شبِ برأت! ہم کیا بھولتے جارہے ہیں؟-اختر شہاب

شبِ برأت اسلامی سال کے آٹھویں مہینے شعبان المعظم کی 14 تاریخ کی رات کو 15 تاریخ کا دن طلوع ہونے سے پہلے آتی ہے۔ اس کا لفظی مطلب ہے “نجات و آزادی کی رات”۔ اسلامی عقیدے کے مطابق، اس رات اللہ تعالیٰ آئندہ سال کے لیے مخلوق کی تقدیر، رزق، عمر اور دیگر معاملات کے فیصلے فرما دیتے ہیں گویا یہ گناہوں سے معافی، اللہ کی رحمت اور بخشش پانے کی خاص رات ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ پہلے آسمان پر نزول فرماتے ہیں اور بندوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔ بعض روایات کے مطابق اس رات مسلمانوں کی عمومی مغفرت ہوتی ہے، سوائے ان کے جن کے دلوں میں بغض و کینہ ہو یا وہ شرک و سحر جیسے کبیرہ گناہوں میں ملوث ہوں۔

اس رات کو مخصوص دعائیں پڑھنے کی بجائے، اپنے گناہوں کی معافی، اپنی اور تمام مسلمانوں کی بہتری اور آخرت میں نجات کے لیے دل کھول کر دعا مانگنی چاہیے۔ تاہم، درج ذیل دعا پڑھنا افضل ہے اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (ترجمہ: اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔۔)بہت سے علما کے نزدیک اس رات سورہ یٰسین پڑھنا بھی مستحب ہے۔اس رات کو نوافل اور تلاوت قرآن خصوصاً نماز تہجد کا اہتمام کرنا بھی افضل ہے ۔۔اگر دعائیں یاد نہیں تو اپنے الفاظ میں، عاجزی، گڑگڑاہٹ لائیں اور یقین کے ساتھ اپنے رب سے مانگیں۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، شبِ برأت کے موقع پر آتش بازی، پٹاخے چلانا، چراغاں یا دیگر تہواروں جیسے رسم و رواج کرنا درست نہیں ہے۔ یہ وہ کام ہیں جو نبی کریم ﷺ، آپ کے صحابہ یا سلف صالحین کے دور میں نہیں تھے۔ اس لیے ان کو مذہبی عمل سمجھ کر اپنانا دین میں نئی بات ایجاد کرنا (بدعت) ہے، جو گمراہی ہے۔

شبِ برأت کی مقدس گھڑیاں جب آتی ہیں تو آسمانِ رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہ وہ پاکیزہ لمحات ہیں جب ربِ کریم کی بخشش و مغفرت کی بارش ہر دُعاگو پر برستی ہےمگر آج کل جب ہم شبِ برأت مناتے ہیں۔ یا وہ روز وشب گزارتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے اس رات کے صرف نصف روحانی پہلو پر ہی زور دینا شروع کر دیا ہےاور اسے ہی برقرار رکھا ہے، جبکہ بزرگوں کے دور سے چلے آرہی شبِ برأت کے سماجی و معاشرتی پہلوؤں کو رفتہ رفتہ فراموش کرتے جارہے ہیں ۔ہمارے بچپن میں شبِ برات صرف عبادت و ریاضت کی رات ہی نہیں ہوا کرتی تھی ، بلکہ یہ رشتوں کی تجدید ، میٹھے پکوانوں کی تقسیم اور حلوے کی مٹھاس سے گھروں کو معطر کرنے کا موقع بھی ہوا کرتی تھی۔ ہر گھر سے اٹھنے والی حلوے کی خوشبو پورے محلے میں پھیل جاتی تھی۔ یہ حلوہ صرف ایک میٹھی ڈیش نہیں تھا، بلکہ محبت کا پیغام تھا جو پڑوسیوں، رشتہ داروں اور دوستوں تک پہنچایا جاتا تھا۔

julia rana solicitors london

یہ صرف گھریلو پکوان نہیں، بلکہ ایک چھوٹی سی صنعت تھی جو اس موقع پر پھلتی پھولتی تھی اور سوجی ، میدہ بیسن گھی چینی وغیرہ بیچنے والوں کے لیے یہ موقع روزگار میں اضافے کا سبب بھی بنتی تھی۔ یہ محض کھانا پکانا نہیں تھا، بلکہ معاشی سرگرمیوں کا ایک سلسلہ تھا جو کئی ہاتھوں کو کام دیتا تھا مگر سب سے بڑھ کر، یہ تہوار ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتا تھا۔ حلوے کی پلیٹیں لیے بچے پڑوسیوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ، بزرگوں سے دعائیں لیتے، مسکراہٹوں اور محبتوں کا تبادلہ ہوتا۔ اس موقع پر لوگ اپنے گھروں سے پڑوسیوں کا حصہ نکال کر انہیں اپنی خوشیوں میں شریک کرتے۔ گو ان میں سے کچھ پڑوسی اس وقت بھی اسے بدعت سمجھتے تھے مگر دوسروں کا دل رکھنے کو ان کا بھیجا ہوا میٹھا چکھ ضرور لیتے تھے۔
شبِ برأت کی روحانی عظمت پر تو ہمارا ایمان برقرار ہے ۔ہم نماز پڑھتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ مگر کیا ہم نے اس کے سماجی پہلو کو نظر انداز کر کے اس کی جامعیت کو مجروح نہیں کر دیا؟ کیا عبادت صرف رسمی دعاؤں تک محدود ہے، یا پھر انسانوں سے محبت، ہمدردی اور ان کے ساتھ اچھے تعلقات بھی عبادت کا حصہ ہیں؟
آئیے، اس شبِ رات ہم عہد کریں کہ نہ صرف اپنے گناہوں کی مغفرت مانگیں گے ، بلکہ اپنے رشتوں کو بھی تازہ کریں گے۔ چلیں اس دفعہ اس کی ابتدا ایک نئی اور چھوٹی سی شروعات کریں۔۔ حلوہ بھیجیں نہ بھیجیں مگر اپنے پڑوسی سے ملاقات، رشتہ داروں کو فون کال، کسی غریب کی مدد، یا صرف کسی کا حال احوال ضرور پوچھ لیں ۔ یہ سب بھی عبادت ہی تو ہے۔یاد رکھیں ! شبِ رات کی برکتیں ہماری عبادتوں تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے کردار، ہمارے روئیے اور ہمارے تعلقات میں بھی جھلکتی ہیں۔ آئیے، اس مقدس رات کی روح کو مکمل طور پر زندہ کریں ۔ نہ صرف اپنے دل بلکہ اپنے دروازے بھی کھولیں، تاکہ مغفرت کی یہ رات ہمیں خدا سے بھی قریب کرے اور انسانوں سے بھی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply