نیت، مصلحت اور قانون: ہیلمٹ سے استثنیٰ کا سوال/ عبدالرؤف خٹک

انسانی زندگی میں اکثر فیصلے نیتوں کے تابع ہوتے ہیں۔ انسان اپنی جگہ نیک نیتی سے کسی خیر کا ارادہ کرتا ہے، لیکن دانائی کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلے کی بنیاد محض جذبات پر نہیں بلکہ ٹھوس زمینی حقائق اور قانون کی بالادستی پر ہو۔ دیہی معاشرت میں چھوٹے فیصلے پنچائیت کی سطح پر عوامی حمایت سے طے پا جاتے ہیں، جہاں مخالف فریق بھی برادری کے دباؤ یا خوشی سے سر جھکا لیتا ہے۔ لیکن جب معاملہ ریاستی قوانین کا ہو، تو وہاں کسی ایک فرد کی رائے کو حرفِ آخر قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ قانون کا مقصد ایک بڑے طبقے کی فلاح اور جان و مال کا تحفظ ہوتا ہے۔
حال ہی میں پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ کی جانب سے سکھ برادری کو ہیلمٹ پہننے کی پابندی سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ سامنے آیا۔ اس اقدام کے پیچھے یہ سوچ کارفرما تھی کہ اقلیتوں کو احترام کا پیغام دیا جائے اور پگڑی کی وجہ سے انہیں درپیش دشواری کا ازالہ کیا جائے۔ بظاہر یہ ایک نیک نیتی پر مبنی سیاسی فیصلہ دکھائی دیتا ہے، لیکن یہاں چند بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہیلمٹ کا مقصد محض “دل پشوری” یا دکھاوا ہے یا یہ انسانی جان کا محافظ ہے؟ سڑک پر چلتی گاڑی اور اچانک پیش آنے والا حادثہ نہ تو مذہب دیکھتا ہے، نہ رنگ و نسل اور نہ ہی یہ دیکھتا ہے کہ سر پر دستار ہے یا ٹوپی۔ ہیلمٹ وہ ڈھال ہے جو حادثے کی صورت میں زندگی اور موت کے درمیان حائل ہوتی ہے۔ جب ہم کسی ایک طبقے کو اس کی مذہبی یا ثقافتی وابستگی کی بنیاد پر حفاظتی قانون سے استثنیٰ دیتے ہیں، تو ہم نادانستہ طور پر دیگر طبقات کے لیے بھی ایک راہ کھول دیتے ہیں۔ کل کلاں اگر مدرسے اور مسجد سے وابستہ افراد یا اپنی ثقافت میں پگڑی کو انا کا مسئلہ سمجھنے والے دیگر گروہ بھی اسی رعایت کا مطالبہ کریں، تو ریاست کے پاس ان کے انکار کا کیا جواز ہوگا؟
پنجاب حکومت کی اس “رعایت” پر حیرت ہوتی ہے کہ انہیں اقلیتوں کو نوازنے کے لیے صرف ‘ہیلمٹ’ ہی نظر آیا؟ کیا اقلیتی برادریوں کے حقیقی مسائل ختم ہو چکے ہیں؟ کیا ہی بہتر ہوتا کہ انہیں تعلیم، روزگار، جان و مال کے تحفظ اور سماجی برابری کے حوالے سے ایسی ٹھوس مراعات دی جاتیں جو ان کے معیارِ زندگی کو بلند کرتیں۔ انسانی جان کو خطرے میں ڈال کر دی گئی رعایت دراصل “رعایت” نہیں بلکہ ایک سنگین تضاد ہے۔
اگر ہم اپنے ہمسایہ ملک ہندوستان کی مثال دیکھیں، تو وہاں بھی یہ بحث طویل عرصے تک چلتی رہی۔ وہاں کے قانون کے مطابق صرف ان سکھوں کو استثنیٰ حاصل ہے جو مذہبی شعائر کے مطابق مستقل دستار باندھتے ہیں، جبکہ بال کٹوانے والے سکھ نوجوانوں کے لیے ہیلمٹ لازمی ہے۔
بات صرف رعایت کی نہیں، ترجیحات کی ہے۔ ریاست کی پہلی ذمہ داری شہری کی جان کا تحفظ ہے۔ جب قانون کی حکمرانی سیاسی جذبات کی نذر ہو جائے تو نقصان پورے نظام کا ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی نیک نیتی کو ایسے اقدامات میں ڈھالے جو واقعی سود مند ہوں۔ ہیلمٹ سے استثنیٰ دے کر ہم شاید چند لمحوں کی ستائش تو سمیٹ لیں، مگر کیا ہم اس سکھ نوجوان کی زندگی کی ضمانت دے پائیں گے جو اس رعایت کے بھروسے بغیر ہیلمٹ گھر سے نکلے گا؟
فیصلہ اب وقت اور حکمرانوں کے ضمیر پر ہے: کیا پگڑی کا مان، جان سے زیادہ قیمتی ہے؟

Facebook Comments

عبدالرؤف خٹک
میٹرک پاس ۔اصل کام لوگوں کی خدمت کرنا اور خدمت پر یقین رکھنا اصل مقصد ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply