رات کی مدھم چاندنی جب ڈاکٹر بخت روان کے حجرے پر ٹھہری ہوئی تھی، ہم چند احباب ایک ایسی نشست میں جمع تھے جو محض ملاقات نہیں، وقت کے گزرے ہوئے اوراق کی ورق گردانی تھی۔ عشائیے کے بعد چائے آئی تو مکالمہ یوں بہہ نکلا جیسے برسوں کے تجربے نے ایک لمحے میں اپنی گہرائی کھول دی ہو۔ سیاست دانوں کے نجی محفلیں، عسکری اداروں کی خاموش چالیں، عدلیہ کے تاریخی موڑ، بیوروکریسی کے نادیدہ زاویے اور وہ تمام آف دی ریکارڈ کہانیاں جو محفلوں میں تو گونج رکھتی ہیں لیکن کاغذ پر منتقل نہیں ہوتیں، اس لیے کہ المجالس بالامانہ۔
محفل کی سب سے نمایاں آواز رشید یوسفزئی کی تھی۔ انہوں نے باتوں کو یوں جوڑا جیسے یادداشت کا کوئی دریا بہہ رہا ہو۔ اقوام متحدہ کے سینئر بیروکریٹ ادریس ماموندزئی کا وہ تبصرہ بےساختہ یاد آیا کہ “رشید خان جس موضوع کو چھیڑتے ہیں، اس کے لیے دلائل کی پوری قطار لگا دیتے ہیں، اور جس کتاب کو پڑھ لیں، اسے گویا حفظ کر لیتے ہیں۔” اُس رات یہ جملہ حقیقت کی صورت سامنے کھڑا تھا۔
گفتگو کے موضوعات بدلتے رہے، کسی وزیر کی کمزوری، کسی جج کے فیصلے کا پس منظر، کسی جنرل کی بےنام حکمتِ عملی، کسی عالمی دباؤ کا دھیمہ اثر۔ انہی بدلتے سائے میں ایک پل ایسا آیا جب محفل کا رخ مولانا فضل الرحمان کی جانب مڑ گیا۔ یہ کوئی طے شدہ موضوع نہ تھا، باتوں کی روانی خود بہاؤ لے آئی تھی۔
رشید یوسفزئی نے سیاست کے ہلکے پھلکے پہلو کی جھلک دکھاتے ہوئے وہ واقعہ سنایا جب ایم ایم اے دور میں قومی اسمبلی کی کیفیٹیریا میں مولانا اور قاضی حسین احمد چائے پر موجود تھے۔ عبدالاکبر چترالی غیر ضروری اصرار سے محفل اداس کیے بیٹھے تھے، اور سید بختیار معانی لاکھ کوشش کے باوجود انہیں چپ نہ کرا سکے۔ جب معاملہ طول پکڑا تو مولانا نے طنزیہ وقار سے کہا: “بختیار معانی، چترالی صاحب اس بات پر غصہ نہیں کہ آپ پیپلز پارٹی کی سربراہ کی سالگرہ میں جا رہے ہیں… غصہ اس بات پر ہے کہ جوانی میں وہ کہاں تھی، جب عورت 53 سال کی ہوئی تو لفٹ ملی!” اور دیکھتے ہی دیکھتے سنجیدگی ہنسی میں گھل گئی۔
اسی بہاؤ میں رشید نے منصورہ کے اس اجلاس کا ذکر بھی چھیڑا جب ایم ایم اے کی بحالی کی کوشش ہو رہی تھی۔ لیاقت بلوچ ترازو کے فضائل پر طویل تقریر میں محفل پر بوجھ بن رہے تھے کہ مولانا نے جملہ کاٹ کر کہا: “پتہ نہیں ٹیڑھی ہے کہ سیدھی… بس ترازو مل گئی!” اور لمحے میں جمع شدہ بوریت تحلیل ہوگئی۔ رشید نے یہیں بات آگے بڑھائی کہ سیاست برابری کے پلڑوں کا نہیں، مفاہمت کا فن ہے، اور مولانا اسی حقیقت کے نباض ہیں۔
یہ تمام واقعات بتاتے ہیں کہ مولانا کی اصل طاقت ان کی زبان نہیں، ان کا انداز، ان کا ٹھہراؤ اور ان کی موقع شناسی ہے۔ وہ جذباتی سیاست سے گریز کرتے ہیں، سنجیدگی کو مقدم رکھتے ہیں اور لمحے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔
صبح بخت روان کے حجرے سے میری بیٹھک تک گفتگو کا رنگ بدلا، مگر شیرینی برقرار رہی۔ چائے شوگر فری تھی مگر رشید یوسفزئی کی باتوں کی حلاوت نے اسے شیریں بنا دیا۔ بلوچستان کی خاموش سیاست، خیبر پختونخوا کی بدلتی فضا، مرکز کی حکمتِ عملی اور عالمی دباؤ، موضوعات کی وسعت موجود تھی مگر مولانا کا ذکر مہذب وقفوں کے ساتھ واپس آتا رہا۔
رشید یوسفزئی نے کہا کہ مولانا کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں صرف نعروں اور اتحادوں کی آنکھ سے نہ دیکھا جائے۔ وہ آمریت سے بھی گزرے، مذہبی انتہاؤں سے بھی، عالمی سیاست کی حرارت بھی محسوس کی اور پارلیمان کے پیچیدہ دریچوں میں بھی سفر کیا۔ ان کے نزدیک مولانا تین دھاروں کے مسافر ہیں، عالمی سیاست کا عرفان، روایت کی پاسداری اور پاکستانی سیاست کی پیچیدگیوں کا گہرا شعور۔
انہوں نے کہا کہ مولانا جذباتی خطاب کے ذریعے سیاسی ہجوم بنانے والے رہنما نہیں۔ یہی ان کا ’’جرم‘‘ ہے کہ وہ چیختے نہیں، صرف فیصلہ کرتے ہیں، اور وقت اُن کے فیصلوں پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔ رشید مسکرائے اور بولے: “مولانا کی خاموشی بعض سیاسی جماعتوں کے پورے منشور سے زیادہ وزن رکھتی ہے۔”
عام تاثر ہے کہ مولانا یا تو اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہیں یا مستقل مزاحمت کار۔ رشید یوسفزئی اسے سطحی مفروضہ کہتے ہیں: “مولانا طاقت کو پہچانتے بھی ہیں، اس سے ٹکراتے بھی ہیں، اور بوقتِ ضرورت بات چیت کا دروازہ بھی بند نہیں کرتے۔ یہی حقیقت پسندی سیاسی بقا کا پہلا اصول ہے۔”
رشید کی تحریریں مولانا کی پشتون شناخت کے توازن پر بھی روشنی ڈالتی ہیں؛ وہ علاقائی حقوق کے علمبردار ہیں مگر پاکستان کے مرکزی دھارے سے وابستہ رہتے ہیں۔ اسی لیے تمام ادوار میں ان کی آواز وزن رکھتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ کہ مولانا نے مذہبی طبقے کو پارلیمانی جمہوریت کی طرف لانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ روایت کے امین بھی ہیں اور عصر کی نزاکتوں کے شناور بھی، یہی وجہ ہے کہ انہیں محض ایک پارٹی لیڈر نہیں بلکہ ایک ’’سیاسی ادارہ‘‘ کہا گیا۔
محفل ختم ہوئی تو یہ احساس گہرا ہوا کہ اصل سیاست کتابوں میں نہیں، ایسی خاموش نشستوں میں سانس لیتی ہے جہاں سچ آہستگی سے کھلتا ہے، قہقہے تلخی کو کم کرتے ہیں، اور سیاست اپنے اصل چہرے میں بولتی ہے۔ اپنے عروج و زوال، غلطیوں، سیکھنے اور وقت کی پیچیدگیوں کے ساتھ۔

مولانا فضل الرحمان اسی سیاست کے ایک اہم کردار ہیں، بے شور، بے دکھاوا، مگر اپنے وزن کے ساتھ۔ ان پر اختلاف بھی ہوگا، تنقید بھی، مگر کردار سے انکار ممکن نہیں۔ سیاست میں کچھ لوگ شور مچاتے ہیں اور کچھ تاریخ کے ساتھ چلتے ہیں۔ رشید یوسفزئی کے نزدیک مولانا انہی دوسری صف کے لوگوں میں سے ہیں، خاموش، متنازع، مگر ناگزیر۔
ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں