بسنت لاہور کو بہت مہنگی پڑے گی /رابعہ الربا

لاہور میں بسنت کی تیاریاں عروج پہ ہیں حکومت نے محبوب آپ کے قدموں میں جیسا فیصلہ لے لیا ہے لیکن قدموں میں آتے ہی محبوب کا ڈیٹا لیک ہو گیا ہے اس کا سوفٹ وئیر اڑ گیا ہے اس کا میموری کارڈ بھر گیا ہے۔ اس کی سائٹ ڈاؤن ہو گئی ہے۔
اب یہ سب سنبھالا نہیں جا رہا ۔
کہانی یہاں تک بھی ختم نہیں ہوتی یہاں سےتو کہانی کی شروعات ہوتی ہے۔ پہلے لاہوری مہمان نواز ہوا کرتے تھے ۔ دوسرے شہروں سے دوست احباب رشتے داربسنت منانے آتے تھے تو چھت پہ کوئلے چلتے تھے کھانے پکتے تھے گیت سنے جاتے تھے بھنگرئ ڈلتے تھے۔
پیچ لگتے تھے اور افسوس پتنگ باز خاندانی دشمنیاں بھی ہو تی تھیں تو سالہا سال و نسلوں چلتی تھیں
اب ٹرینڈ آیا ہے کہ کس کی چھت کتنے لاکھ اور کڑور میں کرائے پہ گئی ؟
کس کے فارم ہاؤس کا ریٹ کیا لگا ہے؟
مالز پہ چھت نیا دور شروع ہوا ہے
یونہی ہوٹلز کی چھت اہم ہو گئی ہے
ہوسٹلز کی چھت
ہسپتا ل کی چھت بچ گئی ہے شائد
چھت گھر یا کسی بھی عمارت کی غیر اہم جگہ ہو تی جا رہی تھی ۔ اب سولر کے لئے ہی استعمال ہو رہی تھی ۔چھت کی یادوں والا دور جا چکا تھا
اور کہتے ہیں پیچھے مڑ کے دیکھنے والا پتھر کا ہو جاتا ہے۔
لاہور پتھر کا شہر ہونے جا رہا ہے۔
جیسے وہی قوانین واپس آ رہے ہیں جن کی وجہ سے نیا قانون بنا تھا ویسے ہی وہی تہوار منائے جا رہے ہیں جن کو کسی وجہ سے ختم کیا گیا تھا۔
بسنت ابھی شروع نہیں ہو ئی بہت سے کیسز سامنےآ چکے ہیں کہ بچے چھت سے گر گئے ۔ ڈور قاتل بن گئی۔
کرائے پہ دی جانے والی چھت کے اشتہاروں میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ جگہ محفوظ نہیں ہے اور پتنگ بازی سے نا واقف نسل نے اس بار پتنگ بازی کرنی ہے۔ ان کا یہ پہلا تجربہ ہو گا ۔ پتنگ باز لڑکے بالے اب بابے بن چکے ہیں۔
وہ یادیں تازہ کریں گے
لاہور میں ہوسٹلز کی بھرمار ہوتی جا رہی ہے۔ ان کی چھت کا بھی نیا دور ہو گا ۔ یہ بچے بھی پتنگ بازی کے ماہر نہیں ہیں۔ ہوسٹلز تین سے سات منزلہ عام طور پہ ہیں ۔ جن کے گرد کوئی چار دیواری کم ہی ہوتی ہے۔
سکول کالج اور یونیورسٹی کے میدان پارک اور چھت سب بک ہو چکے ہیں۔
اندرون لاہور والوں نے سب سے پہلے کرائے کا کاروبار شروع کیا تو ہر گنجان آباد علاقے میں یہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔
لمبی چوڑی دعوتیں بک ہو چکی ہیں۔ بچوں کے سالانہ امتحان ، کتاب میلہ ، ادبی میلہ ، شب رات ، رمضان ، عید سب ساتھ ساتھ آ رہے ہیں۔
پوری دنیا سے مہمان بلائے جا رہے ہیں۔
پتنگ ڈور کی سپلائی کم پڑ رہی ہے ۔ساؤنڈ سسٹم کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ ایک عرصہ ہوا لاہور میں بلندآواز موسیقی پہ پابندی لگ چکی تھی۔ اب ہالز اور گھروں یا فارم ہاؤسز ز کے اندر تک ہی موسیقی کو محدود کر دیا گیا ہوا تھا۔
ایک دم شادی کی روٹی کی طرح یہ سب آزاد ہونے جا رہا ہے
سونے پہ سہاگا حکومت نے گانے بھی اپنی مزاج کے بتا دئیے ہیں
یہ تو جبری شادی والی سین بنتا جا رہا ہے۔
ایک طرف جبری شادی کا قانون شراٹے ماررہا ہے دوسری طرف شادی کی تاریخ رکھ دی گئی ہے اب لڑکی والوں کی عزت کا سوال بن گیا ہے۔
بازار جو اس وقت عید کی شاپنگ سے بھرے ہوتے ہیں خالی ہیں ۔
مہنگائی کا پھن شوک رہا ہے۔ لیکن حکومتی بیانات سے یوں لگ رہا ہے جیسے ترقی اپنے عروج پہ ہے ہم ترقی یافتہ ملک یا صوبہ بن چکے ہیں ۔ ہر گھر میں روز حکومتی میسحا آتا ہے اور پوچھتا ہے کوئی خالی پیٹ تو نہیں سو رہا ۔ کوئی بے روز گار تو نہیں ہے ۔
سوشل میڈیا بہت مزے دار شے ہے۔ اتنا رومنٹک کر کے اس غربت و بے بسی کو دکھاتا ہے کہ دیکھنے والا غریب ہونے کا خواب دیکھنے لگتا ہے ۔
اب وہ وقت نہیں جب غریب بے بسی پہ رو رہا ہو گا اور اس کی ویڈیووائرل کر دی جائے گی ۔
یوں یہ تو پتا چل جائے گا حکومت وقت غریب خانے پہ گئی ہے۔ غربت اور غریب کا کیا ہوا یہ کہانی کبھی وائرل نہیں ہوگی ۔بھلے وہ کوئی فاقہ کشی و خود کشی کی موت ہی کیوں نہ ہو۔
یہ روشن روشن لاہور جب اتنا مصنوعی روشن نہیں تھا یہاں لوگ بھوکے پیٹ نہیں ہوتے تھے ۔تھوڑا بہت کمانے والے بھی محنت کا کما کے کھا لیتے تھے نہیں تو آخری حل لنگر سے سفید پوشوں کے گھر چل رہے تھے ۔
اب درباروں پہ لنگر بھی کم ہو گیا وجہ مہنگائی ہے۔ لنگر خانے الگ کر دئیے گئے ہیں اس طرف جانے والے فوری مشکوک ہو جاتا ہے
اب جنگل میں منگل کی کہانی بد ل گئی ہے۔
چکا چوند میں غربت بھر گئی ہے ۔ چھوٹے کاروبار سرے سے ختم ہو گئے ہیں ۔ایک نئی کلاس نے جنم لے لیا ہے جسے وقت ہی کوئی منا سب نام دے گا ۔
ایسے میں اتنی مہنگی بسنت کے تین ہنگامہ خیز دن ہیں ۔
دعا ہے کوئی معصوم اس تہوار کی بھینٹ نہ چڑھے
مگر اس کی خاص امید کوئی نہیں ہے
جب کسی بچے کو تیاری کے بنا اچانک کسی امتحان میں بیٹھا دیا جاتا ہے اس کا نتیجہ کچھ بھی آ سکتا ہے۔
کبھی کبھی کوئی انسان اپنے جو خواب اپنے وقت پہ پورے نہیں کر پاتا وہ بے وقت موقع ملتے ہی جاگ پڑتے ہیں تب تعبیر کرتے خواب نجانے کس کس کو ساتھ ڈبو دیتے ہیں۔
لیکن یہ طے ہے کہ پیچھے مڑ کے دیکھنے والا پتھر کا ہو جاتا ہے
یہ بسنت ہر ہر اعتبار سے لاہور کو بہت مہنگی پڑنے والی ہے ۔ بسنت منانے والے جی بھر کے منا کے چلے جائیں گے ۔
اس کے بعد اگر اعداد و شمار چھپا نہ دئیے گئے تو لاہوری گنتے رہ جائیں گے ۔ کچھ کا بھلا ہو جائے گا ۔ کچھ کا مندا ہو جائے گا۔ کسی کے لئے تلخ یادیں ہو نگی کسی کی یادیں خوشگوار ہو گیں۔
لاشاری صاحب نے اسے ایک چھوٹا سا تجربہ کہا ہے لیکن یہ بہت بھیانک تجربہ بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔
معاشی اعتبار سے افرادی و انفرادی سطح پہ بجٹ ہل جائے گا حکومت جتنی بھی سہولیات دے دے ۔ ٹراسپورٹ مفت کر دے ۔سب بہت کم ہو گا ۔ کیونکہ حکومت ہزاروں کے اعداد و شمار گنوا رہی ہے بات یہ اربوں تک بھی جا سکتی ہے ۔
کیونکہ یہ شہر آبادی کا خوفناک جنگل بن چکا ہے
اس کے بعد بھی جو ٹیکس لگیں گے لاہویوں پہ لگیں گے
ممکن ہے لاہویوں کے بجلی کے بل میں بسنت ٹکیس بھی شامل کر دیا جائے
لیکن یہ بسنت کا مشورہ جس نے بھی دیا ہے اس کا اپنا دم ہی نکل رہا تھا۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
لاہور کے تیز رفتار ترقیاتی منصوبے جناتی طور پہ دم نکال دینے والے ہی ہیں ۔ غیر لاہوری جب سو شل میڈیا سے دیکھ کر ہم پہ رشک کرتے ہیں ہم اپنے کئی دکھ ان کو بتا ہی نہیں سکتے ہیں ۔ ان منصوبوں کی خاطر ہم نے کتنے پارک ، باغ ، نرسریاں ، گرین بیلٹس حد تہذیب لاہور کو بھی قربان کیا ہے ۔
لیکن کسی کو اسے پیرس بنانا ہے کسی کو لندن مگر لاہو ر کو لاہور کے طور زندہ نہیں رہنے دینا۔
بسنت پہ تو کلام میر خسرو بھی ہے گنگا جمنی تہذیب میں نظام و الدین اولیا کے ہاں بھی مروج ہے
سکل بن پھول رہی سرسوں
بن بن پھول رہی سرسوں

امبوا پھوٹے ٹیسو پھولے
کوئل بولے ڈار ڈار

اور گوری کرت سنگار
ملنیاں گڈھوا لے آئیں کر سوں

سکل بن پھول رہی سرسوں
طرح طرح کے پھول کھلائے

لے گڈھوا ہاتھن میں آئے
نجام الدین کے دروجے پر

آون کہہ گئے عاشق رنگ
اور بیت گئے برسوں

سکل بن پھول رہی سرسوں
بسنت تو پنجاب کا قدیمی و موسمی تہوار بھی ہے جو موسم بہار کی آمد پہ منایا جاتا تھا جس کی جڑیں ہندو دھرم سے جا ملتی ہیں ۔
یہ تہوار اس زمین پہ صدیوں سے منایا جا رہا ہے۔
لیکن اس میں باقاعدہ پتنگ بازی کا شوق رنجیت سنگھ کے دور سے شروع ہوا اور قیام پاکستان کے بعد یہ پتنگ بازی تک ہی محدود ہو گیا ۔
بحر حال یہ اب ایک جذباتی تہوار بن گیا ہے ۔جذباتی فعل کے نتائج بھی ملال کے کانٹوں پہ ہی دم توڑتے ہیں۔
آج نہیں تو کل وقت ثابت کر دے گا بسنت لاہور کو اور شاید حکومت کو بھی بہت مہنگی پڑ ی ہے۔
پھر بھی ہم دعا گو ہیں کہ خدشات تعبیر نہ ہو ۔ خیر و عافیت و امن و امان سے یہ تین دن گزر جائیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply