امیدواران الیکشن ۔۔۔سخاوت حسین

ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر نے دیہاتی کو چھیڑتے ہوئے کہا۔ بتاو عقل بڑی ہے یا بھینس۔ دیہاتی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ بڑے چھوٹے کو چھوڑو مگر تمھارے سوال کے بعد تمھیں بتاوں کہ تمھاری ڈگریاں بھینس کی عقل سے بھی گئی گزری ہیں جو اتنے سال تعلیم میں برباد کیے  اور ایک سوال کا جواب نہ ڈھونڈ سکے۔ یہاں تک کہ یہ سوال لے کر گاؤں کے ایک ان پڑھ دیہاتی کے پاس پہنچ گئے۔

الیکشن کا دور دورہ ہےہمارے سیاسی کھلاڑی بھی ہر گلی محلے مختلف اقسام کے پیکجز لے کر پہنچ رہے ہیں۔ جیسے موبائل کمپنیز کے پیکجز ہوتے ہیں انتخابات کے دوران سیاست دانوں کے بھی پیکجز ہوتے ہیں، ایک ووٹ پر بریانی پیکج, تین چار ووٹوں پربائیک پیکج اور فیملی پیکج میں ملازمت پیکج, عمرہ پیکج بعض اوقات جہیز پیکج تک اس ووٹ پیکج میں شامل ہوتا ہے۔ پیکجز کے ساتھ مختلف سوالات بھی امیدواروں کی طرف سے ووٹرز سے کیے  جاتے ہیں، جیسے کیا میں بہترین نہیں ہوں۔ کیا میں آپ کے ووٹ کا حقدار نہیں ہوں۔

گو کہ ان سوالات میں زیادہ تر قابل قبول لفظ “نہیں” ہی ہے۔اس سے مجھے ویگن کے کنڈیکٹر یاد آجاتے ہیں۔ جو سواری ہونے پر نئی سواری سے ویسا سلوک کرتے ہیں جیسے ظالم ساس بہو سے کرتی ہے اور جب سواری نہ ہو تو رستے میں چلنے والے فقیر کو بھی ویگن میں اتنی عزت سے زبردستی بٹھاتے ہیں جتنی عزت سے شوہر بیوی کے نام کو اپنے لبوں پر جگہ دیتا ہے۔ووٹر کو چاہیے وہ اپنے آپ کو الیکشن سے پہلے نئی سواری اور الیکشن کے بعد پرانی سواری سمجھے۔

کہتے ہیں سیاست دان اور بیوی کو سوچ سمجھ کر ہینڈل کرنا چاہیے۔ جس طرح نکاح نامے پر دستخط کرنے تک مرد شہنشاہ ہوتا ہے اسی طرح ووٹ دینے تک ووٹرسیاستدان کے لیے رومانوی کہانی کا محبوب ترین کردار ہوتا ہے ۔ووٹ کے بعد ووٹر کی زندگی کا ہینڈل سیاست دان کے ہاتھ میں اور شادی کے بعد بیوی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اگر سمجھ بوجھ کر فیصلہ نہ کیا جائے تو ووٹر اور شوہر کی  تواضع حالات اور بیوی کے سینڈل سے روز کی  جاتی  رہے گی  اور مظلوم عوام اور شوہر کی فریاد کسی کام نہ آئے گی۔

الیکشن کا امید وار نئی امیدوں کا پیکج لے کر اس لیے   در در پر دستک دیتا ہے کیوں کہ اس نے ووٹر کی پرانی امیدوں سے اچھی خاصی  جنگ  کی ہوتی ہے۔ یہ واحد  جنگ  ہے جس میں ہمیشہ امیدوار جیتتا ہے اور ووٹر ہارتا ہے۔ جون جولائی میں اتنی گرمی نہیں پڑتی جتنی امیدواروں کو اپنے حلقے سے گالیاں اور جوتیاں پڑتی ہیں۔ ایک ایسے ہی امیدوار آنکھوں کے حلقے دکھا رہے تھے کہ کیسے ان کے ووٹرز نے جوتیوں سے انہی کے حلقے سے انہیں یہ گہرے حلقے عطا کیے ۔

میرے خیال سے جب ووٹ لینے والا حلقے میں آئے تو اس کے ساتھ روایتی ساس کی طرح پیش آنا چاہیے۔ ایک شخص ایک گھر ووٹ مانگنے گیا تو گھر والی نے روٹی دے کر کہا۔ میاں گھر نہیں ہیں ورنہ سالن بھی دیتے۔ امیدوار نے خندہ پیشانی سے کہا کہ وہ فقیر نہیں ہے۔ ووٹ مانگنے آیا ہے۔ خاتون نے اندر سے ہی چپلوں کی برسات کردی۔ امیدوار چیختا رہا۔ محترمہ میں امیدوار ہوں، آپ کا شوہر نہیں۔ خاتون نے مزید مارا۔ لوگوں نے پوچھا ۔ اتنا ظلم کیوں۔ بتایا گیا کہ پانچ سال تک ایسے لاپتہ رہا جیسے حلقہ کسی کو ٹھیکے پر دے کر گیا ہو, روز اس کا انتظار کرتے مگر یہ روٹھے ہوئے محبوب کی طرح حلقے کا چکر ہی نہیں لگاتا تھا. چکر پر چکر دیتا تھا اور غصہ اس بات کا کہ پھر چکر دینے آیا ہے. اسے بتاؤ  ہم حلقے میں بیٹھے ہیں گول گھومنے والے جھولے پر نہیں جو پھر چکر کھائیں.

ایک امیدوار اپنے ووٹر کو گھر گھر جاکر ایک خفیہ پرچی دیتا تھا جس پر لکھا تھا۔
دنیا عجب بازار ہے کچھ جنس یاں کے ساتھ لے۔ اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے۔
پرچی کی دوسری سائیڈ پر لکھا ہوا تھا۔
تو نوٹ لے اور ووٹ دے، اس ہاتھ لے اس ہاتھ دے۔

سنا ہے آج کل ووٹرز بھی امیدواروں کا حلقے میں استقبال اعلی و انواع اقسام کی چپلوں ، مہنگے ٹماٹروں اور پیاز سے کرتے ہیں۔ ایک انتہائی کنجوس امیدوار اپنے حلقے میں گئے تو ایک طرف سے سروس کی چپل آئی وہ ووٹر کو چھوڑ کر اس جگہ دوسری چپل ڈھونڈنے لگے۔ دوسری جگہ جب انہیں خوب ٹماٹر پڑے تو کچھ قابل توجہ ٹماٹروں کو شاپر میں ڈالنے کے بعد یوں گویا ہوئے۔

“ٹماٹر تو آگئے، اگر پیاز اور دیگر سبزیاں بھی کوئی پھینکتا تو آپ کے محبوب امیدوار کے کئی دن کے راشن کا انتظام ہو جاتا۔”

الیکشن کمیشن میں امیدوار اربوں کی جائیدادیں ، کوڑیوں میں دکھا رہے ہیں۔ ایک ایسے ہی امیدوار سے سوال ہوا ۔ جناب اس دور میں ایک لاکھ سے کم مرلہ کہیں نہیں ہے آپ نے اربوں کی زمیں کا تخمینہ ٹیکس گوشواروں میں چند لاکھ روپے لگائے ہیں کیا یہ مناسب ہے۔ ہنس کر کہنے لگے۔
اس کی ایک بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ مجھے لاکھ سے اوپر کی گنتی نہیں آتی۔ دوسری ہم پاکستانی ہیں۔ ہم کیوں عربوں کی بات کریں۔ عربوں کی باتیں کریں تو پھر آپ کہتے ہیں پاکستانی بنیں۔ ہم نے تو محب الوطنی کا ثبوت دیا ہے اور گنتی کو بھی عرب تک جانے نہیں دیا۔

کسی زمانے میں تاش کے پتے مشہور تھے مگر اب امیدواروں کے پتے مشہور ہیں۔ پ پر زیر نہیں زبر ہے۔ مذہبی پتے، فرقہ ورانہ پتے، لسانی پتے، زبان کے پتے، ڈیم کے پتے، خفیہ پتے اور بہت سارے ان کہے پتے، امیدوار ان پتوں کا استعمال خوب کرتے ہیں۔

سنا ہے آج کل ٹاپ پر ایک اور پتہ چل رہا ہے مذہبی پتے کے ساتھ ساتھ، اس کا نام لبرل پتے ہے۔ یہ لگتے تو سادے ہیں مگر ان کی کوئی منزل نہیں۔ مذہبی کارڈ ہو ، لسانی ہو، شخصی ہو یا کوئی اور کارڈ، موقع کے حساب سے یہ انہی میں سے ایک کا روپ دھار لیتے ہیں۔ جب کسی لبرل پتے کو چونا لگتا ہے تو وہ کسی بھی پتے میں بدل جاتا ہے۔ مگر پھر بھی وہ پان جیسا میٹھا نہیں بنتا۔

بہرحال پتے اور پَتے ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ رہے ہیں۔ خواہ کارڈ کے ہوں، خواہ جسم کے پِتے ہوں یا موسمی پتے ہوں۔
امیدوار اور شاعر میں قدرے مشترک صفت یہی ہے کہ بسا اوقات عاشق ناکام ہوکر شاعر بنتا ہے اور امیدوار الیکشن میں پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر ناکام باغی بنتا ہے۔
خیر  ہمارے ہاں الیکشن کا موسم ہے اور موسم کوئی بھی ہو دعا ہے دل میں اترے دل سے ہرگز نہ اترے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”امیدواران الیکشن ۔۔۔سخاوت حسین

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *