عمرو عیار – ایک تاریخی حقیقت / زید محسن

بچپن سے ہم نے عمرو عیار کو پڑھا ہے اور اس نام سے حال ہی میں ایک فلم بھی بنائی گئی ہے۔

اس پر ذرا غور کر کے سب سے پہلے میرے ذہن بھی وہی سب آیا جو میرے بہت سارے ساتھیوں کے ذہن میں آیا کہ یہاں کوئی با قاعدہ واردات کی گئی ہے۔۔

میں نے کہیں پر اس واردات کی داستان بھی پڑھ رکھی تھی کہ یہ عظیم صحابی سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ (نعوذ باللہ) عیاری کو جوڑنے کی ایک داستان ہے، جسے بڑی ہی نازکی سے ہماری نسلوں کے رگ و پے میں ڈالا جا رہا ہے، میں اس پر اتنا یقین کر بیٹھا تھا کہ ایک روز سبق پڑھاتے ہوئے سیدنا عمرو بن العاص کا ذکر آیا تو اس درمیان ہم نے عمرو عیار کو بھی زیر بحث لا کر اس پر تفصیلی رد بھی کر دیا۔

وہیں ایک اسٹوڈنٹ کا میسج آیا کہ اس پر آپ کو لکھنا چاہئے، لکھنے کی باری آئے تو ہم منہ اٹھا کر لکھنے سے گریز کرتے ہیں، سو نکل پڑے دوربین لے کر کچھ پڑھنے کیلئے۔

اس سے پہلے کچھ لوگوں سے بھی پوچھا تو اکثر لوگوں کو بھی وہی لگتا تھا جو مجھے لگ رہا تھا، مجھے بھی خوشی ہوتی کہ میری تحقیق کا نتیجہ بھی وہی نکلتا جس پر میں ایمان لا چکا تھا۔

لیکن اس سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہوئی کہ یہاں نتائج میری سوچ کے خلاف نکلے اور اس میں سب سے بڑی خوشی یہ تھی کہ صحابی رسول کی عزت پر کسی نے ڈاکہ زنی کرنے کی جرأت نہیں کہ تھی۔

اب آتے ہیں اصل کہانی کی طرف:

در اصل یہ ایک خاص کردار ہے جو داستانِ امیر حمزہ سے ماخوذ ہے، داستانِ امیر حمزہ خود ایرانیوں کی من گھڑت کہانیوں کا سلسلہ ہے، جسے وہ سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی طرف نہ صرف منسوب کرتے ہیں، بلکہ ان کی جرأت کو سلامِ عقیدت بھی پیش کرتے ہیں، اسی میں اصل کردار عمرو عیار بھی ہے۔۔۔۔

تو اس لئے لازم ہے کہ اس کو سمجھا جائے کہ بھلا یہ عمرو کیا ہے؟
عیار کیا ہے؟

سب سے پہلے تو اس کی صحیح ادائگی سمجھ لیں کہ یہاں کوئی “عمر اور عیار” کی بات نہیں ہو رہی بلکہ “عمرو” مستقل نام ہے، جس کی ادائیگی ہوں ہے:
Amr

تو چلتے ہیں عیار کی طرف۔
عیار۔۔ویسے تو اپنے معنی کے اعتبار سے سراسر عیاری و مکاری کی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن یہاں کہانی کچھ الگ ہے۔کہانی یوں ہے کہ جیسے آپ نے پنجابی میں سلطان راہی کا کردار دیکھا ہے جو امیروں کو لوٹ کر غریبوں کو کھلاتا تھا، بالکل ایسا ہی جذبہ دوسری صدی میں بغداد کے باشندوں میں بھی جاگا، ان کا کام بھی کچھ ایسا ہی تھا، وہ بھی قافلوں کو لوٹتے اور غریبوں میں پیسہ تقسیم کر دیتے، ان کو عیار کہا جاتا کیونکہ قافلوں کو لوٹنے کا طریقہ عیاری پر مشتمل تھا اور وہ یہ کہ ان کو ایک مقام سے دوسرے مقام پہنچانے کی ذمہ داری لیتے اور پھر لوٹ لیتے۔یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ دوسری صدی کے اختتام پر ھارون رشید کے دو بیٹوں امین اور مامون کے درمیان جنگ ہوئی، انہوں نے اس جنگ میں بڑا کردار ادا کیا اور یہاں سے ان کی تعداد بڑھ کر پچاس ہزار کو تجاوز کر گئی، یوں یہ لوگ ایک سیاسی جتھا اور جنگوں میں فوجی پلاٹون میں بدل گئے اور پھر یہاں سے اس تحریک نے بغاوتیں شروع کیں اور جوں جوں حکومتیں کمزور ہو ہوتی گئیں یہ مضبوط ہوتے گئے۔
یہ کسی خاص نسل سے نہ تھے، اس میں عربی، ترکی اور فارسی ہر طرح کے لوگ شامل تھے، اس لئے ان کا دائرہ کار بھی بہت وسیع تر ہوتا گیا، تاریخ میں ان کا کردار اہمیت کا حامل ہو گیا، یہاں تک کہ ان پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئیں!
انہی عیاروں کے فارسی گروہ میں سے ایک شخص یعقوب بن لیث الصفاری وہ شخص ہوا جس نے با قاعدہ ایک سلطنت فارس میں قائم کر لی، جسے صفاری سلطنت کہا جاتا ہے، جو عیاریوں کی حکومت بھی کہلاتی ہے۔

یہ اسلامی تاریخ کی دوسری یا تیسری صدی ہجری میں ہوا جب عباسی خلفاء کا دورِ حکومت تنزلی کا شکار ہو چلا تھا، جبکہ عیسوی اعتبار سے تقریبا 860 عیسوی میں عیاروں کہ حکومت قائم ہوئی۔

عیار تو سمجھ آ گیا لیکن بھلا یہ عمرو کون ہے؟

تو جب آپ یعقوب بن لیث صفاری تک پہنچ جاتے ہیں تو با آسانی آپ کو وہاں پر اس کے بھائیوں میں ایک نام نظر آتا ہے جو “عمرو” ہے۔

اور یہی سب سے خوش آئند نقطہ ہے کہ ہم جس کی تلاش میں شام کی طرف عازمِ سفر ہوئے تھے وہ یہاں مراد ہی نہیں، بلکہ یہاں آپ کا مطلوب آپ کو فارس میں ہی مل جاتا ہے۔۔۔

لیکن پھر عمرو ہی کا ذکر کیوں، حالانکہ یعقوب اس سلطنت کا بانی ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کیلئے آپ کو عمرو عیار کا کردار پڑھنا پڑے گا۔۔

اگر بچوں کی کہانیوں میں بھی آپ دیکھیں تو اس کا ملا جلا سا کردار ہے، یعنی منفی ومثبت ہر دو طرح کا۔فارسی تاریخ دانوں کی نظر میں عمرو بن لیث کا بھی ایسا ہے کرادر تھا، ملا جلا سا، یعنی کچھ اس کو اچھا سمجھتے تو کچھ کو اس کے طریقِ حکمرانی پر اعتراض تھا۔

اس لئے فارسی ادیبوں نے وہی مؤرخوں والی ہر دو طرح کی باتوں کو اپنایا اور داستان میں عمرو کا کردار ویسا ہی دکھا دیا یعنی ملا جلا سا۔

اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اردو ادب میں ایسا ہی کوئی کردار یا تو ڈھونڈا جاتا یا تراشا جاتا اور اس پر بات کی جاتی لیکن جہاں اردو ادب پر داستان گوئی اور ایسی ہی اصناف میں فارسی ادب کا زور رہا وہاں ہی اس ادب کے کرداروں کا بھی زور رہا ہے، جیسے شیخ چلی، علی بابا وغیرہ سب فارسی ادب سے لئے گئے ہیں۔

اس لئے یہاں بھی عمرو بن لیث صفاری جس کی اصل عیاروں سے تھی اس کو “عمرو عیار” کے نام سے ادب میں برتا گیا۔اس نام کو آپ با آسانی سیر اعلام النبلاء کے چودھویں (14) جزء میں، چوتھی صدی ہجری کے واقعات میں با آسانی پڑھ سکتے ہیں:

لنک: https://share.google/ouiqsZJhFsNX8LqNh

خیر، خوش آئند بات یہی ہے کہ رداءِ صحابیت تار تار نہ ہوئی، لیکن پھر بھی کم از کم اتنا اہتمام تو لازمی ہے کہ عمرو عیار کے (کہانیوں میں بیان کردہ) جھوٹے کردار سے زیادہ ہمیں عمرو بن العاص کے سچے اور ستھرے کردار سے متعارف کروایا جاتا۔

julia rana solicitors

اس لئے جہاں عمرو عیار کے قصے بچوں کو پڑھائیں، وہیں عمرو بن العاص کے واقعات سے بھی اپنی نسلوں کو روشناس کروائیں، کہ ہمارے اصل ہیرو تو وہی ہیں!

Facebook Comments

زید محسن حفید سلطان
ایک ادنی سا لکھاری جو ہمیشہ اچھا لکھنے کی کوشش کرتا ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply