کوہ پیمائی اور اخلاقی اقدار۔۔عمران حیدر تھہیم

جس طرح ہر معاشرے، ہر شعبے اور ہر مخصوص طبقے کی ایتھکس ہوتی ہیں اُسی طرح ہر کھیل کی بھی کچھ مخصوص اخلاقی اقدار ہوتی ہیں، جو عموماً مروّجہ اُصول و ضوابط سے ہٹ کر ہوتی ہیں۔

کوہ پیمائی کے کھیل میں چونکہ روایتی مقابلہ بازی نہیں ہوتی یعنی اس میں دو کھلاڑیوں یا ٹیموں کے مابین کوئی باقاعدہ مقابلہ نہیں ہوتا لہٰذا اس کھیل میں ایتھکس یعنی اخلاقی اقدار کو سب سے زیادہ اہمیّت حاصل ہے ۔ ان اخلاقی اقدار میں سے کچھ پہاڑ سے جُڑی ہوئی ہیں یعنی کوہ پیما اور پہاڑ کے درمیان ایک خاص اخلاقی بندھن استوار ہوتا ہے جس میں سب سے پہلے پہاڑ کی حقانیت اور اُسکی ضخامت کو بالاتر تسلیم کرنا سب سے ضروری ہے۔

tripako tours pakistan

ہر کوہ پیما کا پہاڑ کے ساتھ اگر ایک خاص روحانی رشتہ قائم نہ ہو اور وہ مَن ہی مَن میں پہاڑ کو خدائے بزرگ و برتر کی حقانیت اور واحدانیت کی ایک نشانی نہ سمجھے تو اکثر وہ مخصوص پہاڑ اُس کوہ پیما کو اپنے اُوپر کامیاب مُہم جُوئی کی اجازت نہیں دیتا۔ کوہ پیمائی کی تاریخ ایسی لاتعداد مثالوں سے بھری پڑی ہے جس میں نامی گرامی کوہ پیماؤں   پہاڑ سر کرنے میں ناکام رہے اور اس مخصوص ناکامی کی کوئی خاص معقول وجہ سامنے نہ آسکی۔

بظاہر تو ایسا محض انسانی غلطی یا موسمی اثرات کے باعث ہوا، لیکن اہلِ نظر مانتے ہیں کہ اُس ناکامی کے پیچھے رُوحانی وجوہات کارفرما تھیں۔ چند اہم مثالیں پیشِ خدمت ہیں۔

نانگا پربت پہاڑ کو سب سے پہلے سر کرنے والے کوہ پیما کا نام Herman Buhl ہے۔ ایک ناقابلِ یقین مُہم جُوئی میں 1953 میں ہرمین بُہل نے پہلی بار نانگا پربت کو سر کیا، اِس سے قبل جتنی بار بھی نانگا پربت کو سر کرنے کی serious attempts ریکارڈ پر موجود ہیں اُن میں تقریباً ہر بار کوشش کرنے والے تمام ہی کوہ پیما مر جاتے رہے، اسی وجہ سے نانگا پربت کو Killer Mountain کہا جاتا ہے۔

اتنے بڑے عظیم کارنامے کے بعد ہرمین بُہل 1957 میں قراقرم کی قدرے کم بُلند چوٹی Chogolisa کو سر کرنے کی مُہم جوئی پر تھا یہ چوٹی بھی اُس وقت تک unclimbed تھی ۔ خراب موسم کے بعد ایک شام ڈھلتے سُورج کا نظارہ لینے کےلیے وہ کافی کا کپ تھامے بغیر safety rope کے اپنے خیمے سے باہر نکلا اور بڑی رعُونت سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جو خیمے کے اندر موجود تھے محوِ گُفتگو ہوتے ہوئے بولا:
“How it looks when you are watching sunset while Karakoram is under your feet.”
ٹیم ممبران بتلاتے ہیں کہ اُسکے بعد گہری خاموشی چھا گئی اور جب کچھ دیر بعد تک ہرمین کی آواز نہ آئی تو اُنہوں نے ٹینٹ سے باہر نکل کر دیکھا تو جس مقام پر ہرمین بُہل کھڑا تھا وہاں سے cornice ٹُوٹی ہوئی تھی اور نیچے پُراسرار گہرائی تھی۔ ہرمین بُہل کی لاش آج تک نہیں مِل سکی۔

اس واقعے کے 18 سال بعد 1975 میں Chogolisa کو پہلی بار آسٹریا کی ایک ٹیم نے سرَ کیا۔ اس ٹیم کے لیڈر Eduard Koblmueller نے بھی تقریباً وہی غلطی دُہرائی اور بڑے فخر سے بولا کہ یہاں پر ہرمین بُہل گرا تھا لیکن ہم نے چوٹی سر کر لی ہے، عین اُسی لمحے وہی cornice دوبارہ ٹُوٹی اور وہ فضا میں لٹک گیا لیکن نیچے اس لیے نہیں گِرا کیونکہ وہ roped-up تھا چنانچہ اُسکے ساتھیوں نے اُسے تھام لیا ورنہ اُسکا انجام بھی ہرمین بُہل جیسا ہی ہونا تھا۔

ایک ہی پہاڑ پر ایک ہی طرح کے دو واقعات یقیناً اس بات کی دلیل ہیں کہ ضرور کہیں جانے انجانے میں ان دو کوہ پیماؤں نے پہاڑ کیساتھ اپنی اُن اخلاقی اقدار کو توڑا جو کم از کم پہاڑ کو اپنے اس خاص مقام کے تناظر میں بہت عزیز تھیں۔

پہاڑ کی مرضی ہے کہ وہ خُود پر کسی کو چڑھنے دے یا نہ دے۔ اس کی سب سے بڑی مثال آج کے دور کے living legend آسٹریا کے عظیم کوہ پیما Reinhold Messner کی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ عظیم کوہ پیما دُنیا کے تمام 14 بڑے پہاڑ 7 براعظموں کی 7 بڑی چوٹیاں اور کُرّہ ارض کے دونوں یعنی ساؤتھ اور نارتھ پول بغیر آکسیجن کے سر کر چُکا ہے۔ جب ایک انٹرویو میں اُن سے پُوچھا گیا کہ آپ کو اپنی کوہ پیمائی میں کونسا regret ہے تو اُنہوں نے برملا کہا کہ ایک پہاڑ نے مُجھے خُود کو سر نہیں کرنے دیا اور وہ ہے ایران کا سب سے اُونچا پہاڑ کوہِ دماوند۔ جی ہاں حیرت انگیز طور پر میسنر Mount Damavand جو سطح سمندر سے محض 5610 میٹر بُلند ہے اپنی مُہم جُوئی کے دوران سر نہیں کر سکے۔ وہ خُود فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے اس پہاڑ کو easy سمجھا اور بہت casual approach کے ساتھ attempt کی۔ چوٹی سے چند میٹر نیچے اُنہیں snow storm نے گھیر لیا اور وہ سر کیے بغیر نیچے آگئے اور پھر دوبارہ کبھی ایران جانا نصیب نہیں ہوا۔

کوہ پیمائی کے کھیل میں اخلاقی اقدار کا دوسرا پہلو کوہ پیماؤں کے باہمی تعلقات سے جُڑا ہوا ہے۔ ایسی لازوال داستانیں ہیں جن میں کوہ پیماؤں نے انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثالیں قائم کرتے ہوئے پہاڑ پر اپنی مُہم جُوئی ترک کرکے دوسرے کوہ پیماؤں کی جانیں بچائیں۔ ایسی داستانوں میں سے سب سے قابلِ ذکر ماؤنٹ ایورسٹ پر آسٹریا کے کوہ پیما لنکن ہال کو بچانے والے امریکی کوہ پیما Daniel Mazur کی ہے جس نے 2006 میں ماؤنٹ ایورسٹ کے ڈیتھ زون میں لنکن ہال کی زندگی بچا کر ریسکیو کی لازوال داستان رقم کی۔

اس واقعہ پر نیشنل جیوگرافک چینل نے ایک ڈاکیومنٹری بھی بنا کر نشر کی تھی جو دیکھنے لائق ہے۔ کوہ پیماؤں کی طرف سے اُسی پہاڑ پر دوسرے کوہ پیماؤں کو ریسکیو کر کے اُنکی جان بچانے کی زیادہ تر داستانیں مغربی کوہ پیماؤں کی رپورٹ ہوئی ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان میں ایسی مثالیں بہت کم ہیں کہ کسی کوہ پیما نے کسی دوسری ٹیم کے کوہ پیما کی مدد کی ہو۔ یہاں پر زیادہ تر ریسکیو آپریشن پاکستان آرمی کے ہیلی ریسکیو مشن ہی کرتے ہیں۔ سویلینز میں یہ جذبہ بہت کم ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں زیادہ تر کوہ پیمائی شمال کے لوگوں کی مدد سے ہوتی ہے جہاں وسائل بہت کم ہیں اور شمالی علاقوں کے گائیڈز اور پورٹرز کو اپنی مدد آپ کے تحت غیر منظم انداز میں ریسکیو مشن کرنا پڑتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں بھی کوہ پیمائی کے دوران پیش آنے والے حادثات کےلیے ریسکیو کی تربیت دی جائے اور کوہ پیمائی کی ایتھکس کو فروغ دیا جائے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *