پی آئی اے کی فروخت: ایک جائزہ/ابو جون رضا

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA)، جو کہ ملک کی قومی ایئرلائن ہے، سالہا سال کے مسلسل نقصانات کے بعد بالآخر نجی ملکیت میں دے دی گئی ہے۔

کیا یہ حکومت اور عوام کے لیے ایک اچھا سودا ہے؟

بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں۔کوئی اچھا اقدام قرار دے رہا ہے تو کوئی مذہبی مثالیں دیکر کوسنے کاٹنے میں لگا ہوا ہے۔اس حتمی سوال کا جواب دینے کے لیے آپ کو اس لین دین کے مالیاتی پہلوؤں کا جائزہ لینا ہوگا۔

کیا فروخت ہوا؟

کتنی رقم وصول ہوئی ؟

کون سے واجبات پیچھے رہ گئے؟

حکومت کو کیا ملا؟

جان لیجیے کہ “پرانی پی آئی اے” کا تمام حصہ نجی ملکیت میں نہیں دیا گیا۔فروخت سے پہلے، حکومت نے ایئرلائن کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔حکومت نے ایک “ہولڈنگ کمپنی” بنائی ،اس نے ماضی کا زیادہ تر مالی بوجھ، یعنی تقریباً 650 ارب روپے کے خالص واجبات اپنے ذمے لے لیے۔

دوسری طرف، فعال ایئرلائن (آپریٹنگ ایئرلائن) کے پاس جہاز،فضائی راستے (روٹس)اور روزمرہ کا کاروبار برقرار رہا۔

حکومت نے کیا فروخت کیا؟

حکومت نے نجی سرمایہ کاروں کو یہی “آپریٹنگ ایئرلائن” فروخت کی ہے،جبکہ ہولڈنگ کمپنی اب بھی ریاست کی ملکیت ہے۔اگر آپ سال 2024 کے اکاوئنٹس کا جائزہ لیں تو آپ کو اس تقسیم کی وجہ پتا چلے گی۔

ہولڈنگ کمپنی کو کیوں بنایا گیا؟

ہولڈنگ کمپنی کو اس لیے بنایا گیا تاکہ وہ پی آئی اے کے پرانے واجبات کا اتنا بوجھ اٹھا لے کہ فروخت کی جانے والی ایئرلائن 2024 میں تھوڑا بہت آپریٹنگ منافع دکھا سکے۔ یہ کوئی دکھاوا نہیں تھا بلکہ ادارے کو بحال کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش تھی۔

نجکاری کب کامیاب ہوتی ہے؟

نجکاری اسی صورت میں کامیاب ہوتی ہے جب خریدار کے پاس قدر پیدا کرنے کا کوئی قابلِ بھروسہ راستہ موجود ہو۔ پی آئی اے جس حال میں تھی،وہ “قرضوں کے بوجھ” (Debt-overhang) کے کلاسک مسئلے کا شکار تھی۔ یعنی اگر نئی انتظامیہ کارکردگی بہتر بھی بنا لیتی، تب بھی اضافی آمدنی کا بڑا حصہ پرانے قرضوں کی ادائیگی میں ہی نکل جاتا۔ ایسی صورتحال میں، عقلمندی یہی ہوتی ہے کہ سرمایہ کاری کم کی جائے، اور بس کسی طرح وقت گزارا جائے۔ پرانی بیلنس شیٹ کے بوجھ کو آپریٹنگ ایئرلائن سے الگ کر کے، حکومت نے خریدار کے لیے ترغیب پیدا کی اور اصولی طور پر ان امکانات کو بہتر بنایا کہ انتظامی اصلاحات منافع بخش ثابت ہوں۔ حکومت نے آپریٹنگ ایئرلائن کے 75 فیصد حصص ایک ایسے پراسیس کے تحت فروخت کیے ، جس میں ریاست کو تھوڑی بہت نقد رقم ملے گی۔ جبکہ کمپنی میں سرمائے کی بڑی مقدار شامل کی جائے گی۔

تقریباً 10 ارب روپے حکومت کو نقد وصول ہوں گے، جبکہ 125 ارب روپے کاروبار کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے بطورِ ایکویٹی، ایئرلائن میں شامل کیے جائیں گے۔ اس پراسیس کے تحت، ریاست کے پاس جو 25 فیصد حصہ باقی رہ گیا ہے اس کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے بنتی ہے۔یعنی مجموعی طور پر، اس لین دین سے حکومت کو حاصل ہونے والی فوری “قدر” تقریباً 55 ارب روپے ہے۔یعنی 10 ارب روپے نقد اور 45 ارب روپے کے حصص۔

حکومت کو کیا نہیں ملے گا؟

کچھ حکومتی ماہرین اس فروخت پر یوں جشن منا رہے ہیں جیسے پی آئی اے کی نجکاری سے مالیاتی خسارہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔

ایسا نہیں ہے۔

ریاست اب بھی ہولڈنگ کمپنی کی مالک ہے۔ اس کے ساتھ تقریباً 650 ارب روپے کے پرانے خالص واجبات بھی اسی کے پاس ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، حکومت کو اس سودے سے تقریباً 55 ارب روپے کی قدر حاصل ہوئی، لیکن اس کے پاس اب بھی تقریباً “650 ارب روپے” کے پرانے قرضے باقی ہیں۔ ان دونوں معاملات کا موازنہ کریں تو بیلنس شیٹ میں اب بھی تقریباً 600 ارب روپے کا خسارہ موجود ہے۔ یہ نیگیٹو سائن اہمیت رکھتا ہے۔ اگر اس انویسٹمنٹ کی ایوریج آپریٹنگ کاسٹ کا محتاط اندازہ 10 فیصد بھی لگایا جائے، تو اس پرانے بوجھ کو سنبھالنے کے لیے سالانہ تقریباً 60 ارب روپے کے مالیاتی اخراجات آئیں گے۔ یعنی حکومت ماضی کی بدانتظامیوں کی قیمت ادا کرتی رہے گی،چاہے نجکاری ہو یا نہ ہو۔ مستقبل  کی صورتحال کیا نظر آرہی ہے؟

ایک عام شخص ان اعداد و شمار کو دیکھ کر یہی نتیجہ نکالے گا کہ یہ نجکاری محض ظاہری تبدیلی کے مترادف ہے، لیکن یہ کہنا زیادتی ہوگی۔ یہ سودا درست سمت میں ایک قدم ہے

یہ آپریٹنگ ایئرلائن کو قرضوں کے بوجھ سے آزاد کرے گا اور اس کو ایسی نئی انتظامیہ کے حوالے کرے گا جس کے پاس بہتر کارکردگی دکھانے کا “کوئی مقصد” موجود ہو۔

ایک اور سوال ۔۔

ان 600 ارب روپے کے واجبات کا کیا ہوگا جو ابھی بھی حکومت کے ذمے ہیں؟

اس سے پہلے معاشیات کا ایک اصول سمجھیے اسے Sunk Cost Fallacyکہتے ہیں۔

اس کو کچھ مثالوں سے سمجھتے ہیں

یہ اصل میں ایک ذہنی اور معاشی مغالطہ ہوتا ہے جس میں انسان یا ادارہ ماضی میں خرچ کیے گئے وسائل (پیسہ، وقت، محنت، عزت) کی وجہ سے غلط فیصلہ کو جاری رکھتا ہے۔ حالانکہ عقل کہتی ہے کہ اب رک جانا بہتر ہے۔ میں سادہ الفاظ میں کہوں تو “جو خرچ ہوا ، وہ واپس نہیں آ سکتا، لیکن وہ فیصلہ بدلنے کی بنیاد نہیں ہونا چاہیے”۔لیکن ہم کہتے ہیں،

“اتنا خرچ ہو چکا ہے، اب چھوڑ کیسے دیں؟”

یہی sunk cost fallacy ہے۔

ایک مثال۔۔آپ نے سینما کا ٹکٹ خریدا، فلم بری ہے، سر درد بھی ہے،لیکن آپ کہتے ہیں، “پیسے لگ چکے ہیں، پوری دیکھنی پڑے گی” درست فیصلہ کیا ہوگا؟

اٹھ کر چلے جائیے۔کیونکہ ٹکٹ کا پیسہ واپس نہیں آئے گا،مگر وقت بچے گا،سر درد کی اذیت سے نجات ملے گی۔

دوسری مثال

ایک پروجیکٹ مسلسل نقصان میں جا رہا ہے، مینجمنٹ کہتی ہے، “اتنا سرمایہ لگ چکا ہے، اب بند نہیں کر سکتے” نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

مزید نقصان

عقل مندانہ فیصلہ کیا ہوگا؟

پراجیکٹ آج بند کر دو، کل کا نقصان بچاؤ۔اب ریاستی مثال جیسے پی آئی اے کو دیکھتے ہیں۔حکومت سوچتی ہے،“ہم نے دہائیوں پی آئی اے پر پیسہ لگایا ہے، اب اسے بیچنا قومی نقصان ہوگا”

یہی سوچ مزید سبسڈی ،مزید  خسارہ،مزید عوامی بوجھ پیدا کرتی ہے۔

درست سوچ کیا ہوگی ؟

“جو ہو چکا، ہو چکا ، اب بہتر فیصلہ کیا جائے.

ماضی کی غلطیاں آج کے بہتر فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں۔ ایئرلائن کو پرانے قرضوں سے پاک کرنا اور اسے مارکیٹ کے عام ماحول میں کام کرنے دینا ایک درست اقدام تھا۔

چاہے اس سے پرانا ڈیبٹ ختم نہ بھی ہو۔ دوسرا اصول یہ یاد رکھیے کہ ریاست عملی طور پر وسیع تر معیشت میں ایک حصہ دار ہوتی ہے۔ جب کمپنیاں ترقی کرتی ہیں، تو حکومت ٹیکس کے نظام کے ذریعے اس میں شریک ہوتی ہے۔زیادہ ملازمین، زیادہ پیداوار اور آخر میں منافع،یہ سب بڑھتی ہوئی آمدنی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

لہٰذا، نجکاری کے بعد بہترین صورتحال یہ نہیں ہوگی کہ وہ 600 ارب روپے غائب ہو جائیں، بلکہ یہ ہوگی کہ ہوا بازی کا شعبہ اتنا مستحکم ہو جائے اور اتنی تیزی سے ترقی کرے کہ وقت کے ساتھ ساتھ حکومت کے بوجھ کو اتارنے میں مدد مل سکے۔اور نئے قرضے نہ چڑھیں۔

وہ کونسے خدشات ہیں جو ابھی بھی موجود ہیں ؟

پاکستان نے پہلے بھی نجکاری کی ہے۔کے الیکٹرک ، بینکنگ اس کی واضح مثال ہے۔اس کے باوجود بعد کے سالوں میں ترقی کی رفتار مسلسل کم ہوئی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ نجکاری “ناکام” ہوگئی،بلکہ یہ ایک کڑوی سچائی کی نشاندہی کرتا ہے۔

وہ کیا ہے؟

صرف ملکیت کی تبدیلی اس ماحول کا متبادل نہیں ہوسکتی جو سرمایہ کاری، مقابلے اور پیداواری صلاحیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہو۔اس نظام (Ecosystem) کے بغیر نجکاری محض ایک “لین دین” بن کر رہ جاتی ہے، “تبدیلی” نہیں۔

پی آئی اے کی تقسیم درست منطق پر مبنی تھی،پرانے قرضوں کو الگ کرو اور پھر چلتے ہوئے کاروبار کی نجکاری کر دو۔لیکن یہی نظم و ضبط توانائی (کے ای ایس سی) کے شعبے میں کیوں نافذ نہیں کیا گیا، جو کہ کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے؟

وہاں بدانتظامی اور فضول قسم اخراجات کو “سماجی” بنا دیا گیا ہے۔یعنی ریاست نے بیلنس شیٹ کو ٹرانسپیرنٹ طریقے سے صاف کرنے کے بجائے، بجلی کی کمر توڑ قیمتوں کے ذریعے اسے انفرادی صارفین اور کمپنیوں پر تھوپ دیا گیا ہے۔پی آئی اے کا تقریباً 600 ارب روپے کا یہ پرانا خسارہ محض ایک حسابی عدد نہیں ہے۔یہ دہائیوں کی کمزور حکمرانی اور ناکام ادارہ جاتی نظام کا نچوڑ ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے۔

کیا یہ نظام بدلے گا؟

دیکھا جائے تو

julia rana solicitors london

اصل سوال یہی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply