آج کے دور میں موبائل فون بچوں کی زندگی کا ایسا حصہ بن چکا ہے جس کے بغیر ان کا دن ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک، اسکرین کسی نہ کسی صورت میں ان کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ والدین ابتدا میں اسے وقت گزاری یا سہولت سمجھ کر نظرانداز کرتے ہیں، مگر رفتہ رفتہ یہی سہولت ایک عادت اور پھر ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔ جب بچہ کھیل کود، پڑھائی، گفتگو اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے مسلسل موبائل میں گم رہنے لگے تو یہ محض ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں رہتا بلکہ ایک سنجیدہ طرزِ زندگی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اکثر والدین یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر بچے موبائل کی طرف اس قدر مائل کیوں ہو جاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ بوریت ہے۔آج کے بچے ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں جگہ کم، وقت محدود اور توقعات بے حد زیادہ ہیں۔ کھیل کے میدان سکڑ گئے ہیں جس کی وجہ سے دوستوں سے ملنے کے مواقع بھی کم ہو گئے ہیں اور والدین بھی اکثر اپنی مصروفیات یا اسکرینز میں الجھے رہتے ہیں۔ ایسے میں موبائل بچے کو فوری توجہ اور آسان تفریح فراہم کرتا ہے۔ مسئلہ موبائل نہیں بلکہ وہ خلا ہے جو یہ موبائل پُر کر رہا ہوتا ہے۔
جب والدین بچوں کو موبائل سے دور کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اکثر پہلا ردِعمل سختی، ڈانٹ یا مکمل پابندی کی صورت میں سامنے آتا ہے، جو عموماً الٹا اثر دکھاتا ہے۔ بچہ ضدی ہو جاتا ہے، غصے کا اظہار کرتا ہے یا چھپ کر موبائل استعمال کرنے لگتا ہے۔ دراصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو لڑائی کے بجائے سمجھ داری اور تدبر سے حل کیا جائے۔ سب سے پہلے والدین کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موبائل بچوں کے روزمرہ کا حصہ بن چکا ہے۔ اسے مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، البتہ اس کے استعمال میں توازن ضرور پیدا کیا جا سکتا ہے۔
بچوں کے موبائل استعمال کے لیے واضح اور قابلِ عمل حدود مقرر کرنا بے حد ضروری ہے۔ یہ حدود زبانی نہیں بلکہ عملی ہونی چاہئیں۔ مثال کے طور پر یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ اسکول کے بعد پہلے ہوم ورک ہوگا، اس کے بعد کھیل یا کسی گھریلو سرگرمی میں حصہ لیا جائے گا اور موبائل صرف محدود وقت کے لیے استعمال ہوگا۔ کھانے کے دوران، سونے سے پہلے اورگھر کی محفلوں میں موبائل کو ایک طرف رکھ دینا صحت مند تبدیلی کی ابتدا ہو سکتی ہے۔یہاں اہم بات یہ ہے کہ والدین خود بھی ان اصولوں پر عمل کریں کیونکہ بچے نصیحت سے زیادہ عمل کو دیکھتے ہیں۔
بچوں کو موبائل سے ہٹانے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ان کی زندگی میں متبادل دلچسپ سرگرمیاں شامل کی جائیں۔ اگر بچہ موبائل چھوڑ کر کسی اور چیز میں خوشی محسوس نہیں کرے گا تو وہ دوبارہ اسی اسکرین کی طرف لوٹ آئے گا۔ کھیل، کتابیں، ڈرائنگ، کہانیاں، باغبانی، کھانا پکانے میں مدد یا محض والدین کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا، یہ سب وہ سرگرمیاں ہیں جو آہستہ آہستہ بچے کو اسکرین سے دور لے جا سکتی ہیں۔ بچوں کے ساتھ وقت گزارنا دراصل موبائل کی عادت کا سب سے مضبوط توڑ ہے۔
یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ والدین خود موبائل کے استعمال میں کیا مثال قائم کر رہے ہیں۔ اگر والد یا والدہ ہر وقت فون میں مصروف ہوں، گفتگو کے دوران اسکرین دیکھتے رہیں یا بچے کی بات توجہ سے نہ سنیں، تو بچہ بھی یہی سیکھے گا۔ بچے کے لیے موبائل چھوڑنا اس وقت آسان ہوتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کے والدین بھی اسکرین سے ہٹ کر حقیقی زندگی کو اہمیت دے رہے ہیں۔ گھر میں موبائل فری وقت مقرر کرنا، جیسے رات کا کھانا یا ہفتے کا کوئی ایک دن، پورے خاندان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
بچوں کی حوصلہ افزائی اور تعریف اس پورے عمل میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب بچہ موبائل کے بجائے کسی مثبت سرگرمی کا انتخاب کرے تو اسے سراہا جانا چاہیے۔ تعریف، پیار بھرے الفاظ اور والدین کی توجہ بچے کے لیے کسی بھی ڈیجیٹل انعام سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ سزا اور ڈانٹ وقتی طور پر تو اثر دکھا سکتی ہیں، مگر طویل مدت میں مثبت رویہ ہی عادت بدلنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ والدین موبائل کو مکمل طور پر دشمن نہ سمجھیں۔ موبائل میں موجود تعلیمی مواد، معلوماتی ویڈیوز اور سیکھنے کے مواقع کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر بچے کو صحیح مواد کی طرف رہنمائی دی جائے تو موبائل نقصان کے بجائے فائدے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ مسئلہ مواد کا نہیں بلکہ حد سے زیادہ اور بے مقصد استعمال کا ہے۔
بچوں کی موبائل عادت ختم کرنا ایک مسلسل عمل ہے جس میں جلدبازی نہیں بلکہ حکمت اور برداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔شروع میں بچہ مزاحمت کرے گا، ناراض ہوگا، بوریت کا شکوہ کرے گا، مگر اگر والدین مستقل رہیں، متبادل سرگرمیاں فراہم کریں اور بچے کے جذبات کو سمجھیں تو آہستہ آہستہ صورتحال بہتر ہونے لگتی ہے۔ کبھی کبھی موبائل بچے کے لیے اندرونی اضطراب یا اکیلے پن سے بچنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور اس صورت میں والدین کی قربت سب سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔

اصل مقصد بچوں کو اسکرین سے محروم کرنا نہیں بلکہ انہیں زندگی سے روشناس کرانا ہے۔ ایک متوازن اور صحت مند زندگی، جہاں موبائل ایک آلہ ہو، منزل نہیں۔ جہاں بچہ کھیل میں خوشی ڈھونڈے، سیکھنے میں تجسس، رشتوں میں اپنائیت اور دنیا میں رنگ محسوس کرے۔ یہ سب کچھ حکم اور پابندی سے نہیں بلکہ قربت، صبر اور درست رہنمائی سے ممکن ہوتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں