آج کے دور میں سوشل میڈیا انسانی زندگی کا حصہ بن گیا ہے، لیکن اس کا بہت زیادہ استعمال، خاص طور پر بچوں کیلئے مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کی دماغی صحت، سوچنے کی طاقت، دھیان دینے کی صلاحیت اور سیکھنے کے عمل پر برا اثر پڑتا ہے۔ یہ پریشانی صرف کسی ایک ملک کی نہیں، بلکہ پوری دُنیا کا مسئلہ ہے، اور اس وجہ سے ماہرین نفسیات، ڈاکٹرز اور پالیسی بنانے والے بہت فکر مند ہیں۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کے دماغ کو ہمیشہ نئی معلومات کی طرف راغب کرتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے بچے کسی ایک چیز پر دھیان نہیں دے پاتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان میں بے چینی، افسردگی اور دوسری دماغی پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ 2024 اور 2025 کی رپورٹس کے مطابق، اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کی یادداشت، توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کی عادت لگانے والی چیزیں اور طریقے بچوں کو نقصان دہ چیزیں دکھاتے ہیں، جس سے ان کی جذباتی اور دماغی صحت پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ جو بچے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، وہ پڑھنے اور یاد رکھنے والے ٹیسٹوں میں کم نمبر لیتے ہیں۔
رپورٹس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کورونا کی وبا کے دوران یہ مسئلہ زیادہ بڑھ گیا۔ آن لائن کلاسوں اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بچے زیادہ وقت ڈیجیٹل دُنیا میں گزارنے لگے، جس کی وجہ سے انہیں سوشل میڈیا کی لت لگ گئی۔ اس دوران ذہنی دباؤ، افسردگی اور خودکشی کے خیالات میں اضافہ دیکھا گیا۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی رپورٹس بھی یہ کہتی ہیں کہ نوجوانوں میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال 2018 سے 2022 تک 7% سے بڑھ کر 11% ہو گیا۔ اس خطرے کو سمجھتے ہوئے دُنیا کے کئی ممالک نے سخت قدم اُٹھائے ہیں۔ آسٹریلیا نے دسمبر 2025 میں ایک قانون بنایا ہے، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس قانون کے مطابق فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور سنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز پر 16 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس بند کر دیے گئے ہیں، اور اگر کمپنیاں عمر کی تصدیق نہیں کرتیں تو ان پر جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ قدم بچوں کو نقصان دہ چیزوں سے بچانے اور ان کی دماغی صحت کی حفاظت کے لیے اُٹھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فرانس، ڈنمارک اور یورپی یونین کے کئی ممالک بھی 15 یا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے پابندیاں لگا رہے ہیں، یا والدین کی اجازت کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کمپنیوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی استعمال کر کے عمر کی تصدیق کو بہتر بنائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا ایک نشے کی طرح کام کرتا ہے، جو بچوں کے دماغ کو ہمیشہ معلومات کے پیچھے لگا رکھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کبھی بھی ذہنی طور پر مطمئن نہیں ہوتے اور پریشان رہتے ہیں۔ اس کے اثرات لمبے عرصے تک رہ سکتے ہیں، جو افسردگی اور خودکشی جیسے مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومتی قوانین تک محدود نہیں بلکہ والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ انہیں چاہیے کہ بچوں کے اسکرین ٹائم کو کم کریں، ان کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں صحت مند مشاغل مطالعاتی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے ، جیسے کتابیں پڑھنا، کھیل کود، ورزش اور آرٹ وغیرہ۔ بچوں کو ڈیجیٹل دُنیا سے نکال کر حقیقی زندگی کی طرف لانے کی کوشش کریں، تاکہ ان کی دماغی، سماجی اور تعلیمی ترقی پر کوئی اثر نہ پڑے۔۔یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے والدین، اساتذہ، ماہرین نفسیات اور قانون سازوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ اگر ہم نے ابھی قدم نہ اُٹھائے تو آنے والی نسلیں ذہنی اور جذباتی مسائل کا شکار ہو کر ترقی نہیں کر پائیں گی۔ سوشل میڈیا کے فائدے تو ہیں، لیکن بچوں کیلئے اس کے نقصانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک محفوظ، صحت مند اور ترقی پسند ماحول فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے
حوالہ جات ، روٹرز ، یونیسیف ، بی بی سی اردو ، ڈبلیو ایچ او ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں