رٹہ سسٹم-شعور کا قاتل/ علی عباس کاظمی

ہم جس تعلیمی نظام پر فخر کرتے نہیں تھکتے، اگر اس کی گہرائی میں جھانکا جائے تو تصویر کچھ زیادہ دل خوش کن نظر نہیں آتی۔ بظاہر یہ نظام بچوں کو کتابیں، بستے، امتحانات اور ڈگریاں تو دے رہا ہے، مگر سوچنے، سوال کرنے اور دلیل کے ساتھ بات کرنے کی صلاحیت دینے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے نظامِ تعلیم کی پیداوار حافظہ پر بوجھ تو ہے، شعور پر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم برسوں اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں گزارنے کے باوجود یہ سوال کرنے سے ڈرتے ہیں کہ “کیوں؟” اور “کیسے؟”

ہمارے تعلیمی نظام کی بنیاد جس ستون پر کھڑی ہے، اسے عرفِ عام میں “رَٹہ سسٹم” کہا جاتا ہے۔ یہ وہ نظام ہے جہاں بچے کو سکھایا نہیں جاتا بلکہ اسے یاد کروایا جاتا ہے۔ سوال کا مقصد سیکھنا نہیں بلکہ نمبر حاصل کرنا ہوتا ہے۔ استاد سوال اس نیت سے پوچھتا ہے کہ کتاب کا صفحہ نمبر فلاں ہے اور طالب علم جواب اس امید پر دیتا ہے کہ وہی الفاظ اگر درست ترتیب سے دہرا دیے جائیں تو کامیابی یقینی ہے۔ یوں سوچنے، تخلیق کرنے اور سوال اٹھانے کی صلاحیت آہستہ آہستہ ماند پڑ جاتی ہے۔

سچ تو یہ ہےکہ رٹہ سسٹم نے ہماری نسلوں کو ذہنی طور پر سست بنا دیا ہے۔ بچہ سوال کرتا ہے تو اکثر اسے بدتمیزی یا گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ “زیادہ ہوشیار مت بنو”، “جو پڑھایا جا رہا ہے وہی یاد کرو” اور “امتحان میں یہی آئے گا” جیسے جملے بچے کے تجسس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آٹھویں جماعت تک بچے کو آنکھ بند کر کے پاس کیا جاتا ہے اور وہی بچہ جب میٹرک کے بورڈ امتحان میں فیل ہوتا ہے تو الزام اساتذہ، سکول اور نظام کے سر ڈال دیا جاتا ہے، حالانکہ ہم نے خود اسے سوچنے کا ہنر کبھی سکھایا ہی نہیں ہوتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے نصاب میں اخلاقیات کے اسباق کی کمی نہیں۔ دیانت، سچائی، برداشت، احترام اور عدل جیسے خوبصورت عنوانات کتابوں میں جگمگاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر اخلاقیات نصاب کا حصہ ہیں تو اسکولوں میں ان پر عمل کیوں نظر نہیں آتا؟ بچہ کتاب میں تو سچ بولنے کا سبق پڑھتا ہے مگر عملی زندگی میں نقل کیے بغیر پاس ہونا ممکن نہیں۔نصاب میں ایمانداری کا باب تو موجود ہے مگر نمبر دیتے وقت سفارش اور تعلق داری غالب آ جاتی ہے۔

یوں ہمارے تعلیمی ادارے تضاد کی ایسی تجربہ گاہ بن چکے ہیں جہاں بچے کو کچھ اور سکھایا جاتا ہے اور کچھ اور سیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اخلاقیات محض امتحانی سوال بن کر رہ جاتی ہیں، کردار سازی کا ذریعہ نہیں بنتیں۔ شاید ہمیں یاد ہی نہیں رہا کہ تعلیم کا ہدف کردار کی تعمیر ہے، صرف ملازمت کے امیدوار پیدا کرنا نہیں۔

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتیں، تخلیقی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور باہمی تعاون جیسے ہنر اب بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ہمارا نصاب وقت کے ساتھ قدم ملا ہی نہیں سکا۔ ہم آج بھی بچوں کو وہی مضامین، وہی طریقے اور وہی امتحانی ڈھانچہ دے رہے ہیں جو شاید ایک صنعتی دور کے لیے موزوں تھے، ڈیجیٹل دور کے لیے نہیں۔

سوال یہ نہیں کہ ہمارے بچے ذہین نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم انہیں صحیح سمت میں تیار کر رہے ہیں؟ ہم انہیں نمبر لینے کی دوڑ میں تو شامل کر دیتے ہیں، مگر زندگی کے مسائل حل کرنے کے قابل نہیں بناتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ڈگری یافتہ نوجوان عملی زندگی میں داخل ہوتے ہی خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ انہیں کتابی علم تو ہوتا ہے، مگر فیصلہ سازی، ابلاغ اور ٹیم ورک جیسی صلاحیتیں ناپید ہوتی ہیں۔

ایک اور المیہ جو ہمارے تعلیمی نظام کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے، وہ ہے “ایک ملک، کئی نصاب” کا تصور۔ کہیں سرکاری اسکول کا نصاب ہے، کہیں نجی اداروں کا، کہیں کیمبرج سسٹم ہے تو کہیں مدارس کا الگ جہان۔ ہر نصاب اپنے ساتھ ایک الگ سوچ، الگ زبان اور الگ دنیا لے کر آتا ہے۔ نتیجتاً ایک ہی ملک کے بچے مختلف ذہنی دنیاؤں میں پلتے ہیں۔

یہ تعلیمی تقسیم رفتہ رفتہ قومی یکجہتی پر بھی سوال اٹھانے لگی ہے۔ جب ایک بچہ اردو میڈیم میں صرف امتحان پاس کرنے کے لیے پڑھتا ہے، دوسرا انگریزی میڈیم میں عالمی خواب دیکھتا ہے اور تیسرا بالکل مختلف فکری سانچے میں ڈھلتا ہے، تو پھر ایک مشترکہ قومی سوچ کیسے پیدا ہوگی؟ نصاب اگر قومیں بناتے ہیں تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کس قسم کی قوم تشکیل دے رہے ہیں۔

کیا ہمارا نصاب واقعی تنقیدی سوچ پیدا کرتا ہے؟ کیا وہ بچے کو یہ سکھاتا ہے کہ ہر بات کو پرکھا جائے، دلیل سے قبول یا رد کیا جائے اور مختلف زاویوں سے سوچا جائے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم فرمانبرداری کو تعلیم اور سوال کو گستاخی سمجھنے لگے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا نصاب زیادہ تر اطاعت سکھاتا ہے، آزاد فکر نہیں۔

تعلیمی اصلاح محض نصابی کتاب بدلنے کا نام نہیں۔ یہ ایک مکمل فکری تبدیلی کا تقاضا کرتی ہے۔ استاد کو محض لیکچر دینے والا نہیں بلکہ رہنمائی کرنے والا بنانا ہوگا۔ امتحان کو سزا نہیں بلکہ سیکھنے کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر، بچے کو سوال کرنے کی اجازت دینی ہوگی، کیونکہ سوال ہی وہ پہلا قدم ہے جو علم کی طرف لے جاتا ہے۔

julia rana solicitors london

جب تک ہم تعلیم کو نمبر، رٹہ اور ڈگری سے آگے بڑھا کر شعور، اخلاق اور تنقیدی سوچ سے نہیں جوڑیں گے، تب تک ہمارے نصاب بدلتے رہیں گے، مگر نتائج نہیں۔
یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم یہ سوال خود سے پوچھیں۔۔۔ ہم بچوں کو کیا پڑھا رہے ہیں۔۔۔ اور کیوں؟

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply