• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کراچی کا ٹریفک بحران، پورٹ سٹی ہونا یا حکومتی نااہلی؟-شیر علی انجم

کراچی کا ٹریفک بحران، پورٹ سٹی ہونا یا حکومتی نااہلی؟-شیر علی انجم

ملک کا سب سے بڑا شہر، اپنی قدرتی بندرگاہ کی وجہ سے صدیوں سے تجارتی مرکز رہا ہے۔ یہ شہر نہ صرف پاکستان کی جی ڈی پی کا بڑا حصہ پیدا کرتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی تجارت کا اہم گیٹ وے بھی ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں کراچی کا ٹریفک بحران ایک مستقل درد سر بن چکا ہے، جو روزمرہ زندگی کو مفلوج کر رہا ہے۔ گزشتہ سالوں میں، خاص طور پر 2025 اور 2026 میں، ٹریفک کے مسائل نے شدت اختیار کر لی ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے حال ہی میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ کراچی کے ٹریفک مسائل کی بنیادی وجہ شہر کا پورٹ سٹی ہونا ہے۔ ان کے مطابق، ساؤتھ ایشین پورٹ ٹرمینل (SAPT) کی آمد اور بڑے بحری جہازوں کی بڑھتی تعداد نے بندرگاہ ایریا اور شہری سڑکوں پر شدید رش پیدا کردیا ہے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ ایک اعلیٰ سرکاری آفیسر حکومتی نااہلی کو چھپانے کے لیے قدرتی نعمت کا مسلہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں گہرے قدرتی بندرگاہیں اس ملک کی خوش قسمتی اور ترقی کی ضمانت سمجھے جاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی میں کراچی بندرگاہ شہر ہونا ٹریفک بحران کی جڑ ہے؟یا حکومتی نااہلی اور بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔؟ کراچی کی بندرگاہ پاکستان کی برآمدات کا تقریباً ساٹھ فیصد سنبھالتی ہے۔ معاشی رپورٹس کے مطابق سال گزشتہ بندرگاہ پر کارگو ہینڈلنگ میں اضافہ دیکھا گیا تاہم، پورٹ کی سرگرمیاں شہری ٹریفک کو ضرور متاثر کر رہی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے کیا ٹھوس اقدامات اٹھائے؟ یہ چیلنج عالمی سطح پر بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر، سنگاپور اور شنگھائی جیسے شہروں میں بندرگاہ شہری زندگی کا حصہ ہیں، مگر وہاں فرائیٹ کوریڈورز، ایلیویٹڈ روڈز اور ریلوے لائنز کے ذریعے پورٹ ٹریفک کو شہری ٹریفک سے الگ رکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں ریلوے کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے، لیکن ریلوے کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔ اگر ریلوے کو فعال بنا کر سامان کی نقل و حمل کی جائے تو سڑکوں پر آنے والا دباؤ کافی حد تک کم ہو سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں دونوں نے کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا ہے۔ یہاں بات صرف ٹریفک کا بلکہ اس شہر کا پورا نظام مفلوج ہوگیا ہے۔آج سے چند سال پہلے عمران خان کی دور حکومت میں کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو گیا تھا، جو اب سولہ گھنٹوں تک پہنچ چکی ہے۔ گیس، پانی اور سیوریج کا بھی یہی حال ہے۔ کراچی کے عقب میں حب ڈیم بھری پڑی ہے، لیکن شہری پانی مہنگے داموں ٹینکر مافیا سے خریدنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح ڈمپر مافیا نے کراچی کی سڑکوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔ سندھ حکومت نے ای چالان کے نام پر عوام کو لوٹنے کا سلسلہ تو شروع کر دیا، لیکن زیادہ تر ٹینکر اور ڈمپر آج بھی بغیر نمبر پلیٹ کے سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اگر آپ رات نو بجے کے بعد ابوالحسن اصفہانی روڈ پر کھڑے ہو جائیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ کتنی تعداد میں ڈمپر مافیا بغیر کسی نمبر پلیٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹ کے موت کا پروانہ لیے پھر رہا ہوتا ہے۔

کراچی میں حکومتی نااہلی ٹریفک بحران کی اصل جڑ ہے۔ کراچی کا ریلوے نیٹ ورک، جو برطانوی دور سے موجود ہے، غیر فعال پڑا ہے۔ پورٹ سے سامان کی نقل و حمل کے لیے ریلوے کا استعمال بہت کم ہے، جس کی وجہ سے کنٹینر ٹریلرز شہری سڑکوں پر آتے ہیں۔ 2025 میں ایک احتجاج کی وجہ سے برآمدی سامان 12 دنوں تک پھنسا رہا، جس سے سپلائی چینز متاثر ہوئیں۔ یہ واقعہ حکومت کی عدم توجہی کو ظاہر کرتا ہے کہ پورٹ کی صلاحیت ضائع ہو رہی ہے۔ مزید برآں، روڈ انفراسٹرکچر کی حالت قابل رحم ہے۔ پرانی سڑکیں، جو بھاری ٹریفک برداشت نہیں کر سکتیں، جلد تباہ ہو جاتی ہیں۔ حالیہ طور پر وفاقی حکومت نے کراچی کی روڈز کی مرمت کے لیے 9.28 بلین روپے منظور کیے، جو صنعتی علاقوں میں لاجسٹکس لاگت کم کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔ یہ ایک مثبت قدم ہے، مگر ماضی کے پروجیکٹس میں ناقص تعمیرات اور اداروں میں عدم ہم آہنگی کی وجہ سے ناکامی دیکھی گئی۔ مثال کے طور پر، گرین لائن BRT کے لیے 42.7 بلین روپے مختص کیے گئے، جو شہری نقل و حمل کو بہتر بنائے گی، مگر اس کی تکمیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ٹریفک مسائل کی ایک اور بڑی وجہ مافیا کی اجارہ داری ہے۔ پتھارے مافیا، تجاوزات اور پارکنگ مافیا نے شہر کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ فلائی اوورز اور انڈر پاسز کے ارد گرد غیر قانونی پتھارے ٹریفک کی روانی روکتے ہیں۔ غیر قانونی رکشہ سروس اور چنگچیوں نے سڑکوں کو افراتفری کا شکار بنا دیا ہے۔ آئی آئی چندریگر روڈ پر پارکنگ مافیا کا قبضہ ہے، اور پولیس کی پشت پناہی اسے مزید مضبوط کرتی ہے۔ ایک چشم دید گواہ کے طور پر، میں نے دیکھا ہے کہ پولیس موبائلز ان مافیا کو تحفظ فراہم کرتی ہیں، مزید برآں، شہری شعور کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ماضی میں کراچی کے لوگ نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے تھے، مگر آج سڑکوں پر افراتفری کا منظر ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، غلط پارکنگ اور لین تبدیل کرنے کی عادت بحران کو بڑھاتی ہے۔ لہذا کراچی کے مجموعی مسائل کی حل کیلئے ہنگامی ماسٹر پلان اور بہتر حکومت وقت کی اہم ضرورت ہے، کراچی کو زرداری سسٹم سے الگ کرکے چلانے کی ضرورت ہے جس کیلئے ضروری ہے وفاقی حکومت کراچی کی براہ راست نگرانی کریں اور سب سے پہلے پورٹ ٹریفک کو شہری ٹریفک سے الگ کرنے کے لیے فرائیٹ کوریڈورز اور ریلوے لائنز کو فعال کیا جائے۔ روڈ نیٹ ورک کی توسیع اور بین الاقوامی معیار کی تعمیرات پر توجہ دی جائے۔ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، جیسے پارکنگ مافیا کو ختم کرنا اور پولیس کی نگرانی بڑھانا۔ شہریوں کو ٹریفک قوانین کی تعلیم دی جائے اور عوامی آگاہی مہم چلائی جائے۔ پس یہ کہا جا سکتا ہے کہ کراچی کا پورٹ سٹی ہونا کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ نعمت ہے۔ اصل بحران حکومتی عدم توجہی، منصوبہ بندی کی کمی اور مافیا کی اجارہ داری ہے۔

تحریر: شیر علی انجم

 

کراچی، پاکستان کا معاشی دل

julia rana solicitors london

وما علینا الاالبلاغ

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply