امیر و غریب مرد اور ہراسانی۔۔ابصار فاطمہ

امیر و غریب مرد اور ہراسانی۔۔ابصار فاطمہ/آج ایک ادبی گروپ میں ایک پوسٹ نظر سے گزری اور مرد حضرات کے کمنٹس دیکھ کر اندازہ ہوا کہ صنفی روئیوں میں ہم کس قدر غلط فہمی کا شکار ہیں۔ پوسٹ تو خیر میرے خیال میں میرے رپورٹ کرنے کے بعد ڈیلیٹ کر دی گئی لیکن میں اس پہ تفصیل سے بات کرنا چاہوں گی۔
پوسٹ کچھ اس نوعیت کی تھی کہ عورت صرف بدصورت اور غریب مرد کی ہراسانی کو ہراسانی کہتی ہے اور امیر اور خوش شکل مرد کو ڈیل کر لیتی ہے۔
یہاں سب سے پہلی غلط فہمی یہ دور کریں کہ اگر کوئی رویہ عورت یا متعلقہ فرد کو برا نہیں لگ رہا وہ ہراسانی نہیں ہے۔
یہ بھی بات سچ ہے کہ ایک بڑی تعداد مردوں کی ہو یا عورتوں کی وہ مادہ پرست ہے۔ رومانوی تعلقات میں مرد اور عورت دونوں اکثر ظاہری صورت یا معاشی حالات کو ترجیح دیتے ہیں اس لیے نہیں کیوں کہ انہیں اس میں قدرتی کشش ہے بلکہ انہیں یہ فکر ہے کہ اپنا پارٹنر دکھا کے وہ واہ واہ سمیٹ سکیں۔ اس میں بڑا نقصان وہ اپنا ہی کرتے/کرتی ہیں کیونکہ ایسے میں انہیں مثبت جذبات و رومانوی تعلق میسر نہیں آتا۔ یہ رویہ یک طرفہ نہیں لیکن عورتوں میں اس لیے زیادہ سمجھا جاتا ہے کیوں کہ عورت معاشی طور پہ مستحکم نہیں۔ رشتہ اس کی مرضی سے بنا ہو یا نہیں دونوں صورتوں میں اس کی مجبوری ہے کہ وہ شوہر سے خرچہ مانگے گی۔ یہ بات عورتوں کے دماغ میں بھی اتنی راسخ کردی گئی ہے کہ وہ اگر خود کما بھی رہی ہوں تو اپنی تنخواہ بچا کے باپ، بھائی، شوہر یا بوائے فرینڈ کا خرچہ کروانا پسند کرتی ہیں۔ جو کہ غیر صحت مندانہ رویہ ہے۔
لیکن یہ وہ خواتین نہیں جو اکثریت کی نمائندگی کرتی ہوں۔ یہ مڈل اپر مڈل کلاس کی وہ خواتین ہیں جو تناسب میں تمام خواتین کا دس بیس فیصد بھی نہیں۔ خواتین کی اکثریت مڈل لوئیر مڈل اور بالکل غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں سے اکثر کو بنیادی ضروریات بھی فراہم نہیں کی جاتیں اور وہ روز گھر کا خرچہ بھی مانگیں تو میاں صاحب اکثر یہی کہتے ہیں کہ تمہیں پیسے مانگنے کے علاوہ کوئی کام ہے کہ نہیں۔ میاں کی اس سوچ کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کے جیب میں بھی محدود پیسہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ بیوی کو دئیے پیسے میں کسی نہ کسی طرح وہ گزارا کر لے کیوں کہ اس کے پاس مزید کمانے کے وسائل ہیں ہی نہیں۔ بیوی کو کمانے کا وہ کہہ نہیں سکتا ورنہ اس کی مردانگی پہ شک کیا جائے گا۔
یہ چخ چخ عورت بھی نہیں چاہتی اس لیے نسبتاً پڑھی لکھی اور خود کو لوجیکل تھنکنگ کی حامل سمجھنے والی خواتین مالی طور پہ مستحکم پارٹنر پسند کرتی ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے یہ مسائل کا حل نہیں ہوپاتا کیوں کہ مانگنا انہیں میاں سے ہی پڑتا ہے اور میاں سمجھتے ہیں کہ انہیں اے ٹی ایم مشین کی طرح برتا جارہا ہے۔
لیکن اس ساری تناظر کے باوجود بات کو اس پیرائے میں کہنا جیسا اوپر بیان کیا ہے انتہائی شدید غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور کسی حد کت مجرمانہ بھی۔ کیوں کہ یہ سمجھ کے وہ افراد جو خود کو خوش شکل سمجھتے ہیں یا مالی مستحکم سمجھتے ہیں خواتین کو ہراساں کرتے ہیں اور اپنے اسٹیٹس کا فائدہ اٹھا کر ہراسانی کی رپورٹس بھی نہیں ہونے دیتے۔ اور یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ عورت انجوائے کر رہی ہے اور نہیں کر رہی تو کرنا چاہیے۔
مضبوط عہدوں اور معاشرتی حیثیوں کے حامل افراد کے خلاف ہراسانی کی شکایت کرنا عورت کے صرف کردار کو ہی نہیں اس کی زندگی بلکہ گھر والوں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ آپ اکثر خواتین سے ہراسانی کے کیسز کا ڈیٹا اٹھائیے تو اس میں وکٹم بھی غریب ہوتی ہے یعنی یہ بات قابلِ غور ہے کہ متوسط گھرانے کی خواتین ہراسانی کی شکایت سرے سے رکارڈ ہی نہیں کرواتیں۔ یا کرواتی ہیں تو بہت کم لیکن وہ شخص ہمیشہ زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والا شخص ہوتا ہے۔ یہاں ویسے ہی بیان رد ہوجاتا ہے کہ عورت امیر شخص کو ڈیل کرلیتی ہے۔
مرد ہو یا عورت، فریق کے چناؤ کا سو فیصد حق اسے ہے وہ جذبات کی بنیاد پہ کرے، شکل کی بنیاد پہ یا پیسے کی بنیاد پہ یا جنسی کارکردگی کی بنیاد پہ۔ غلط معیار پہ کیا گیا چناؤ بہرحال اسے نقصان پہنچائے گا لیکن میں یا آپ اس پہ زبردستی نہیں کرسکتے کہ اسے پسند نہ کرو اور مجھے پسند کرو اور میری تم پہ زبردستی خود کو مسلط کرنا ہراسانی نہیں ہے کیوں کہ تم کسی اور کے رومانوی روئیے سے تنگ نہیں ہورہے یا ہورہیں۔
اکثر مرد یا لڑکے اس قسم کی غلط فہمیوں کا شکار کسی ناکام عشق کے بعد ہوتے ہیں جو کہ بنیادی طور پہ ان کے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس کے نتائج ہیں۔ وہ ایک لڑکی کے مادہ پرستانہ سوچ کا شکار ہوکر ساری دنیا کی عورتوں اور لڑکیوں کو سطحی اور مادہ پرست گرداننے لگتے ہیں۔
ایسے بھی کئی کیس رپورٹ ہوئے جہاں لڑکے یا لڑکی نے بریک اپ کے بعد غصے میں پچھلے تعلق کے معلومات اور تصاویر یا بات چیت کی بنیاد پہ ہراسانی کی رپورٹ لکھوائی۔ لیکن یہ سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ یہاں صورت حال وہ نہیں جو اوپر بیان کی گئی ہے۔ یہاں آپس میں ہراسانی تھی ہی نہیں اور نہ ہی یہ رویہ تمام عورتوں پہ عمومی انداز میں منطبق کیا جاسکتا ہے۔ جیسے یہ کہنا کہ تمام مرد ٹھرکی ہوتے ہیں بالکل غلط نظریہ ہے۔ خواتین کی ناگواریت کے باوجود ان سے دوستی کی کوشش کرتے رہنا، بلاوجہ ان کی تعریف کرنا، اس قسم کے جملے بازی کرنا جو کہ عاشق کرتے ہیں یہ سب ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے لیکن یہ ہراسانی صرف تب ہے جب متعلقہ خاتون اس کا برا مانے۔ اور آپ یا میں کسی خاتون کو پابند نہیں کر سکتے کہ اسے کس روئیے کا برا ماننا چاہیے یا نہیں اگر وہ مرد دوستوں کے ساتھ سطحی رومان انجوائے کرتی ہے تو یہاں دونوں کی باہمی رضامندی کا رویہ ہے۔ آپ کا اس پہ ناراض ہونا نہیں بنتا کہ وہ خاتون فلاں سے بے تکلف ہیں تو مجھ سے کیوں نہیں۔ یہ حق مکمل طور پہ مرد کو بھی ہے۔ کوئی عورت اسے خود سے دوستی پہ زبردستی مجبور نہیں کر سکتی اور کرے تو یہ بھی ہراسانی ہے۔ اس کے بعد اپنے روئیے کو جسٹیفائی کرنے کی کوشش کرنا کہ فلاں کیوں کہ زیادہ امیر ہے یا زیادہ خوبصورت ہے اس لیے اس سے دوستی کی مجھ سے دوستی نہیں کی صرف غیر منطقی ردعمل ہے اور کچھ نہیں۔
یہاں کئی افراد دور کی کوڑی لائیں گے کہ اسی لیے تو مرد اور عورت کی دوستی گناہ ہے۔ جی بالکل آپ اسے ایسے دیکھیں تو بھی یہاں شادی کے تناظر میں معاملہ سمجھیے۔ ایک لڑکی کسی ایک کو چن کر دوسرے کو رد کر رہی ہے یہ اس کا حق ہے۔ یہی حق مرد کا بھی ہے۔ آپ کو رد کرکے دوسرے کو چنا جارہا ہے تو چننے والا مادہ پرست اور سطحی قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ سوچ تیزاب پھینکنے کے واقعات کو جنم دیتے ہیں۔ رد ہونے والا کنونسڈ ہوتا ہے کہ جو دوسرا چنا گیا وہ بھی اسی کے جیسا ہراسانی کرنے والا ہے لڑکی کی ذاتی پسند ناپسند کو سو فیصد نظر انداز کردیا جاتا ہے۔
امید ہے کہ وہ جو بات کو سمجھ کر پڑھ رہے ہوں گے اور جذبات کی بجائے دلائل کی بنیاد پہ معامےل کو دیکھیں گے وہ اوپر دئیے بیان سے اگر متفق رہے بھی ہیں تو دوبارہ ضرور سوچیں گے۔ جو ابھی بھی یہی ماننے پہ مصر ہیں ان کے لیے مشورہ ہے کہ وہ رومانوی بریک اپ ٹرامہ کے حوالے سے مشاورت ضرور لیں کیوں کہ وہ بھی مستحق نہیں کہ کسی ایک کے غلط روئیے کی وجہ سے ہمیشہ جذباتی تکلیف سے گزرتے رہیں اور کبھی مثبت تعلق نہ بنا سکیں۔
ابصار فاطمہ

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply