• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • تعمیر نوء یا نیا استحصال؟ کشنر کا غزہ پر ‘ساحلی ریزورٹ’ منصوبہ/ عمر شاہد

تعمیر نوء یا نیا استحصال؟ کشنر کا غزہ پر ‘ساحلی ریزورٹ’ منصوبہ/ عمر شاہد

اس دنیائے سرمایہ داری میں اربوں انسانوں کی تقدیر ان چند سرمایہ داروں کے ایجنڈوں کی نذر ہوتی ہے جو ترقی اور امن کے چکمے دے کر محنت کشوں کے وسائل پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔ امریکی سامراج کے صدر ٹرمپ کے داماد جیریڈ کُشنر نے غزہ پٹی کو شاندار ساحلی ریزورٹ میں تبدیل کرنے کا جو منصوبہ پیش کیا ہے، وہ اسی استعماری ذہنیت کی غمازی کرتا ہے۔ وہ غزہ کی تباہی، جس میں ان کی اپنی حکومت کا بھی ہاتھ ہے، کے بعد اب وہاں ترقی کے خواب دکھا رہے ہیں۔ یہ خواب چمکتی بلند عمارتوں اور ’بہترین روزگار‘ کے چورن میں لپٹے ہوئے ہیں، مگر ان کی حقیقت کچھ اور ہے۔

کشنر کہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں تین سال بڑے شہر بنا لیے جاتے ہیں۔ سچ ہے! ان ریاستوں میں لاکھوں محنت کش مہاجرین کی انتہائی استحصال پر مبنی غلامی اور خون پسینے پر یہ تعمیرات ہوتی ہیں۔ یہی ’ماڈل‘ شاید وہ غزہ پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسی جگہ جہاں لاکھوں فلسطینی اپنی زمین، اپنی شناخت اور اپنے حقوق سے محروم ہو کر صرف سامراجی سرمائے کی تعمیرات کے مزدور بن کر رہ جائیں۔ وہ امن جس کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے، وہ محکوم قوم کی مرضی کے بغیر، اسے اس کے تاریخی حق سے محروم کر کے تھوپا جانے والا ’امن‘ ہوگا۔

یہ ’ماسٹر پلان‘ کوئی انسانی ہمدردی کا اظہار نہیں، بلکہ سرمائے کی ایک نئی منڈی تک رسائی کا بلیو پرنٹ ہے۔ 25 ارب ڈالر کی بات کی جا رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ دولت کہاں سے آئے گی اور اس کے بدلے میں کیا چھین لیا جائے گا؟ فلسطینی قوم کی قومی خودارادیت، ان کا حقِ واپسی، ان کی حاکمیت – کیا یہ سب اس ’شاندار ریزورٹ‘ کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے؟ کُشنر کے الفاظ میں ’امید‘ اور ’منزل‘ درحقیقت فلسطینی عوام کے لیے نئی غلامی کی زنجیریں ہیں۔

یہ سارا ڈرامہ اس وقت کیا جا رہا ہے جب غزہ کی زمین ابھی تک فلسطینی شہیدیوں کے خون سے تر ہے، اور بچے بھوک اور بیماری سے مر رہے ہیں۔ یہ وحشیانہ تباہی مچانے والے ہی اب تعمیر نو کے داعی بن کر آ رہے ہیں۔ یہ نہایت ہی مکروہ اور بے شرم سرمایہ دارانہ منطق ہے۔

julia rana solicitors

فلسطینی عوام کی حقیقی ترقی اور خوشحالی کا راز اربوں ڈالر کے سامراجی منصوبوں میں نہیں، بلکہ سامراج اور سرمایہ داری کے جبر سے مکمل آزادی میں ہے۔ وہ دن جب فلسطین کی زمین پر فلسطینی عوام کی حاکمیت ہوگی، ان کا اپنا وسائل پر اختیار ہوگا، وہیں سے ایک حقیقی تعمیر و ترقی کا سفر شروع ہو سکے گا۔ اس سے پہلے یہ تمام منصوبے محض نئے استحصال کے دروازے کھولنے کی سازشیں ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply