ان دنوں سوشل میڈیا پر معروف اسکرین رائٹر اور نغمہ نگار جاوید اختر اور نوجوان عالمِ دین مفتی شمائلِ ندوی کے درمیان خدا کے وجود کے موضوع پر پبلک ڈیبیٹ خاصی زیرِ بحث ہے، جو سنیچر کے روز دہلی کے کانسٹی ٹیوشنل کلب میں منعقد ہوئی۔ کڑاکے کی سردی کے باوجود جیسے ہی بحث کا آغاز ہوا، مقررین کے دلائل، باہمی اختلافِ رائے اور حاضرین کے سوالات و تبصروں نے پورے ہال کے ماحول کو گرما دیا، اور بحث کے اختتام کے بعد بھی اس کے اثرات کم ہونے کے بجائے مزید نمایاں ہوتے چلے گئے۔ دونوں مقررین کے حامی اپنے اپنے پسندیدہ مقرر کو کامیابی کی مبارک باد دیتے نظر آئے، جب کہ سوشل میڈیا پر دونوں فریقوں سے وابستہ انفلوئنسرز ایک دوسرے پر لفظی حملے کرتے رہے۔ اس پوری صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے یہ سوال فطری طور پر سامنے آتا ہے کہ کیا مذہبی مباحث کا مقصد کسی ایک اسپیکر کی جیت کا جشن اور دوسرے کی ہار کا ماتم بن جانا چاہیے؟ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مذہبی مباحث کوئی کرکٹ یا فٹبال کا مقابلہ نہیں ہوتے، جہاں ایک کی جیت اور دوسرے کی شکست ناگزیر سمجھی جائے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم جذبات سے ہٹ کر سنجیدگی سے یہ سوچیں کہ مذہبی مباحث کو کس طرح بامقصد بنایا جا سکتا ہے۔ ایک ایسے کثیرالمذاہب معاشرے میں، جہاں خدا کے وجود کو نہ ماننے والے بھی بڑی تعداد میں موجود ہوں، ہمیں ایسا مکالمہ فروغ دینا چاہیے جو سماج میں سمجھ بوجھ کو بڑھائے، لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لائے اور فاصلے پیدا کرنے کے بجائے باہمی احترام کو مضبوط کرے۔
مذہبی مکالمے کے دوران اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ خیالات کا اظہار منطقی، سنجیدہ اور دیانت داری و خلوص کے ساتھ کیا جائے۔ایک مقرر کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کرے کہ وہ کیا سوچتا ہے اور کیوں ایسا سوچتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ مذہبی مکالموں یا بین المذاہب کانفرنسوں میں مقررین جارحانہ لب و لہجہ اختیار کر لیتے ہیں، گویا وہ کسی انتخابی مباحثے میں حصہ لے رہے ہوں۔ اس تناظر میں مقرر کے اندازِ گفتگو کی بھی غیرمعمولی اہمیت ہے۔ اسے نہ تو مخاطب کو کم علم یا کمتر سمجھنا چاہیے اور نہ ہی اس کا مذاق اڑانا چاہیے۔ فلسفے کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مذہب کو ماننے والے اور مذہب کو نہ ماننے والے لوگوں کے درمیان اختلافات ہزاروں برس پرانے ہیں۔مثال کے طور پر بدھ مت کا فلسفہ اور چارواک فلسفی خدا کے وجود کی نفی کرتے تھے، جبکہ ویدی فلسفی قادرِ مطلق ایشور کے وجود پر زور دیتے تھے۔ اسی طرح مختلف مذاہب کے درمیان مباحثے بھی کوئی نئی بات نہیں، کیونکہ علماء صدیوں سے مذاہب کے مختلف پہلوؤں پر بحث و مباحثہ کرتے آئے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
یہ حقیقت ہے کہ اگرچہ یہودیت، عیسائیت، اسلام، ہندو مت، بدھ مت، جین مت، سکھ مت وغیرہ جیسے مذاہب میں بہت سی باتیں مشترک ہیں، لیکن ان کے ماننے والے اس امر کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے درمیان اختلافات موجود ہیں اور یہ اختلافات محض کسی کی خواہش سے ختم نہیں کیے جا سکتے۔ مثال کے طور پر بھارت میں آج بھی کروڑوں کی تعداد میں ایسے آدی واسی بستے ہیں جو خود کو سَرنا دھرم کا پیروکار کہتے ہیں، جن کے نزدیک نہ جنت و جہنم کا تصور ہے اور نہ ہی کسی آسمانی کتاب پر ایمان؛ وہ اگر عبادت یا دعا کرتے ہیں تو قدرت، یعنی نیچر، سے کرتے ہیں اور پیڑ پودھوں، پہاڑوں اور دریاؤں کو اسی قدرت کا حصہ مانتے ہیں، نیز یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے آباء و اجداد ہر وقت ان پر نظر رکھتے ہیں اور وہ ان سے بھی دعا مانگتے ہیں۔ یہ بھی ایک منفرد مذہبی تصور ہے جس میں مندر یا مسجد جیسی عبادت گاہ کا کوئی تصور نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ مذہب پر بحث کرتے وقت ہماری سمجھ محض مذہبی کتابوں تک محدود نہ رہے بلکہ ہمیں معاشرے کی ساخت اور تاریخ کا تقابلی مطالعہ بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے، کیونکہ اگر بصیرت نہ ہو تو مذہب کے نام پر لڑائیاں جنم لے سکتی ہیں، جبکہ صداقت اور نیک نیتی کے ساتھ گفتگو کی جائے تو عداوت محبت میں بدل سکتی ہے۔ بہت سے مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ تمام انسان خدا کی اولاد ہیں، لہٰذا اگر یہ اصول ایمان کا لازمی اور ناقابلِ جدا حصہ ہے تو کوئی بھی مذہبی شخص مختلف مذاہب کے ماننے والوں یا کسی مذہب کو نہ ماننے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک یا اخراج کا رویہ اختیار نہیں کر سکتا، اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حتیٰ کہ نام نہاد ملحدین، جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں رکھتے، بھی کسی نہ کسی فلسفے اور اخلاقی نظام کے تحت زندگی گزارتے ہیں، اس لیے ان کے نظریۂ حیات کو ایمان کے لیے خطرہ سمجھنے کے بجائے دنیا کی پیچیدگی کو سمجھنے اور خدا اور اس کی تخلیق کے اسرار کو جاننے میں معاون سمجھنا چاہیے۔
مذاہب کے درمیان اختلافات اور تنازعات کی ایک بڑی وجہ تعبیر و تشریح کا اختلاف ہے۔ اگر ہم کسی بھی مذہب کی مقدس کتاب کو مثال کے طور پر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ کتاب ایک ہی ہوتی ہے، لیکن اس کی تشریحات اور تفاسیر ہزاروں میں ہیں۔ اختلافات اور تنازعات صرف مختلف مذاہب کے درمیان ہی نہیں بلکہ ایک ہی مذہب کے اندر بھی خوب پائے جاتے ہیں، اور اس کی بنیادی وجہ انسانی تشریح کا کردار ہے، کیونکہ مقدس متن کا مفہوم اکثر وہی بن جاتا ہے جو اس سے اخذ کیا جاتا ہے۔ ہر مذہب میں مذہب کی تعبیر کا اختیار عموماً چند مخصوص پنڈتوں اور علماء کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ مقدس کتابیں سب کے لیے دستیاب ہیں اور ہر شخص انہیں پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کر سکتا ہے، لیکن معاشرے میں غالب رجحان یہ ہے کہ دینی قیادت کی تشریح کومستند مان لیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ تشریحات انسانوں کے ذریعے کی جاتی ہیں جو طبقاتی، ذات پات اور صنفی شناختوں سے کبھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتے، اس لیے کئی بار غالب تشریحات سماج کے مظلوم اور کمزور طبقات کے مفادات کے خلاف جاتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دلتوں، پسماندہ ذاتوں اور خواتین کی تحریکوں نے مذہب کی نئی تعبیر کو حاشیے پر موجود طبقات کے نقطۂ نظر سے پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اسی لیے مذہبی مباحث میں تاریخی، معاشی، سیاسی اور سماجی تناظر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حتیٰ کہ بہت سے سیکولر افراد اور نام نہاد ملحدین بھی یہی غلطی کرتے ہیں۔ مذہبی گفتگو میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ محض الفاظ لوگوں کے دل نہیں بدلتے، کیونکہ عمل کے بغیر الفاظ بے اثر ہو جاتے ہیں۔ اس لیے مبلغ کو چاہیے کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے موضوع پر صرف تقریر ہی نہ کرے، بلکہ وہ خود اپنے عمل سے اس تعلیم کی مثال بنے اور اپنی زندگی کو معاشرے کے سامنے نمونہ بنا کر پیش کرے، کیونکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ لوگ ہمیشہ انہی شخضیات سے متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے قول کو عمل میں تبدیل کر کے دکھایا ہے۔
مضمون نگار سیاسیات اور تاریخ کے اسکالر ہیں۔
debatingissues@gmail.com
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں