• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • امریکہ، وینزویلا اور وسائل کی نئی عالمی جنگ/ملک عاصم ڈوگر

امریکہ، وینزویلا اور وسائل کی نئی عالمی جنگ/ملک عاصم ڈوگر

امریکی دانشور اور عالمی سامراجی نظام کے سخت ناقد نوم چومسکی نے 2008 میں خلیج ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون ”اٹس دی آئل، سٹوپڈ“میں ایک ایسا انکشاف کیا جو جدید جنگوں کے اصل محرکات کو پوری طرح بے نقاب کرتا ہے۔ چومسکی کے مطابق عراق پر امریکی حملے سے قبل ہی واشنگٹن اور امریکی تیل کمپنیوں کے درمیان عراق کے تیل کی پیداوار، تقسیم اور مستقبل کے کنٹرول پر سنجیدہ گفت و شنید جاری تھی۔ لکھتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اپریل 2001 میں، یعنی نائن الیون سے پورے پانچ ماہ قبل، امریکی صدر جارج بش یہ فیصلہ صادر کر چکے تھے کہ عراق عالمی تیل کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور یہ رکاوٹ امریکہ کے لیے ناقابلِ قبول خطرہ ہے، لہٰذا فوجی مداخلت ناگزیر ہے۔یہ حقائق اس مغربی بیانیے کو زمین بوس کر دیتے ہیں جس کے تحت عراق پر حملے کو دہشت گردی، مہلک ہتھیاروں یا عالمی سلامتی سے جوڑا گیا۔ دراصل یہ جنگ جدید دنیا کی اس بنیادی حقیقت کا اظہار تھی کہ آج جنگیں کسی نظریے، مذہب یا تہذیبی تصادم کے نام پر نہیں بلکہ وسائل، منڈیوں اور سٹرٹیجک جغرافیے کے لیے لڑی جاتی ہیں۔
گزشتہ ایک صدی میں سرمایہ دارانہ نظام کے زیرِ اثر مشین، صنعت اور پھر جدید ترین ٹیکنالوجی کی ضروریات نے دنیا کو ایک مستقل جنگی منڈی میں تبدیل کر دیا ہے۔ کہیں یہ جنگ اسلحے سے لڑی جاتی ہے، کہیں معاشی پابندیوں سے، کہیں قرضوں کے جال سے اور کہیں جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی کے خوش نما نعروں کی آڑ میں۔
ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر دہشت کی انتہا کو چھونے والا امریکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ سے عالمی لٹیری ایمپائر کا تاج چھیننے میں کامیاب ہوا۔ اس کے بعد ایک ایسا عالمی نظام قائم کیا گیا جس میں اقوامِ متحدہ کے چارٹر، ریاستی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین محض کاغذی نعرے بن کر رہ گئے۔عراق، افغانستان، لیبیا اور شام اس کھلی پامالی کی واضح مثالیں ہیں، جہاں اقوامِ متحدہ کا چارٹر امریکی مفادات کے نیچے روند دیا گیا۔اقوامِ متحدہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے کمزور ریاستوں کے لیے انصاف کے ضامن بننے کے بجائے طاقتور سامراجی نظام کے معاون ثابت ہوئے۔ قرضوں، پابندیوں اور پالیسی شرائط کے ذریعے قوموں کو معاشی غلامی میں جکڑنا اسی ماڈل کا بنیادی ہتھیار ہے۔
عرب دنیا میں وسائل پر قبضے کے لیے جس منظم انداز میں مذہب کو دہشت گردی کے عنوان سے پیش کیا گیا، وہ جدید تاریخ کا ایک تاریک باب ہے۔ اسلام کو عالمی سطح پر خوف اور تشدد کے مترادف بنا کر پیش کیا گیا، مسلم معاشروں کو انتہا پسندی کے لیبل سے جوڑا گیا اور اسی بیانیے کی آڑ میں پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگوں، خانہ جنگیوں اور عدم استحکام کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ آج یہی سکرپٹ وینزویلا میں دہرایا جا رہا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار مذہب کے بجائے ڈرگز کی دہشت گردی کو جواز بنایا جا رہا ہے۔ جس طرح کبھی کہا گیا تھا کہ عرب دنیا کو دہشت گردی سے بچانا ضروری ہے، آج ویسے ہی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وینزویلا کو منشیات کے نیٹ ورکس سے نجات دلانے کے لیے امریکی مداخلت ناگزیر ہے، حالانکہ اصل ہدف بدستور وسائل اور جغرافیائی کنٹرول ہی ہے۔
وینزویلا اسی سامراجی سوچ کی تازہ اور خطرناک مثال ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے قیادتوں کو کھلی دھمکیاں، اقتصادی پابندیاں اور حکومت کی تبدیلی کے اعلانات دراصل کسی ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ پورے لاطینی امریکہ کے لیے وارننگ ہیں۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ کہ امریکی پیش قدمی وینزویلا کے 300ارب بیرل سے زائد تیل کے ذخائر کو کنٹرول کرنے کی ہے، مگر حقیقت میں مسئلہ تیل سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ چین اب امریکہ کی عالمی بالادستی کو براہِ راست چیلنج کر رہا ہے۔ چین مستقبل کی صنعت الیکٹرک وہیکلز، گرین انرجی، دفاعی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے لیے درکار ریئر ارتھ منرلز پر فیصلہ کن کنٹرول حاصل کر چکا ہے۔ یہی وہ معاملہ ہے جو امریکی سامراج کی بوکھلاہٹ کی وجہ ہے۔وینزویلا چین کا واحد شراکت دار نہیں۔ برازیل، ارجنٹائن، بولیویا، چلی، پیرو اور ایکواڈور میں چین کے اربوں ڈالر کے معاہدات موجود ہیں۔ برازیل چین کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن چکا ہے، ارجنٹائن میں لیتھیم اور نیوکلیئر انرجی، بولیویا میں لیتھیم کے وسیع ذخائر، چلی اور پیرو میں تانبا اور سونا، جبکہ ایکواڈور میں بندرگاہیں اور ہائیڈرو پاور منصوبے چینی ماڈل کی عملی مثالیں ہیں۔ یہ محض وسائل کا حصول نہیں بلکہ سپلائی چین اور لاجسٹکس پر مکمل گرفت کی حکمتِ عملی ہے۔
اسی پس منظر میں امریکہ کی جنگی دھمکیوں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ وینزویلا کے ساتھ ساتھ ایران، شام، یمن، نکاراگوا اور کیوبا مسلسل امریکی دبا¶ میں ہیں۔ ایشیا میں چین اور شمالی کوریا کو براہِ راست سٹرٹیجک دشمن قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین کو ممکنہ جنگی محاذ بنایا جا رہا ہے۔ سی آئی اے کے ڈی کلاسیفائیڈ وائٹ پیپرز اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ جہاں براہِ راست جنگ ممکن نہ ہو وہاں داخلی انتشار، میڈیا وار، معاشی دبا¶ اور حکومتوں کی تبدیلی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وہ عالمی منظرنامہ ہے جس میں پاکستان اور افغانستان کی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ معاشی طور پر کمزور، قرضوں میں جکڑی اور سیاسی طور پر منقسم ریاستیں سامراجی طاقتوں کا آسان شکار بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں موجود ریئر ارتھ منرلز، افغانستان کی جغرافیائی حیثیت اور خطے میں چین کے منصوبے اس خطے کو آنے والی بڑی عالمی کشمکش کا مرکز بنا سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان کی ریاست آج بھی گروہی مفادات، وقتی بندوبست اور سامراجی خوشنودی سے باہر نکل کر سوچنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بغیر سیاسی استحکام اور معاشی خودمختاری کے مضبوط ترین فوجی طاقت بھی زیادہ دیر تک ریاست کو محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے وسائل، فیصلے اور خارجہ پالیسی دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتی ہیں، وہ بالآخر دوسروں کی جنگوں کا میدان بن جاتی ہیں۔
دنیا ایک نئے عالمی تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں جنگیں اب نقشوں پر نہیں بلکہ منرل میپس، توانائی کے راستوں اور سپلائی چینز پر لڑی جائیں گی۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ جنگ کرے گا یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس بدلتی دنیا میں محض ایک مہرہ بنے گا، یا ایک درست قومی نظریئے پر خودمختار ریاست کے طور پر اپنے وسائل، اپنے فیصلوں اور اپنے مستقبل کا دفاع کر سکے گا؟وقت کم ہے، اور فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔

julia rana solicitors london

بشکریہ نئی بات

Facebook Comments

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply