کسی بھی ملک کی ترقی میں شفافیت؍ موثر نمائندگی؍ ریگولیشن؍ اسٹریٹجک سیکٹر میں ریاستی کردار اور قومی مفاد کی ترقی اہم ہے لیکن نجکاری نامکمل حل ہونے کے ساتھ ساتھ نامکمل مسئلہ بھی ہے اس سے معیشت تو بہتر ہوتی ہے؍ اداروں کی کارگردی بھی بہتر ہوتی ہے اور عالمی اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے لیکن اس سے منفی اثرات جو کسی بھی ملک پر مرتب ہوسکتے ہیں وہ قومی شناخت کا کمزور ہونا؍ خارجہ پولیسی میں محدود اختیار ہونا اور سماجی ؍ غیر ملکی انحصار کا بڑھ جانا اور سماجی عدم مساوات ہیں۔
نجکاری ایک ناگزیر معاشی حقیقت ہوسکتی ہے مگر بغیر اسٹریٹجک بصیرت ریاست کی سافٹ پاور اور خودمختاری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سافٹ پاور یعنی ثقافت۔۔ اقتدار ۔۔۔اداروں اور قومی تشخص کے ذریعے ایک ریاست دوسری ریاستوں کو فخر سے متاثر کرتی ہے اور جناب سافٹ پاور کے اہم ذرائع قومی ایئر لائن ،میڈیا ،تعلیمی ادارے،ثقافتی ادارے اور سفارتی خدمات ہیں اور اگر یہ ادارے نجی ہاتھوں میں چلے جائیں تو ریاست کا نمائندہ کردار کمزور ہوجا ہے اور قومی تشخص متاثر ہوتا ہے کیوں کہ نجکاری کے بعد ادارے منافع کو تر جیح دیتے ہیں سفارتی یا ثقافتی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ثقافتی تبادلے بند محدود ہوجاتے ہیں یہ صورتِ حال ملک کی سافٹ پاور کو کمزور کرتی ہے ۔
اور جناب اسٹریٹجک خودمختاری کسی بھی ریاست کی وہ صلاحیت ہے جس سے وہ اپنی معاشی سیاسی دفاعی اور سفارتی پالیسیوں کا تعین کرتی ہے اور جب اسٹریٹجک نوعیت کے ادارے نجی ہاتھوں میں چلے جائیں تو حکومت کا کنٹرول محدود ہوجاتا ہے اسی کے ساتھ ہی پولیسی سازی مشکل ہوجاتی ہے خاص طور پر ایوی ایشن ۔۔۔توانائی اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبوں میں ،پھر فیصلے قومی مفاد کے بجائے کارپوریٹ مفاد پر ہوتے ہیں ریاست کا ان پر انحصار بڑھ جاتا ہے اور یہ تمام تر صورت حال اسٹریٹجک خودمختاری کو کمزور کرتی ہے اور جناب قومی سلامتی بھی متاثر ہوتی ہے۔
جدید عالمی نظام میں ریاستیں صرف عسکری طاقت یا معاشی وسائل کے ذریعے با اثر نہیں ہوتی بلکہ ان کی سافٹ پاور اور اسٹریٹجک خودمختاری بھی عالمی سطح پر ان کی حیثیت کا تعین کرتی ہے نجکاری ایک ایسی معاشی پولیسی ہے جس کے ذریعے ریاست اپنے زیرِ انتظام اداروں کو نجی شعبوں کے حوالے کردیتی ہے اگرچہ نجکاری کو عموماً معاشی اصلاحات اور کاگردی میں بہتری کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے تاہم اس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ کسی ملک کی سافٹ پاور اور اسٹریٹجک خودمختاری کو بھی متاثر کرتی ہے ۔
نجکاری کا تصور بیسویں صدی کے آخر میں زیادہ نمایا ہوا
خصوصاً 1980 کی دہائی میں برطانیہ میں وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کے زیرِاہتمام نجکاری عمل میں لائی گںٔی اور امریکہ میں ریگن دور میں پھر بعد ازاں ترقی پذیر ممالک میں IMF اور عالمی بینک کے دباؤ کے تحت پاکستان میں بھی نجکاری کا باقاعدہ آغاز ہوا اور 1991 سے اب تک پاکستان میں 60 سے زائد سرکاری ادارے مکمل یا جزوی طور پر نجی شعبے کو منتقل کیے جا چکے ہیں ۔ س کا مقصد سرکاری اداروں کے خسارے کم کرنا ۔۔۔معیشت کو آزاد منڈی کے اصولوں پر استوار کرنا ۔۔۔غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے ۔تاہم وقت کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا پاکستان میں نجکاری محض ایک معاشی فیصلہ ہے یا اسکے سیاسی ۔۔۔سفارتی اور اسٹریٹجک اثرات بھی ہوسکتے ہیں؟
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں