ہمارے معاشرے میں اگرچہ اچھی اور بری باتیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اچھائیوں کے مقابلے میں اس وقت برائیوں نے ہمیں بہتات کے ساتھ اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ہم سر تا پا برائیوں کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ ان برائیوں میں سب سے زیادہ سبقت لے جانے والی اور معاشرے کی اخلاقیات کی رگوں سے جونک کی طرح خون چوسنے والی برائی زبان و بیان کا ناروا استعمال ہے۔ بیان میں اگر غلط بیانی شامل ہو تو کسی حد تک قابل اصلاح ہوتی ہے۔ لیکن زبان کے بارے میں یہ تاثر مبنی بر حقیقت ہے کہ اس کے غیر محتاط بلکہ مخاصمانہ انداز میں استعمال کی کاٹ ایسی گہری ہوتی ہے اس کے زخم بھر نہیں پاتے۔ زبان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب یہ تیز دھار آلے کی طرح چلتی ہے تو آندھی طوفان کی طرح مضر اور تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ زبان جب زہر اگلتی ہے تو اس کے مسموم اثرات کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ معاشرے میں دور دور تک پھیل جاتے ہیں۔
ایک چھوٹی سی فروگزاشت، جس کا مظاہرہ ہم تقریباً ہر روز کثرت کے ساتھ دیکھتے ہیں وہ دوسروں کو ایسے غلط ناموں سے پکارنا ہے، جس میں اہانت کا عنصر جانے انجانے میں غالب ہوتا ہے اور ہمیں قطعاَ گمان نہیں ہوتا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ مثلاً ہم دونوں ٹانگوں سے معذور کو لنگڑا اور ایک بازو سے محروم کو ٹنڈا پکارتے ہیں۔ جس کسی کی ایک آنکھ دیکھنے کے قابل نہ ہو اسے کانا ، جبکہ کوئی بد قسمتی سے دونوں آنکھوں کی بصارت نہ رکھتا ہو تو عقل کے اندھےاسے اندھا کہنے یا اوئے اننے کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ اسی طرح کوئی قوت گویائی پہ قادر نہ ہو تو اسے بے زبان جانتے ہوۓ، گونگا کہنے والوں کی زبان گنگ نہیں ہوتی۔
کوئی سماعت کی کمزوری کا شکار نظرآ جاۓ تو دوسروں کی آنکھوں میں تمسخر کے دورے ڈالنے والے، اسے ڈورا کہنے سے نہیں چوکتے۔ اور اگر اسے شخص کا وجود نظر آ جاۓ جس کے سر کے تمام بال گرچکے ہوں تو شرارتی مزاج لوگ اخلاق سے اتنا گر جاتے ہیں کہ بغیر بالوں والے کو گنجا کہہ کر ٹھٹھے اڑانے میں ہرگز ندامت محسوس نہیں کرتے۔ ” کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں، ہزاروں کے شکوے ہیں کیا کیا بتاؤں ” ۔
بیچارے دماغی امراض کے مریض سے آمنا سامنا ہو جاۓ تو ہم خود دیوانگی کے عالم میں ذہنی طور پر پریشان حال کو پاگل کہہ کر پاگل پن کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ صرف یہاں تک ان کی تسلی نہیں ہوتی، وہ سنگباری کرتے ہوۓ چھیڑ رہے ہوتے ہیں کہ ” کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو”۔ حالانکہ کسی بھی جسمانی نقص کے حامل فرد کا اسکے عارضے یا اعضاء میں خامی میں اس کا اپنا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ اس طرح کے ناموں سے کسی کو پکارنا، نا صرف اخلاقاً جائز نہیں ہوتا بلکہ متاثرین کو کرب اور اذیت میں مبتلا کرنے کے مترادف ہوتا۔ اسے لذت بے گناہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ یہ نا صرف ایک اخلاقی جرم بھی ہے۔ کیونکہ وہ اعضاء میں نقائص کے سبب پہلے ہی انتہائی تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارا دین واضح ہدائت دیتا ہے کہ کسی کو اس کے جسمانی عیب کی نسبت نہیں پکارا جاۓ۔ غلط ناموں سے پکارے جانے کا یہ وطیرہ نا صرف دوسرے کی دل شکنی کا باعث بنتا ہے بلکہ ان کے جذبات کو بری طرح سے مجروح بھی کرتا ہے۔
اب آئیے زبان کے دوسرے بیجا استعمال کی طرف، جس نے ہماری اخلاقیات کے پرخچے اڑا کر رکھ دئیے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنی بات چیت میں بلا وجہ گالیوں کا جا بجا سہارا لیتے ہیں۔ ایسی غلیظ گفتگو کے دوران وہ اس بات کو بھی فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ کہیں بچے،ماں باپ، بہن بھائی اور بیٹیاں آس پاس موجود تو نہیں؟ یہی حال ہمارے سیاسی رہنماؤں اور نمائندوں کا بھی ہے، جو سر عام سیاسی اجتماعات میں مغلظات بھری نا زیبا گفتگو سے اپنے مخالفین پر لعن طعن کرتے ہیں۔ وہ نجی گفتگو میں بھی تکیہ کلام کے طور پر ماں بہن کی گالیاں دیتے نہیں چوکتے۔ اس کا ثبوت اقتدار کے دام الفت میں گرفتار، بظاہر ایک دوسرے پہ جان چھڑکنے والوں کی وہ آڈیو لیکس ہیں جن میں وہ شرمناک گالیون کی تکرار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ حیف ہے ایسے سیاسی رہنماؤں پہ جو لوگوں کو تو اخلاق کا درس دیتے ہیں, مگر وہ خود گندی اور لچر گفتگو کرنے سے باز نہیں آتے۔
زبان اگر میٹھی بات کرے تو سننے والوں کے دلوں میں سرور اور محبت کی خوشبو رچ بس جاتی ہے۔ زبان میں پیار کی مہک ہو تو کوئی اپنا ہو یا غیر، مروت اور چاشنی، سننے والے کی رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے۔ میٹھی گفتگو کرنے والا اگر تصنع سے کام نہ لیتا ہو تو اس کی عزت و توقیر اور قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے علی الرغم وہ گفتگو جس میں کسی کی تذلیل، اہانت، تحقیر، الزام تراشی اور تنقید کا عنصر شامل ہو اور وہ بھی کھلے اجتماع میں ، تو دوسروں کو دکھ ہی نہیں پہنچاتی بلکہ معاشرے میں نفرت ، انتشار اور گراوٹ ایک طویل عرصے تک سنجیدہ حلقوں کو تکلیف ، تشویش اور بے چینی میں مبتلا کئے رکھتی ہے۔ زبان کا بیان سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جبکہ بیان کا ناتہ مزاج، فطرت، عادت، طبیعت، تربیت، سوچ اور ماحول سے زیادہ ہوتا ہے۔ اگر ہم بلا سوچے سمجھے جو منہ میں آئے کہہ دینے کے عادی ہونے لگیں تو تلخ نوائی اور مغلظ فضا ہماری ذہنی گراوٹ کی وجہ بن جاتی ہے۔ ایسی صورت میں ہماری نفسیات سنوارنے کی از حد ضرورت پڑتی ہے۔ اس کا اور کوئی علاج نہیں ہوتا۔
ہمارے بیشتر نادان، منہ زور اور زبان دراز سیاستدانوں کو اس بات کا احساس نہیں کہ انکے ناپسندیدہ طرز عمل سے ملک و قوم میں جس قسم کے نامناسب جذبات جنم لے رہے ہیں، وہ ہماری اقدار اور اخلاقیات کے کس قدر منافی ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف نفرت اور حقارت کے جذبات پیدا ہو رہے ہیں اور یوں اختلاف رائے کی ایسی فضا قائم ہو رہی ہے جو ناصرف وحدت ملی اور اتفاق و اتحاد کو سخت نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ مروجہ سیاسی نظام کے خلاف نفرت اور نا پسندیدگی پیدا کر رہی ہے۔ فکر مندی کی بات یہ ہے کہ ہماری سیاسی اور سماجی ابتری کو سدھارنے کی طرف توجہ نہ دی گئی تویہ معاشرہ بری طرح تباہ ہو جاۓ گا۔ اس کا ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ کے عام انتخابات میں ( جب بھی ہوں), ایسے نمائندوں کو منتخب کیا جاۓ جو شریف النفس، خوش اخلاق اور شیریں سخن ہوں اور ایسے افراد کو مسترد کر دیا جاۓ جو بد زبان اور گالم گلوچ سے کام لیتے ہوں۔ یہ شعور پھیلانا ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں