ جوڑ کر “تحقیقی تنقید” کی ایک نئی جہت روشن کی۔ڈاکٹر وحید قریشی نے کلاسیکی روایت کو عصری تناظر میں دیکھنے کا سلیقہ سکھایا۔ ان کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج بھی ‘مجلهٔ تحقیق’ بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان رکھتا ہے۔
حاصلِ بحث (نتیجہ)
اردو تدوین اور تحقیق نے گزشتہ ایک صدی میں نمایاں ترقی کی ہے۔ حافظ محمود شیرانی سے لے کر دورِ حاضر کے محققین تک، یہ روایت مستحکم رہی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی نے ہمیشہ اس روایت کی آبیاری میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔اردو تدوین، تحقیق اور روایت دراصل ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ تدوین ہمیں ‘متن’ فراہم کرتی ہے، تحقیق اس متن کی ‘سچائی’ ثابت کرتی ہے اور روایت اس سچائی کو ‘تاریخ’ کا حصہ بناتی ہے۔ علمی جرائد میں شامل ہونے والے مقالات کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف ماضی کی جگالی نہ ہوں بلکہ ان میں فکرِ نو کی جھلک بھی ہو۔ پنجاب یونیورسٹی کی علمی روایت کا تقاضا ہے کہ ہم ڈیجیٹل دور کے چیلنجز کو قبول کرتے ہوئے اردو کے قلمی اثاثے کو جدید سائنسی خطوط پر مدون کریں تاکہ ہماری علمی روایت کا تسلسل برقرار رہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تحقیق میں معروضیت (Objectivity) کو برقرار رکھیں اور تدوین کے فن کو محض لغت نگاری نہ سمجھیں بلکہ اسے متن کی نفسیاتی اور سماجی بازیافت کا ذریعہ بنائیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں