فلاح اور فلاحی کام/ڈاکٹر اظہر وحید

انسان کی فلاح فلاحی کاموں میں ہے …. بشرطیکہ نیت پاک ہو، بے غرض ہو اور اس کام سے خود کوئی ضمنی فائدہ اٹھانے کا خیال پیشِ نظر نہ ہو۔ فلاحی تنظیمیں بنتی ہیں، بگڑتی ہیں اور پھر ٹوٹ جاتی ہیں۔ وجہ اس کی بالعموم نا اتفاقی ہوتی ہے۔ اتفاق کا ٹوٹنا مزاج اور مفاد کے برہم ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اخلاص اپنے مزاج اور مفاد کی نفی کا نام ہے۔
اکثر یہ سوال ہوتا ہے کہ بُرے لوگ بُرے کام بڑے انہماک اور اتفاق سے کرتے ہیں، جبکہ اچھے کاموں میں اچھے لوگ متحد اور متفق نہیں پائے جاتے۔ دراصل بُرے کام بالمعوم ہوسِ زر اور لذت وجود پر مشتمل ہوتے ہیں …. اور ایسے کاموں میں ویسے لوگوں کا ایک دوسرے سے جڑنا بربنائے مفاد ہوتا ہے۔ ایک کاروباری شخص اپنے کاروبار میں بڑھوتری کے لیے ہزارہا لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیتا ہے، اپنے مزاج کے برعکس ان کی خوب دعوتیں اور ضیافتیں بھی کرتا ہے۔ یہاں مفاد کا اشتراک اس کے مزاج پر غالب آ جاتا ہے۔ اس کے برعکس خیر کے کاموں میں بالعموم ذاتی مفاد پیشِ نظر نہیں ہوتا، آپس میں مل بیٹھنے کے لیے کوئی بیرونی محرک موجود نہیں ہوتا، یہاں دوستوں کے درمیان وجہِ دوستی مفاد نہیں بلکہ محض مزاج ہوتا ہے۔ یہ ہم مزاج آپس میں خوب مل بٹھتے ہیں اور اپنے مزاج کے برعکس لوگ اگرچہ خیر کا کام ہی کیوں نہ کریں، وہ ان کی بیٹھک میں مدعو نہیں ہوتے، بلکہ حتی الوسع اپنی مصاحبت سے انہیں دور رکھا جاتا ہے۔ مزاج …. ہر شخص کی ایک پرسنل سپیس ہے …. بس یہ فقیر ہے، جس کی کوئی پرسنل سپیس نہیں ہوتی۔ ہر قوم، قبیلے، فرقے اور مزاج کے لوگ اس کے ہاں مدعو رہتے ہیں۔ خیر کے کاموں میں مشغول لوگوں کو درپیش چیلنج اپنے مزاج کی نفی ہے۔ مزاج کی نفی …. نفس کا تزکیہ طلب کرتی ہے۔ جب تک انسان کا نفس تزکیے کی کچھ حالتوں سے نہ گذرے وہ اپنے مزاج پر پاوں نہیں رکھ سکتا۔ اسے خیر کے کاموں میں بھی ذاتی پسند اور ناپسند کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے۔
بالفاظِ دیگر خیر کے مسافروں کو خیر کے کاموں کے لیے پہلے اپنے باطنی معاملات سنوارنا ہوتے ہیں۔ یہاں پر مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک جملہ نظروں کے سامنے کوندتا ہے کہ ”جب تک انسان اپنی روح کو بیدار نہ کر لے، وہ کوئی فلاحی کام نہیں کر سکتا“۔ گویا جسموں کی دنیا میں اچھا کام کرنے کے لیے ہمیں روح کی دنیا میں ایک اچھا مسافر بننا ہوتا ہے۔ یہاں یہ نکتہ کھلا کہ باطن مقدم ہے اور ظاہر مو¿خر۔ نیت پہلے ہے اور عمل بعد میں …. وضو
پہلے ہے، اور نماز بعد میں۔ معروف حدیثِ پاک شاہد ہے: ”اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے“۔
تزکیہ دراصل نیت خالص کرنے کا عمل ہے۔ خالصتاً الی اللہ کام کرنے کے لیے بے حد ریاضتِ نفس درکار ہوتی ہے۔ الی اللہ کام ہی اخلاص کے کام کہلانے کے لائق ہوتے ہیں۔ قرآن کی جس سورة میں توحید بیان کی گئی ہے، اسے سورةِ اخلاص کہتے ہیں۔ الحمد سے والناس تک قرآن کی ہر سورة کا نام اس کے اندر ہی موجود آیات کے کسی لفظ سے لیا گیا ہے۔ سورة اخلاص کا نام ایسا ہے کہ یہ لفظ اس سورة میں موجود نہیں، لیکن اس کا عنوان اخلاص ہے، اور اس میں بیان توحید کا ہے۔ اخلاص اور توحید کا باہمی تعلق اور ربط اس امر سے خوب آشکار ہوتا ہے۔ اس نکتے کا اطلاق اگر ہم اپنے وجود پر کریں تو معلوم ہو گا کہ اخلاص وہ جوہر ہے جس کا رشتہ کسی شےِ موجود کے ساتھ نہیں جوڑا سکتا ہے۔ دراصل اخلاص تک پہنچنے کے لیے ہر موجود کی نفی درکار ہوتی ہے۔ کلمہ توحید میں حرفِ ”لا“ اس امر پر دال ہے کہ ہر شے موجود و معلوم کی نفی توحید کی شرطِ اوّل ہے۔
مفاد کا ترک کرنا قدرے آسان ہے، مزاج سے چھٹکارا پانا ایک کارِ دشوار ہے، کہ مفاد ظاہر میں نظر آ جاتا ہے، لیکن خود اپنی نظر سے بھی اوجھل رہتا ہے۔ مزاج بندے کے وجود کے ساتھ یوں رچ بس جاتا ہے کہ بندہ اسے الگ سے کسی غیر صورت میں نہیں جان پاتا۔ جب وہ اپنے مزاج اور طبیعت کو غیر نہیں سمجھتا تو اس سے نجات پانے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔ اپنے چہرے پر لگا دھبہ خود کو نظر نہیں آتا۔ اسی لیے ہمیں کسی آئینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی آئینہ صفت ہو یا کوئی آئینہ رو، اس کے روبرو جائیں تو اپنی اصل ہیئت اور قد و قامت کا پتہ چلتا ہے۔ اپنے حلقہِ مزاج میں، اپنے گھر کے صحن میں انسان خود کو قد آور دیکھتا ہے اور ہر اس شخص کو پست قامت اور کردار جانتا ہے جو اس کے مزاج کے قبیلے سے تعلق نہیں رکھتا۔ اپنے مزاج کے بندی خانے کا اسیر کوئی دیرپا فلاحی کام نہیں کر پاتا۔
محاوروں میں ایک پرانا محاورہ ہے: ”گھوڑے کی سواری پر جھگڑا ہوتا ہے، گھوڑے کو پانی پلانے پر جھگڑا نہیں ہوتا“۔ لیکن انسان ہے کہ اپنے مزاج اور مفاد میں اس طرح قید ہو گیا ہے کہ خیر کے کاموں میں بھی یہاں ہر ایک کا اپنا اپنا گھوڑا ہے، اور پھر وہی بات کہ
کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
کہیں گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا
فلاحی کام فلاح یافتہ ہی کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں۔ فلاح یافتہ انسانوں کی کچھ خصوصیات بتائی گئی ہے۔ سورة فرقان میں عباد الرحمان کا تذکرہ ہے، سورة البقرہ میں محسنین کی عادات بتائی گئی ہیں …. قرآنی ڈکشن میں صوفیاءکو عباد الرحمن اور محسنین کہا گیا ہے، کہیں انہیں شاہدین بھی پکارا گیا ہے۔ عباد الرحمن کی خوبیوں میں ان کا زمین پر عاجزی اور انکسار سے چلنا سرِ فہرست ہے۔ سورة البقرہ میں محسنین کی عادات و اطور کا تذکرہ ہے کہ وہ غصے کو ضبط کرنے والے اور لوگوں کی غلطیاں معاف کرنے والے ہوتے ہیں۔ فلاح یافتہ …. انعام یافتہ ہوتے ہیں۔ انعام یافتہ اور نعمت یافتہ میں فرق ہوتا ہے۔ نعمتوں کا سوال ہو گا، جبکہ انعام اللہ کے فضل کا نام ہے، اور یہ بے حساب ہوتا ہے، یعنی اس کا حساب نہیں ہوتا۔
فلاح یافتہ لوگوں میں جو چیز مشترک ہے، وہ تزکیہ نفس ہے …. یہ اپنے نفس کے جھانسے میں نہیں آتے …. نیکی کے نام پر بھی خود پسندی کا شکار نہیں ہوتے۔ اس سے بچنے کے لیے ان کے پاس ملامت کی لوئی ہوتی ہے۔ جہاں تعریف اور توصیف کے کلمات کی فراوانی کا امکان ہو، وہاں سے فرار اختیار کر لیتے ہیں۔
چل بلّھیا ہن اوتھّے چلیے جتھے سارے انّھے
نہ کوئی ساڈی ذات بچھانے، نہ کوئی سانوں مَنّے
خود کو منوانے کی لپک بہت خطرناک ہوتی …. دم بھر میں سرمایہِِ خیر ہاتھوں سے جاتا رہتا ہے۔ انسان خالق کے ساتھ ساتھ مخلوق کے ہاں بھی مقبول ہونے کی آرزو میں مبتلا ہو جاتا ہے …. توحید اور اخلاص کے باب میں یہ شرک ہے۔ قرآن کہتا ہے: شرک ایک ظلمِ عظیم ہے۔ اپنے نفس پر ظلم، ظلمِ عظیم ہی ہوتا ہے۔
قرآن میں واضح درج ہے کہ تم نیکی کے کاموں کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ وہ خرچ نہ کرو، جو تمہیں سب سے عزیز ہے۔ انسان کو سب سے عزیز اس کا نفس ہوتا ہے۔ نفس پر پاو¿ں رکھے بغیر وہ کارِ خیر کرنے والوں کی صف میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔ تزکیہ نفس کے بغیر کیے گئے فلاحی کام جلد یا بدیر تجارت یا سیاست کی کروٹ لے لیتے ہیں۔
یہ کیا راز ہے کہ دنیا دار، سرمایہ دار کا لنگر نہیں چلتا …. باوجود اس کے، کہ اس کے پاس سرمایہ بسیار ہوتا ہے، اور فقیر کا لنگر جاری ہوتا ہے، باوجود اس کے، کہ اس کے پاس مال نہیں ہوتا۔ لنگر کی کئی قسمیں ہیں۔ ہر فقیر کا ایک مخصوص لنگر ہوتا ہے۔ میرے مرشد کا لنگر لفظ اور خیال ہے۔ یہ لنگر جاری و ساری ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply