آج مبشر زیدی کا فیس بک پہ آرٹیکل پڑھا جس میں انہوں نے امریکی خاتون اوّل ایلینوز روزویلٹ کے ایک قول کا ذکر کیا ہے کہ: عظیم ذہن نظریات پہ تبادلہ خیال کرتے ہیں، اوسط درجے کے دماغ واقعات کو موضوع بناتے ہیں اور چھوٹے دماغ لوگوں کی باتیں کرتے ہیں۔ زیدی صاحب آپکا آرٹیکل دلچسپ تھا مگر میں مس روزویلٹ کے اس قول کو ایک اور زاویئے سے دیکھتا ہوں۔دوسری جنگ عظیم تک میرے خیال میں بڑے بڑے مفکر خیالات اور نظریات کی باتیں کرتے رہے مگر اس میں انسان قربان بھی ہوئے اور نظر انداز بھی ہوئے۔
اب جب عوام نظریات پر قربان ہوئے لیکن فائدے وہ لوگ اٹھاتے رہے جو نظریات کے ٹھیکے دار تھے۔ پھر ان نظریاتی ٹھیکے داروں سے تنگ آ کے عوام نے واقعات کو پرکھنا اور انکا بے باک تجزیہ کرنا شروع کیا اور ان واقعات کا تجزیہ کرتے کرتے عوام اس نتیجے پہ پہنچے کہ واقعات کا تجزیہ کرنا نہایت اہم ہے اور واقعات کو ڈسکس کرنے والے انسان اوسط درجے کے انسانی ذہن نہیں
اور جن کو کو مس روزویلٹ چھوٹے دماغ کے لوگ کہتی ہیں جو لوگوں کو ڈسکس کرتے ہیں۔لوگ ہی تو درحقیقت سب کچھ ہیں۔ نظریات اور واقعات سب انسان کے آگے ہیچ ہے۔
کہتے ہیں کہ انسان ایک زندہ کتاب ہے جسے انسانوں کو پڑھنے کی عادت نہیں اور میرے خیال میں مس روزویلٹ جیسے کئی دانشوروں نے انسانوں کو انسانوں سے دور کر دیا اور عوام انسانوں پہ ڈسکشن کو ہیچ قرار دیتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان اپنے آپ سے زیادہ نظریات کو اہمیت دیتے رہے بلکہ انکی پرستش کرتے رہے۔ اس خیال سے انسان اپنے آپ سے کوسوں دور چلا گیا۔
میرے خیال میں مس روزویلٹ کےقول کو کچھ ایسے ہونا چاہیے :
عظیم انسان انسانوں پہ بات چیت کرتے ہیں، اور اوسط سطح کے انسان واقعات کو ڈسکس کرتے ہیں اور چھوٹے اور گھٹیا دماغ کے لوگ ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کے خیالات اور نظریات کو ڈسکس کرتے ہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں