• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہمارے بچے تنہا ہیں ؛ڈگریوں کے شور میں دبتی سسکیاں /شاہد محمود

ہمارے بچے تنہا ہیں ؛ڈگریوں کے شور میں دبتی سسکیاں /شاہد محمود

‎‎حال ہی میں پاکستان کی ایک یونیورسٹی کے طالب علم کی خودسوزی کی خبر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔ اس سے پہلے بھی اس نوعیت کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ایسی خبریں سن کر، پڑھ کر شاید ہم چند لمحوں کے لیے اداس بھی ہوئے ہوں گے، بعض دانشوروں نے سخت مذمت بھی کی ہوگی اور مختلف تجزیے بھی سامنے آئے ہوں گے۔
‎لیکن پھر کیا ہوا؟

‎وقت گزرا، خبر پرانی ہوئی، اور معاملہ بھی آتے جاتے لمحوں میں دفن ہو گیا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے واقعات کا بار بار رونما ہونا اس بات کی علامت ہے کہ شاید ہم نے انہیں قبول کر لیا ہے۔ اب دل پہلے کی طرح لرزتا بھی نہیں، اور ہم ایک خبر سمجھ کر موبائل اسکرین اسکرول کر دیتے ہیں۔

‎یہ نظام اور سماج کا وہ غیر محسوس دباؤ ہے جسے نہ ہم دیکھتے ہیں، نہ سننا چاہتے ہیں۔
‎سوال یہ ہے:

‎یہ دباؤ کیا ہے؟
‎اسے کون پیدا کر رہا ہے؟
‎اور ہم اتنے کمزور کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟
‎ہمارے بچے آخر تنہا کیوں ہیں؟

‎حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام نہ فرد کو مضبوط بناتا ہے اور نہ ہی اجتماعی طور پر کوئی صحت مند سماج تشکیل دے رہا ہے۔ درسگاہوں کی آڑ میں ایک ایسا بے رحم مقابلہ جاری ہے جہاں صرف وہی بچے قابلِ قبول ہیں جو اس نظام کے بہترین خدمت گزار بن سکیں۔
‎اس دوڑ میں نہ جانے کتنے بچے ہم قبرستانوں میں دفنا چکے ہیں، اور نہ جانے کتنے آج بھی مایوسی کے اندھیروں میں خود کو ناکارہ اور ناکام سمجھ رہے ہیں۔
‎جو اس نظام کے معیار پر پورا نہ اتر سکے، اسے فوراً ناکامی کا لیبل تھما دیا جاتا ہے۔

‎مختصراً، ہمارے تعلیمی ادارے بچوں کے سیکھنے کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے، بلکہ اکثر اوقات وہ شرمندہ کرنے، مایوس کرنے اور ذہنی طور پر مفلوج کر دینے کے کارخانے بن چکے ہیں۔
‎بچوں کی قدر و قیمت ان کی مارک شیٹس سے لگائی جاتی ہے، جیسے اس سرمایہ دارانہ نظام میں طے کیا جا رہا ہو کہ کون کتنے دام کا ہے۔

‎اب سوال یہ ہے:
‎کیا ہم یہ سب یوں ہی چلنے دیں؟
‎یا پھر اس کا سنجیدہ تدارک کریں؟

‎ہمیں اپنے بچوں کے کمروں میں جا کر ان کی خاموشی کو سننا ہوگا۔
‎اساتذہ اور والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ زمانہ گزر چکا جب مشترکہ خاندانوں اور محلوں میں دکھ سکھ بانٹ لیے جاتے تھے۔ آج کا بچہ انٹرنیٹ کی اس ڈیجیٹل دنیا میں تنہا ہے۔
‎اب صرف پیٹ بھرنا اور فیس ادا کرنا کافی نہیں رہا، بلکہ ان کے ذہن کو بھرنا—یعنی حقیقی تعلیم دینا—اور ان کے ساتھ کھڑا ہونا اصل تربیت ہے۔

‎تعلیمی اداروں میں اساتذہ صرف سبجیکٹ اسپیشلسٹ نہ ہوں، بلکہ لائف کوچ بھی بنیں۔ نوجوانوں کو مایوسی سے نکالیں، انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ بغیر کسی شرط کے قیمتی ہیں۔
‎اگر کسی کے نمبر کم آ رہے ہیں تو سزا دینے کے بجائے اس کی وجہ تلاش کی جائے، اس کی مدد کی جائے۔
‎اسکول رٹہ لگانے کی مشینیں نہیں، بلکہ محفوظ پناہ گاہیں بننے چاہئیں۔

‎والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
‎اس بے رحم ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کو اکیلا چھوڑ دینے کے بجائے انہیں سننے کے لیے اپنے کان دینے ہوں گے، تاکہ انہیں قبولیت کا احساس ہو۔
‎کاش ہم بچوں سے ان کے نمبرز اور گریڈز کے بجائے ان کے ڈر ( خوف ) اور خوابوں کے بارے میں پوچھیں۔

‎ہمیں اپنے گھروں میں گفتگو کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔
‎بچوں کی ذہنی اور جذباتی صحت پر بات کرنا ہوگی، ان کی خوداعتمادی، خودداری اور عزتِ نفس کو محفوظ بنانا ہوگا۔

‎ہم اپنے نوجوانوں کو تعلیمی اداروں میں اس لیے نہیں بھیجیں کہ سرمایہ دارانہ نظام ان کی قیمت لگائے، بلکہ اس لیے بھیجیں کہ ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کے ساتھ ساتھ ایسے مضبوط انسان تیار ہوں جو نظام کے بوجھ تلے ٹوٹ نہ جائیں۔

‎”خودکشی زندگی کی ہار نہیں ہوتی،
‎وہ اس معاشرے کی ناکامی ہوتی ہے
‎جو کسی کو یہ یقین نہ دلا سکے کہ
‎تم اکیلے نہیں ہو۔”

‎حل کسی ایک فرد، ایک استاد یا ایک ادارے کے بس کی بات نہیں، یہ ایک اجتماعی شعور کی بیداری کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں تعلیمی پالیسیوں میں نمبروں کے بجائے انسان کو مرکز بنانا ہوگا، نصاب میں زندگی سکھانے والی مہارتیں شامل کرنی ہوں گی، اور اسکولوں و جامعات میں ذہنی صحت کو باقاعدہ اور سنجیدہ موضوع کے طور پر جگہ دینا ہوگی۔ اساتذہ کی تربیت صرف مضمون تک محدود نہ رہے بلکہ انہیں سننے، سمجھنے اور سہارا دینے کا ہنر بھی سکھایا جائے۔ والدین کو کامیابی کی نئی تعریف سمجھنی ہوگی—ایسی تعریف جس میں بچہ خود کو محفوظ اور قابل قدر محسوس کرے۔ اور سب سے بڑھ کر، ہمیں ہر سطح پر یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ انسان کی قدر اس کے نمبرز اور گریڈز سے نہیں بلکہ اس کے وجود سے ہوتی ہے۔ جب تک ہم یہ اجتماعی یقین پیدا نہیں کرتے، ہمارے بچے ڈگریوں کے شور میں یونہی سسکتے رہیں گے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply