گزشتہ 47 برسوں سے افغانستان میں لڑی جانے والی دو بڑی جنگووں کے باعث خیبرپختون خوا عالمی طاقتوں کی پراکسیز کا لانچنگ پیڈ اور ہماری قومی سلامتی کا مرکز بنا رہا ، جس نے اِس بدقسمت صوبہ کو ایسی مذہبی فعالیت کے سپرد کیا جو اجتماعی زندگی کے فطری دھارے کی رخ گردانی کا سبب بنی ، خاص طور پر نائن الیون کے بعد پھوٹنے والی پُرتشدد تحریکوں نے یہاں کی سیاسی روایات ، قبائلی نفسیات کی پیچیدگیوں اور ریاستی پالیسیوں کو دو دہائیوں تک وقفِ اضطراب رکھا ۔ حیرت انگیز طور پر ریاست نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے فوجی آپریشنز کو بنیادی حکمتِ عملی کے طور پر اپناتے وقت آپریشنز کے سیاسی اثرات کو نظر انداز کیا ، چنانچہ سیاسی اعتبار سے فوجی کاروائیوں کی حکمتِ عملی counter productive ثابت ہوئی اور کبھی نہ تھمنے والے فوجی آپریشنز پہ مشتمل پالیسی نے سوات ، باجوڑ ، مہمند اور جنوبی و شمالی وزیرستان جیسے علاقوں کو ہمارے اجتماعی وجود کا گہرا زخم بن دیا ۔
امر واقعہ بھی یہی ہے کہ 2008 سے 2013 کے درمیان خیبر پختوں خوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے سوات اور جنوبی وزیرستان جیسے علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشنز کی سیاسی اونر شپ لیکر اپنی جماعت کو اَن دیکھی تباہی سے دوچار کر دیا ، فوجی کاروائیوں کے ردعمل میں دہشتگردوں نے بڑے پیمانہ پر اے این پی کی قیادت اور کارکنان کا خون بہا کر ایک پھلتے پھولتے سیاسی تمدن کو موت کی وادی میں اتار دیا ، ایک طرف فوجی آپریشنز نے دہشتگروں کو نہتے سیاسی کارکنوں کے خلاف برانگیختہ کرکے سو سالوں کے سیاسی عمل کے نتیجہ میں تیار ہونے والے سیاسی کارکنوں کے سَروں کی قیمتی فصل کاٹ لی تو دوسری جانب فوجی آپریشنز کے وبال نے عام لوگوں کی سماجی و سیاسی آزادیوں اور بنیادی حقوق کو محدود کرنے کے علاوہ صدیوں کی پائیدار آبادیوں کو نقل مکانیوں پہ مجبور کرکے پورے معاشرے کو اے این پی کے خلاف بھڑکا دیا ۔ جس وقت اے این پی ایک طرف دہشتگردوں کے مہیب حملوں اور دوسری جانب سے عوام کے غم و غصہ، خوف اور مایوسی کا سامنا کر رہی تھی ، عین اُسی وقت تحریک انصاف کی قیادت قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کے خلاف سیاسی مزاحمت اور امریکی ڈرون حملوں کی مخالفت کے ذریعے رائے عامہ کو ہمنوا بنانے میں مشغول تھی ۔ چنانچہ خیبر پختون خوا کے وہ عوام جو نقل مکانی کے مصائب ، اقتصادی مفادات کی پامالی اور دو طرفہ خوف کے عمل سے گزر رہے تھے ، کو عمران خان کے بیانیے میں اپنے مفرضوں کی تصدیق اور دکھوں کا مداوا نظر آیا ۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں پی ٹی آئی جیسی نوزائیدہ جماعت نے جمود پرور معاشرے میں اے این پی جیسی کہنہ مشق سیاسی پارٹی اور جے یو آئی جیسی سکہ بند مذہبی جماعت کو پیچھے دھکیل کر پشتون معاشرے میں جگہ بنا کر 2013 میں صوبائی حکومت کی عنان سنبھال لی ۔ پی ٹی آئی کی سیاسی برتری محض انتخابی جیت نہیں تھی بلکہ یہ ہمہ گیر نظریاتی اور تہذیبی شفٹ تھی جس نے ہمیشہ کے لئے اِس خطہ کی سیاست پہ حاوی مرکز گریز قوتوں کو متروک بنا دیا ۔
اسی طرح مقتدرہ نے 2015 میں شمالی وزیرستان کے آپریشن ضربِ عضب کی سیاسی ذمہ داری کا طوق وزیرِ اعظم نواز شریف کے گلے میں ڈالکر پھر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو دہشتگردوں کے ممکنہ ردعمل سے بچا لیا تاہم ایک بار پھر لاکھوں افراد کی نقل مکانی ، سیکیورٹی چیک پوسٹس ، کاروباری سرگرمیوں کا تعطل اور شہری آزادیوں پر قدغنیں عوامی ناراضی کا سبب بنیں ، عسکری سطح پر یہ آپریشن بے نتیجہ مگر فوجی کاروائیوں کے سیاسی اثرات منفی برآمد ہوئے چنانچہ نواز لیگ جو پہلے ہی صوبہ میں کمزور تھی ، مزید لاتعلق ہو کر رہ گئی ، یوں ایک اور سیاسی جماعت فوجی آپریشنز کی سیاسی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوئی ۔
2018 سے 2022 تک عمران خان کے دورِ حکومت میں دہشت گردی کے خلاف پالیسی نیا موڑ مڑ گئی ، فیصلہ کن فوجی کارروائی کے بجائے مفاہمت اور ری انٹیگریشن کو ترجیح دی جانے لگی ۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے عسکریت پسندوں کو مرکزی دھارے میں واپس لانے کی تجاویز اور بعض بیانات میں انہیں خیبر پختون خوا میں دفاتر بنانے کی اجازت دینے کی باتیں ایسے سیاسی بیانیہ میں ڈھلتی گئیں جس نے دہشتگردی کے خلاف مملکت کے اجتماعی ارادے کو منتشر ، قومی قیادت کی سوچ کو منقسم اور عوام کو کنفیوژ کر دیا ۔ اس بیانیہ نے پی ٹی آئی کو وقتی سیاسی فائدہ تو پہنچایا مگر قومی سلامتی کے لئے اِس کے نتائج منفی نکلے ۔ اس سے دہشت گرد گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا اور صوبے بھر میں دہشت گردی کی خونخوار لہروں نے بڑی تعداد میں پولیس ، سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نگل لیا ۔ اقتدار سے بیدخلی کے بعد عمران خان نے ایک بار پھر وہی بیانیہ اپنایا جو ماضی میں ان کے لیے مفید ثابت ہوا تھا یعنی خیبر پختوں خوا میں فوجی آپریشنز کے خلاف جارحانہ موقف ، اسٹیبلشمنٹ پر تنقید اور ریاستی پالیسیوں کو عوامی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہرا کر خیبر پختون خوا کے عوام کو ریاستی مقتدرہ کے خلاف صف آراء کرنا ، اِسی بیانیہ نے پی ٹی آئی دور کی ناکامیوں کو عوام کی نظروں سے اوجھل کرکے فوجی آپریشنز کو پبلک ڈسکورس کا محور بنا دیا ۔
لاریب ، دہشت گردی ہو یا دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں دونوں صورتوں میں سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑا ۔ سیکیورٹی اقدامات کے نام پر جبری نقل مکانی ، شہری آزادیوں کی تحدید ، بنیادی حقوق کی پامالی اور سماجی ڈھانچے کی ٹوٹ پھوٹ نے معاشرے کو اجتماعی صدمات سے دوچار کر دیا ، گورننس کا نظام مفلوج ہونے سے سول بیوروکریسی اور پولیس میں بھی وفاقی اداروں کے خلاف ناراضگی جنم لینے لگی ، یہ ایسی پیچیدہ صورت حال تھی جس نے فوجی آپریشنز کی حمایت کرنے والی جماعتوں اور شخصیات کو عوامی غیض و غضب کے سامنے لا کھڑا کیا ، ایسے میں پہلے کی طرح پی ٹی آئی کو پھر فوجی کاروائیوں کی مخالفت کا راستہ دیکر سیاسی فائدہ اٹھانے کا موقعہ فراہم کیا گیا ۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آیا یہ سب محض اتفاق تھا یا کسی گہری حکمتِ عملی کا حصہ ؟ جس نے روایتی سیاسی جماعتوں ، مذہبی تنظیموں اور مرکز گریز قوتوں کو دیوار سے لگا کر پی ٹی آئی کو عوامی کے سیاسی شعور پہ مسلط رکھا ، ممکن ہے مقتدرہ عمران خان کے خلاف ہو مگر قرائن بتاتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو بطورِ جماعت مکمل طور پر کمزور یا ختم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی ۔ فوجی آپریشنز کی سیاسی اونر شپ کا بوجھ وفاق پر ڈال کر صوبائی سطح پر پی ٹی آئی کو عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کا موقع دینے جیسے مبہم عوامل ملکر اس تاثر کو تقویت پہنچاتے ہیں کہ خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کا سیاسی وجود کسی نہ کسی صورت برقرار رکھا جائے گا ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں