کتابوں کی دنیا۔۔نذر محمد چوہان

آج سے دو سال پہلے ، میں نے جب ریاست واشنگٹن کے دوسرے بڑے شہراسپوکین کی پرانی کتابوں کی دکان “سیکنڈ لُک بُکس “ اکثر جانا شروع کیا تو اس کی ۸۰ سالہ مالکن نے کہا کہ “آپ ہمارے ساتھ کام کیوں نہیں کرتے ؟“ میں نے کہا کہ اس شرط پر کہ  اگر رات کو مجھے ان کتابوں کے بیچ سونے کی اجازت بھی ہو ؟ اس نے کہا کہ  اسے تو کوئی  اعتراض نہیں لیکن میونیسپلٹی منع کرتی ہے اور بھاری جرمانے کرتی ہے ۔ کل میں نے ایک ہی پانچ گھنٹہ کی نشست میں ایک بہت مشہور ۴۱ سالہ امریکی لکھاری گیبرئیل زیون کا ناول جو ایک بائیوگرافی ہے پڑھا ؛
The storied life of A.J Fikry
کیا کمال کی کتاب ہے ، سات کرداروں کے گرد گھومتی ایک کتابوں کی دکان کے مالک اے جے فکری کی کہانی ۔ اس میں گیبرئیل نے پوری دنیا سموئی ی  ہوئ ہے شاید ہی کوئی  پہلو چھوڑا ہو ۔ آج کی زندگیوں کا کیا شاندار نقشہ کھینچا ہوا ہے ۔ چونکہ گیبرئیل ایک بہت مشہور سکرین رائیٹر بھی ہے لہذ ایسے لگتا ہے جیسے آپ کتاب نہیں پڑھ رہے بلکہ کوئی  فلم دیکھ رہے ہیں ۔ مزے کی اور بات ہے اس کتاب میں ساری کی ساری کتب کی ساتھ وابستہ دنیا سموئی  ہوئی  ہے ۔ لکھاری سے لے کر ، پبلشر،کتب فروش ، کتابوں کے ایجینٹ ، اور قاری سب کے سب ، ہی اس کتاب میں ہیں ۔ میرے سارے دوست لکھاری کلاسرا، اقبال دیوان اور ملیحہ سعید ، پبلشر ز میں ماروا کے خالد شریف ، صدیقی صاحب صدیقی اینٹیک بُکس کے مالک اور میرے بلاگز کے سب قاری ، یہ کتاب ضرور پڑھیں یہ ان سب کے بارے میں ہے ۔ بارنز اینڈ نوبل جہاں کے اسٹار بکس میں بیٹھا جب میں یہ کتاب پڑھ رہا تھا باہر برفباری ہو رہی تھی ۔ کیسنڈرا ایک میری دوست سیلز گرلز جو وہاں بارنز میں کام کرتی ہے مجھے کہنے لگی کہ  آج تم جنت میں ہو ۔ واقعی ہی ایسے لگ رہا تھا جیسے میں اپنی آپ بیتی پڑھ رہا ہوں ۔ اپنی مشکلات ، اپنی ہی مسکراہٹیں ، اپنے خواب اپنی رونقیں اور اپنا رقص ، میری زندگی کے ساٹھ سال میری آنکھوں کے سامنے ۔ میں ناول کے سب کرداروں کو اپنی ساتھ ریلیٹ کر پا رہا تھا ۔
فکری ایک ایلس نامی جزیرے میں کتابوں کی دکان مالک ہوتا ہے ۔ وہ نیوجرسی کے ساحل سمندر کا رہائیشی ہوتا ہے اور پرنسٹن سے امریکی لٹریچر میں پی ایچ ڈی کر رہا ہوتا ہے ایڈگر ایلن پو پر ۔ اسے وہاں ایک جزیرے کی رہائشی لڑکی مونیکا ملتی ہے جو بھی پرنسٹن سے پی ایچ ڈی کر رہی ہوتی ہے اور اسے کہتی ہے کہ آؤ میرے جزیرے میں کتابوں کی دکان کھولتے ہیں وہاں کوئی  کتابوں کی دکان نہیں اور کتابیں ہی دنیا ہوتی ہیں ۔ فکری پی ایچ ڈی چھوڑ کر جزیرے آ جاتا ہے اور کوئی  دو سال بعد مونیکا حادثہ میں مر جاتی ہے اور فکری کی زندگی برباد ہو جاتی ہے دنیا سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے ۔
اسے ایک کتابوں کی rep ایملی ملنے آتی ہے جسے وہ کہتا ہے کہ  وہ اسے یہ بتائے گا کہ  کونسی کتابیں اسے پسند نہیں اور تقریباً سب ہی اسے ناپسند ہوتی ہیں سوائے شارٹ اسٹوریز کے ۔ فکری کا کردار ایک بہت اپنی مرضی کا مالک کا دکھایا ہوتا ہے ۔ پرنسٹن کی امریکی ادب کی پی ایچ ڈی چھوڑ کر ایک سنسان جزیرے میں کتابوں کی دکان اور وہ بھی جس کی وجہ سے بنائی  مر گئی اور اب تنہائی ۔ ایک آدمی اپنی عینک اس کی دکان پر بھول جاتا ہے ، جب فکری سے لینے آتا ہے تو فکری ڈانٹ کر کہتا کہ  اس نے باہر پھینک دی تھی اس کی دکان کوئی  lost & found اسٹور نہیں ۔
فکری اپنی اسٹور کے اوپر کی منزل پر ہی رہائش رکھتا ہے ۔ وہ نیچے دکان کا دروازہ بھی رات کو لاک نہیں کرتا۔ ایک دن ایک عورت اپنی پندرہ مہینے کی بچی اسٹور میں چھوڑ جاتی ہے ایک خط کے ساتھ ۔ خط میں لکھا ہوتا ہے کہ یہ مایا ہے اور اس کی والدہ کی خواہش ہے کہ  یہ کسی کتابوں کی دکان میں پھلے پھولے اور بڑی ہو ۔ فکری پریشان ہوتا ہے کہ  بچی کو کیسے سنبھالے ۔ بار بار گوگل کرتا ہے کہ  ڈائپر کیسے بدلا جائے ۔ تھانے جاتا ہے کہ  اس کو کسی سینٹر میں جمع کروایا جائے پھر ارادہ ترک کر دیتا ہے ۔ اپنی سالی کی مدد مانگتا ہے ۔ اس کی سالی کا خاوند لکھاری ہوتا ہے اور ایک ہی کتاب اس نے لکھی ہوتی ہے ۔ بوسٹن سے ایک بچوں کی نرسنگ کئیر والے بچی کو لینے آتے ہیں تو فکری انہیں دینے کی بجائے اسے اپنی adoption میں لے لیتا ہے ۔
فکری کے پاس ایک انٹیک ہوتی ہے ، ایڈگر ایلن پو کی سب سے پہلی کتاب Tamerlane and other poems
کا ایک 1918 کا چھپا ہوا ایڈیشن ۔ فکری اسے ٹمپریچر کنٹرولڈ گلاس بکس میں رکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ آ نے واے وقتوں میں اسے بیچ کر وہ زندگی گزر بسر کرے گا ۔ وہ کتاب چوری ہو جاتی ہے جو بعد میں پتہ لگتا ہے کہ اس کی سالی نے ہی کی ہوتی ہے وہ اسے تب واپس کرتی ہے جب فکری کو کینسر ہو جاتا ہے اور علاج کے لیے پیسہ نہیں ہوتا ۔ تب تک فکری اس پبلشنگ کمپنی کی rep ایملی سے شادی کر لیتا ہے اور بچی مایا بھی جوان ہو جاتی ہے سوچتا ہے پیسہ ان پر لگایا جائے اور علاج رہنے دیا جائے ۔ لیکن ایملی نہیں مانتی ۔ کرسٹی آکشن ہاؤس کے  ذریعے کتاب 72 ہزار ڈالر پر نیلام ہوتی ہے اور فکری کا علاج ممکن ہوتاہے لیکن وہ ایک مہینہ میں ہی مر جاتا ہے ۔ فکری کا کینسر بھی اس کی طرح ایک میں دس کروڑ والا ہوتا ہے ۔
فکری کو ایک بہت ہی قدامت پسند اور عجیب و غریب شخص دکھایا ہوا ہے ۔ مایا کی والدہ ہارورڈ کی اسٹوڈنٹ ہوتی ہے اسکالرشپ پر لیکن بچی کی وجہ سے پڑھائی  اور مالی معاملات کی وجہ سے مایا کو دکان پر چھوڑ کر سمندر میں ڈوب کر خودکشی کر لیتی ہے ۔ ایک دفعہ فکری کی ماں ان کے لیے ای بُکس کا ٹیب لاتی ہیں تو فکری بہت ناراض ہوتا ہے ، اس کے نزدیک ای بُکس ٹیب ہرگز کتاب کا نعم البدل نہیں ۔
اس ناول میں آن لائن ڈیٹنگ پر بھی اچھے اقتباسات ہیں کہ  کس طرح شادی سے آپ اصل میں یہ چاہ رہے ہوتے ہیں کہ
having a smart , pretty, wife with whom you get to spend every working day ..
فکری کتابوں کی دکان کے باوجود لکھاریوں سے نفرت کرتا ہے اور زیادہ تر لکھاریوں کو
unkempt, narcissist, silly and generally unpleasant people ..
گردانتا ، اور مزید کہتا ہے کہ  وہ اپنی تصویروں سے بھی نہیں ملتے جو کتاب کی جیکٹ پر لگی ہوتی ہیں ۔
ایک اور دیکھنے کا زاویہ وہ اس طرح بیان کرتا کہ جو چیزیں ہمیں ٹونٹیز میں اچھی لگتیں ضروری نہیں فار ٹیز میں بھی اچھی لگیں ۔ کتابوں کا اور زندگی کا بھی یہی المیہ ہے ۔ ہم مسلسل recreate ہو رہے ہیں جس کی کوئی  عمر نہیں ۔ اور اس کی مثال ناول میں بار بار ایملی ایک ۸۰ سالا شخص کی سوانح عمری Late Bloomer کے نام سے کتاب کا دیتی ہے ۔ یہ شخص 78 سال کی عمر میں شادی کرتا ہے اس عورت سے جو دو سال بعد 83 سال کی عمر میں مر جاتی ہے ۔ اس کی memoirs کا شروعات ہی عجیب و غریب ہوتا ؛
I am 81 Years old, and statistically speaking I should have died 4.7 years ago.
اس ناول میں ماڈرن زندگی کی حدوں یا limitations پر بھی بہت بحث ہوتی ہے ۔ اکثر میں اس طرح کے ناولوں کو روحانی بھی سمجھتا ہوں ، یہ روح والی زندگی کی بات کرتی ہیں ۔ میں کالج میں انگریزی ادب کا جب طالب علم تھا تو تھامس ہارڈی کی کلاسیک
Tess of the d’Urbervilles
مجھے ہمیشہ بہت روحانی لگتی تھی ۔ اس کے بہت سارے scene آج بھی میرے زہن میں نقش ہیں جیسے Tess کا گائے کا دودھ دھونا ۔ جب Angel اس کا عاشق Tess کو پروپوز بھی کرتا ہو تو وہ اس وقت دودھ دھو رہی ہوتی ہے ۔
اسی طرح گوگل کی حدود کی بات بھی ہوتی ہے ۔ جب فکری مایا کے لیے کھانے کا گوگل کرتا ہے تو کئی  دفعہ یہ جانے بغیر اپ سیٹ ہوتا ہے کہ؛
.. what google doesn’t know is that most of what AJ eats is disgusting ..
پھر جا کر اسے پتہ لگتا ہے کہ ؛
can’t raise a baby on books and google alone ..
جب مایا فکری کو باپ کہتی ہے اور پیار سے اکثر کہتی ہے کہ  وہ اسے love کرتی ہے تو AJ تعجب سے کہتا ؛
You don’t even know me, little girl you should not go throwing around your love so easily ..
اور پھر اسے بہت پیار سے سمجھاتا ہے کہ
‏Maya we are what we love we are that we love
ڈیٹنگ سائٹس کا بھی فکری کے نزدیک یہی المیہ ہے ، ان سے یہ نہیں پتہ لگتا کہ  sweetheart واقعہ ہی میں sweet ہے ؟
he had a high school sweet heart , it took him a long time to realise that she was not in fact sweet heart or a very nice person at all..
یہ میں نے کل کے بلاگ میں بھی لکھا تھا کہ  بہت مشکل ہے اپنے جیون ساتھی میں پرفیکشن کو ڈھونڈنا ۔ اس ناول میں بھی یہی رونا رویا گیا ہے جب فکری ایملی کو پروپوز کرتا ہے تو ایملی سوچتی ہے ؛
‏he knows she is not perfect she knows he definitely isn’t perfect , they know there is no such thing as perfect
وہ دونوں پھر سوچتے ہیں کہ  ٹیمرلین نے بھی تو اپنی peasant girl سے محبت کو ٹریڈ کیا تھا ۔
ایک اور بات اس ناول میں جو کی گئی  ہے وہ خدا کی close door اینڈ open window کی پالیسی ہے ، جسے ہم اردو میں “ایک در بند تو سو در کھلے “ بھی کہتے ہیں ۔ کیسے اسے مونیکا ملتی ہے کتابوں کی دکان کھلتی ہے اور جب مونیکا مرتی ہے تو مایا اور ایملی فکری کی زندگی میں آ جاتے ہیں ۔ یہ ساری زندگی renew ہوتی رہتی ہے ۔ چہرے بدلتے رہتے ہیں روح اور قدرت کا لگاؤ نہیں ٹوٹتا وہ ازلوں سے ایک ہی دُھن ۔ اور فکری کہتا ہے کتابیں ہمیشہ سچ بولتی ہیں ، زندگی گزارنے کے طریقے بتاتی ہیں لوگ تو ہمیشہ ؛
tell boring lies about politics , God and love ..
ہم خوامخواہ ہی کہ دیتے ہیں کہ
Every bad thing in world is result of bad timing and good , good timing ..
جبکہ ایسا نہیں ہے ہم قدرت کے flow میں زندگیاں گزار ہی نہیں رہے جو event زندگی میں اچھا لگتا ہے اس کی ٹائمنگ اچھی سمجھتے ہیں اور بُرے کی بُری ۔ اصل پیار ، قدرت اور روح کا معاملہ ہے ہی beyond ٹائم اور اسپیس ۔
بار بار ایملی فکری کو True Blood فلم دیکھنے کا کہتی ہے جو اصل سچائی ہے ۔
ہم سب کو ایک خوف طاری رہتا ہے کہ ہم unlovable ہیں جو ہمیں تنہائی  میں لے جاتا ہے ، حالانکہ ناول کی لکھاری کے مطابق پہلے ہم تنہائی  میں جاتے ہیں جس کے بعد یہ سوچ جنم لیتی ہے کہ شاید ہم unlovable ہیں ۔ دراصل ہمیں ایسا شخص اپنے لیے تلاش کرنا چاہیے جو یہ کہے؛
You are the only person in the room ..
آپ کی خوشی ، آپکی خوشی ہے جسے ناول کی مصنفہ کہتی ہے کہ  یہ آپکی ہے جب تک
unless there is equal ratio of happiness to unhappiness in the world ..
یہ سارا اس بات پر منحصر ہے کہ  آپ نے اس ساری زندگی کو کیسے لیا ، اگر آپ نے کوئی  انحصار یا dependency رکھی تو اس کا بھی آپ ہی کو خمیازہ بگھتنا ہے جیسے ایملی کہتی  ہے کہ  اس کے انڈر ویر ہمیشہ اس کی ماں خرید کر بھیجتی اب اسے TJ Max کی lingerie بھی ایک Alice in wonderland نظر آتی ہے ۔ اور پھر ماں کی محبت ایسا محسوس کرنے پر مجبور کرتی کہ  ؛
“no one will ever love me that much again
لکھاری کا کام ہی قاری کی ہمدردیاں جیتنا ہے اور ساری کہانیاں ہی اس فلسفہ کے گرد گھومتی ہیں ؛
Showing empathy is hallmark of great writing ..
who knows what people do what they do ..
آپ کبھی اتنی اچھی کتابیں نہیں لکھ سکتے اگر آپ ایک خوبصورت دل کے مالک نہیں
ایک جملہ جس کو بار بار ناول میں دہرایا جاتا ہے وہ ہے ؛
a man is not his own island ..
ہمیں کتابوں کے ساتھ ہی وابستہ  رہنا ہے اور ان کا پڑھنا ہی ہماری زندگی یقیناً کو خوشگوار بنائے گا ۔
we read to know we are not alone .. we read and we are not alone ..
اور یہی میرا آج کا بلاگ کا موضوع ہے ؛
every book is a world . ..
اور لکھاری بھی ایک انٹلیکچؤل کی طرح ہوتا ہے اس کی بھی خواہش شئیر اور سکھانا ؛
A true intellectual has desire to share and teach
اور ٹیکنالوجی کو بھی ساتھ لے کے چلنا ہے as a means وگرنہ آپ جلدی بوڑھے ہو جائیں گے ؛
the easiest way to get old is to be technologically behind ..
ہم یہ ساری کہانیاں دنیا کو اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے لکھتے ہیں ؛
we tell stories to understand the world .. to explain the world to one another and for our selves ..
اور جو قارئین ہیں وہ اس سب کچھ میں زندگی کی اپنی کہانیاں تلاش کرتے ہیں ۔
Readers tend to see their lives through the lens of a story ..
یہی سچ ہے ، حقیقت اور قدرتی ۔ میں ایک دفعہ 2004 میں بنکاک میں تھا تو ایک آسٹریلوی لکھاری سے اس ہوٹل جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا کے بار روم میں اس بات پر دوستی ہوئی  جب میں نے اس کے سامنے کرکٹ کے آسٹریلوی کھلاڑی شان وینز کا تازہ بیان quote کیا جس میں اس نے کہا کہ  اس نے زندگی میں کبھی کوئی  کتاب نہیں پڑھی ۔ اس عورت نی مجھے گلے لگایا اور کہا کہ  کاش وہ اس کو اس کے اس بیان پر جیل میں ڈال سکتی ۔
بلاگ بہت لمبا ہو گیا ، لیکن چونکہ یہ ناول مجھے شدید پسند آیا میں رہ نہیں سکا اسے زیادہ سے زیادہ شئیر کرنا ۔ بہت خوش رہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *