یہ نئے سال کی پہلی شام ھے۔آج پورا شہر دھند میں لپٹا رہا ہے، سورج جیسے طلوع ھونا بھول گیا تھا۔جلتی بجھتی روشنیوں نے شہر کی رومانی فضا کو دو آتشہ کر رکھا ہے۔مال روڈ کی پیشانی پر سنگ میل پبلی کیشنز کا شوروم روشن ھے۔دیواروں پر چھت تک کتابیں چُنی ہیں۔”بورخیس کی جنت” میں شہر کے کچھ چنیدہ ادیب، کچھ نوجوان لکھاری اور ادب کے کچھ طالب علم جمع ہیں۔سامنے صوفے پر افضال صاحب ہیں، ان کے پہلو میں ڈاکٹر ناصر عباس نیر ہیں، بائیں جانب کو معروف شاعر، فکشن نگار اور مہان ڈرامہ نویس اصغر ندیم سید بیٹھےہیں، آگے ہمارے گیانی دوست رانا محبوب اختر کی نشست ہے، ان کے ساتھ معروف ناول نگار اور نامور آرکیٹیکٹ غافر شہزاد ہیں، سامنے کی رو میں غلام اصغر خان، مشتاق احمد، نصراللہ، شائستہ حسن دیگر موجود ہیں۔یہ سب نئے سال کے پہلے دن ایک بہت اہم اور منفرد کتاب کے استقبال کے لیے جمع ہیں۔
اصغر ندیم سید کا یہ سوال ان کی طرح تمام حاضرین (اور سب قارئین )کے ذہن میں ھے کہ کتاب کا نام رسول حمزہ توف کی عالمگیر شہرت یافتہ کتاب پر کیوں ھے؟ اصغر صاحب درست نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ مصنف کے لیے بہت بڑا رسک بھی ہے اور چیلنج ھے۔وہ اس یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ “مصنف کی تخلیقی قوت نے یقیناً اس چیلنج کو قبول کیا ہے۔”
یہ کتاب رسول حمزہ کی کتاب کی تردید، رد عمل، توضیح، تشریح نہیں۔اس کتاب کا رسول حمزہ کی کتاب سے ایک باریک رشتہ ہے۔
مصنف اپنی گفتگو میں اعتراف کرتے ہیں کہ مجھے رسول حمزہ کی کتاب نے انسپائر ضرور کیا ھے مگر یہ اس کتاب کی توسیع نہیں ھے۔کتاب کے دیباچے میں انھوں نے لکھا ہے کہ اس کتاب کا محرک دعوےاور حقیقت کا تضاد ھے۔وہ کہتے ہیں”میں نے جس تضاد کو بار بار شدت سے محسوس کیا ہے، وہ رسول حمزہ توف کے یہاں حل ھوتا محسوس ہوتا ہے۔۔۔مجھے لگا میں رسول کی زبانی سب کہہ سکتا ہوں جس نے مجھے وحشت میں مبتلا کر رکھا ہے”
یہ کتاب کئی سوالوں سے نبرد آزما ہوتی ہے۔
یہ ادب کی قدر، لفظ کی طاقت، زبان اور زمین سے انسان کی جڑت، انسانی تخیل کی وسعت، فن کی عظمت،، انسان کی مہیب تنہائی، اس مہیب تنہائی کی وحشت، اس سے پھوٹتی کشمکش،، انسانی تعلقات،، انسان کے وجودی تجربات اور متعدد الجھنوں کو سلجھاتی ہے۔
یہ عجیب طلسم ہے۔ ایک بار سم سم کہنے سے اس کا قفل نہیں کھلتا۔
یہ تقاضا کرتی ہے کہ اسے بار بار پڑھا جائے۔
اس کتاب کا ہر صفحہ، ہر سطر، ہر جملہ راستہ روک کر کھڑا ہو جاتا ہے۔یہ باربارغور، فکر اور تدبر کا مطالبہ کرتی ہے۔
ہر قرات معانی کے نئے در وا کرتی ہے۔
عجیب کتاب ھے،،آگے بڑھتے ہوئے، پلٹ کر واپس آنا پڑتا ہے، اور یہ پلٹنا بے سود نہیں ھوتا، ایک نئی روشنی ہم سفر ہو جاتی ہے۔
اس کتاب کی کوئی صنف نہیں ھے، یہ تنقید، نہیں، شاعری نہیں، فکشن نہیں مگر یہ تنقید بھی ہے، شاعری بھی ہے اور فکشن بھی ہے۔(مصنف کے بقول یہ ناول نہیں،لیکن اسے فکشن کی طرح پڑھا جانا چاہیے)
یہاں اصناف کی حدیں آپس میں مل رہی ہیں۔
یہ مصنف کے وسیع مطالعے، تجربے، مشاھدے اور عمر بھر کی ریاضت کا ثمر ہے۔یہ ریاضت ایک ایک سطر سے جھلکتی ہے۔
کتابیں بہت لکھی جاتی ہیں، کچھ بہت اہم ھوتی ہیں، کچھ کم اہم اور کچھ غیر اہم۔
دنیا میں ان کتابوں کی تعداد بہت کم ہے جو تصورات کو تبدیل کر تی ہیں۔
رسول حمزہ کی “میرا داغستان”زمین اور وطن سے متعلق تصور کو تبدیل کرتی ہے(یا کم از کم میرے تصور کو تو تبدیل کیا)
”
ناصر عباس نیر صاحب کی “میرا داغستان جدید”انسانی تعلقات،، ادب، زبان اور انسان کے اندر کی زمین سے متعلق تصورات کو تبدیل کرنے والی کتاب ھے۔
اردو دنیا کو مبارک ھو کہ اس کا دامن ایک ایسی شاندار کتاب سے مالا مال ھوا یے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں