ہارڈ اور اسمارٹ ورک نہیں؛ہارٹ ورک کریں /ایاز مورس

امسال کے آغاز پر کراچی کے ایک پوش علاقے میں واقع ایک کافی ہاؤس میں، میں تین نامور ادیبوں کے ساتھ کافی پی رہا تھا۔ادب پر گفتگو ہو رہی تھی، ”ایک لکھاری کو کیا اور کب لکھنا چاہیے؟“گفتگو کے دوران ہم میں سے ایک ادیب نے معروف لکھاری محترم شکیل عادل زادہ سے سوال کیا،”آپ کب لکھتے ہیں؟“محترم شکیل عادل زادہ نے بڑے اطمینان سے جواب دیا،”جب دِل کرتا ہے۔“
یہ جملہ سن کر چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ اس خاموشی میں حیرت بھی تھی اور حسرت بھی،کاش ہمیں بھی یہ سہولت میسر ہو کہ ہم جب دِل چاہے، تب لکھ سکیں۔ شکیل عادل زادہ نے اپنی پوری زندگی اسی ایک نقطے پر گزار دی، اور کیا خوب گزار دی،ان کا لکھا اس بات کی گواہی ہے۔تاہم، آج ہمارا موضوع یہ نہیں ہے۔ آج کل ایک موضوع بڑے زور و شور سے زیرِ بحث،ہارڈ ورک(Hardwork)اور اسمارٹ ورک(Smartwork)کے درمیان فرق ہے۔ عام طور پر انہی دونوں کو کامیابی کی کنجی سمجھا جاتا ہے، مگر میں اس نقطء نظر سے مکمل طور پر متفق نہیں ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ ہمیں ہارڈ ورک اور اسمارٹ ورک سے بڑھ کر ہارٹ ورک(Heartwork)پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یہ یاد رکھیں ہارڈورک کئے بغیر آپ اسمارٹ ورک نہیں کرنا سیکھ سکتے ہیں۔
میری دانست میں دُنیا میں لوگ تین قسم کے ہوتے ہیں۔
پہلی قسم وہ ہے جو ہارڈ ورک پر یقین رکھتی ہے اور بھرپور محنت کرتی ہے۔
دوسری قسم وہ ہے جو اسمارٹ ورک پر یقین رکھتی ہے اور جدید، منفرد اور مؤثر طریقوں سے کام کرتی ہے۔
جبکہ تیسری اور نسبتاً نایاب قسم وہ ہے جو ہارٹ ورک پر یقین رکھتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو وہی کام کرتے ہیں جن کے لیے وہ قدرتی طور پر تخلیق کیے گئے ہوتے ہیں،جو ان کی فطری صلاحیتوں، مزاج اور دِل کے قریب ہوتے ہیں۔یقینی طور پر پہلی دو اقسام کے بارے میں ہم بہت سنتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے خوب محنت کرو، کوئی کہتا ہے اسمارٹ طریقے سے محنت کرو۔ مگر ہارٹ ورک کرنے والوں کا ذکر کم ہی ہوتا ہے، شاید اس لیے کہ ایسے لوگ خود بھی کم ہوتے ہیں۔یہ لوگ چیزوں کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ یہ اپنی ”کریئیٹو زون“ میں رہتے ہوئے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پہچانتے، نکھارتے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔
میرا مشاہدہ ہے کہ دُنیا میں لوگ بنیادی طور پر تین وجوہات کی بناء پر کام کرتے ہیں۔پہلی وجہ مجبوری ہوتی ہے۔دوسری وجہ ذمہ داری،یا تو وہ ذمہ داری انہیں دی جاتی ہے یا حالات انہیں اسے قبول کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔اور تیسری وجہ وہ ہوتی ہے جس میں نہ مجبوری شامل ہوتی ہے اور نہ صرف ذمہ داری؛ بلکہ ایسے لوگ کائنات میں بہتری، اپنی ذات کی تکمیل اور انسانیت کی تعمیر کے لیے اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھتے ہیں۔یہ لوگ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے معاشرے میں اپنی شناخت بناتے ہیں۔دُنیا بھر کی تحقیق اور مائنڈ سائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جو لوگ اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ زندگی کے درمیان تناؤ کو کم کر لیتے ہیں، وہ زندگی بھر تھکن، اکتاہٹ اور ذہنی دباؤ سے بڑی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔وہ خوشحالی اور ترقی کے زیادہ قریب ہوتے ہیں،ان کی تخلیقی صلاحیتیں وقت کے ساتھ نکھرتی چلی جاتی ہیں،اور وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بہتر، منظم اور مؤثر کام کرتے ہیں۔اسی تناظر میں میں اکثر کہتا ہوں کہ”بڑے کام بڑے اداروں سے نہیں، بلکہ بڑے ارادوں سے ہوتے ہیں۔“ہارٹ ورک کرنے والوں کی زندگی میں ورک لائف بیلنس بہتر ہوتا ہے، اور برن آؤٹ کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ لوگ اپنا کام دوسروں پر برتری جتانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی ذات کی تکمیل اور اندرونی سکون کے لیے کرتے ہیں۔ایسے افراد خود احتسابی پر یقین رکھتے ہیں، خود کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں، اور وقت کے تقاضوں اور جدید رجحانات کے مطابق اپنے ہنر اور کام کو بہتر بناتے رہتے ہیں۔چند خوبیاں جو ہارٹ ورک کرنے والوں کو عام لوگوں سے منفرد اور ممتاز بناتی ہیں۔
یہ اپنے پیشے اور پیشن کے انتخاب میں بھرپور جستجو کرتے ہیں۔یہ لائف لانگ لرنرز ہوتے ہیں،ہمیشہ سیکھنے کے عمل میں رہتے ہیں۔یہ روایتی اور سماجی دباؤ سے ہٹ کر اپنی نئی راہیں خود بناتے ہیں۔ان کے لیے کام محض ذریعہء معاش نہیں بلکہ زندگی کا سرچشمہ ہوتا ہے، جو انہیں توانائی اور تازگی بخشتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ اپنی قدرتی صلاحیتوں، شخصیت اور مزاج کے مطابق کام کا انتخاب نہیں کر پاتے ہیں۔ مواقع اور سہولتوں کی کمی کے باعث بہت سے افراد زندگی بھر محض پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ایسے کام کرتے رہتے ہیں جو ان کی رُوح اور فطرت سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی تمام ذمہ داریاں چھوڑ کر فوراً کسی نئے خواب کی تلاش میں نکل پڑیں۔لیکن یہ ضرور ممکن ہے کہ اپنی مصروفیات اور ذمہ داریوں کے باوجود ہم ان کاموں کو وقت دیں جو ہماری رُوح کو تسکین، دِل کو تشفی اور ذہن کو مسرت عطا کرتے ہیں۔
بلاشبہ وہ لوگ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں جو اپنے شوق، ذوق اور مزاج کے مطابق ہارٹ ورک کو ہی اپنا پیشہ اور پہچان بنا لیتے ہیں۔ مگر اس راستے میں قربانیاں، مشکلات اور صبر کی کڑی آزمائش بھی شامل ہوتی ہے۔ یہ ایک میراتھن ریس ہے جس میں ہر کوئی کامیاب نہیں ہوتا، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمیں دوڑ میں شامل ہی نہیں ہونا چاہیے۔اپنی ذات میں چھپے ان قیمتی خزانوں کی تلاش کے لیے کم از کم ایک شمع تو روشن کی جا سکتی ہے۔ممکن ہے اس کی روشنی پوری دُنیا کے اندھیرے کو نہ مٹا سکے،مگر کم از کم آپ کے دِل کو تو روشن ضرور کر دے گی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply