مذہبی انتہا پسندی اور تنازعات میں گھرا بھارت اس وقت ایک اور نئے تنازعے حجاب تنازعے میں پھنس چکا ہے۔ بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار جو گزشتہ ماہ دسویں مرتبہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں پٹنا شہر میں آیوش ڈاکٹروں کو جاب لیٹرز دینے کی تقریب تھی۔ آجکل یہ کام بھی خود وزیراعلیٰ کرتے ہیں تاکہ ٹی وی پر آنے، اخبار میں فوٹو چھپنے کا موقع ملتا رہے۔منجھے ہوئے سیاست دان نتیش کمار نے سرکاری سکیم کے تحت ڈاکٹروں کو جاب لیٹرز دینے کی تقریب کے دوران ایک باحجاب مسلمان خاتون کا حجاب اس وقت کھینچا جب وہ اپنا لیٹر وزیراعلیٰ سے وصول کرنے سٹیج پر پہنچی تھیں۔ واقعے کی ویڈیو آگ کی طرح سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور بھارتی عوام نتیش کمار سے معافی اور استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
نتیش کمار کی بھونڈی حرکت کا کسی صورت دفاع نہیں کیا جا سکتا تھا مگر پھر بھی بہار کے فیشریز کے وزیر سنجے نشات نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ خاتون کے چہرے پر ہی تو ہاتھ لگا ہے اگر کہیں اور ہاتھ لگ جاتا تو نہ جانے کیا ہوتا۔ گویا بھارتی ریاست بہار کے وزراء کو معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی کے وزیر برائے ٹیکسٹائلز گریراج سنگھ نے بھی نتیش کمار کی حرکت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس مسلمان خاتون ڈاکٹر کو سرکاری نوکری نہیں چاہیے تو وہ بھاڑ میں جائے۔ یہ بیان نہیں بلکہ ایک ذہنیت ہے۔ وہی ذہنیت جو طاقتور کو کسی بھی عمل کا جوابدہ نہیں سمجھتی۔ ریاست کے سربراہ کو عورت کی عزت تک کرنی نہیں آتی اور اسکا دفاع کرنے والے اسے ایک عام مسئلے کی طرح دیکھ رہے ہیں۔ یہی سوچ اور اپروچ معاشرے میں بگاڑ کی ذمہ دار ہے۔ اسی آگ میں آج بھارت جل رہا ہے۔ ایک اور وزیر نتیش کمار کا دفاع کرتے ہوئے میدان میں اترے اور موصوف نے کہا نتیش کمار نے باپ بیٹی جیسا رشتہ سمجھتے ہوئے خاتون کا حجاب اٹھایا۔ باپ کی عمر کے ہونے کا مطلب ہے کہ آپکو خواتین کے ساتھ زبردستی چھیڑ چھاڑ کرنے کی اجازت مل گئی ہے کیا۔ حیرت کی بات تو ہے کہ باپ کی عمر کے ہونے کے باوجود بھی بزرگ نتیش کمار نے یہ شرمناک حرکت کیسے کر ڈالی۔
بھارت میں مسلمان خواتین، ہندو خواتین، گھریلو خواتین، سیاسی اور سماجی کارکن خواتین یک زبان ہو کر نتیش کمار کے اس عمل کی مذمت کر رہی ہیں۔ پٹنا لکھنو دہلی سمیت کئی شہروں میں نتیش کمار کے خلاف مظاہرے بھی ہو رہے ہیں جن میں خواتین بڑی تعداد میں شریک ہو رہی ہیں۔ ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے برقع پہنے ساڑھی باندھے شلوار قمیض پہنے خواتین نتیش کمار سے معافی کا مطالبہ کررہی ہیں۔ بھارت کے مختلف شہروں میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کے خلاف پولیس تھانوں میں ایف آئی آرز بھی درج کروائی جا رہی ہیں۔
حجاب کھینچنے کے اس واقعے سے مسلمان خواتین اور مسلم معاشرے میں ڈر کا ماحول بھی چھا گیا ہے کہ کوئی بھی وزیر سفیر حکومتی عہدیدار خواتین کا دوپٹہ چادر حجاب زبردستی کہیں بھی اتار سکتا ہے۔ یہ سوچ کر خواتین خوف کھا رہی کہ اب بازاروں چوکوں چوراہوں کے علاوہ سرکاری دفاتر اور تقاریب میں بھی خواتین کی عصمت محفوظ نہیں ہے۔ پاک و ہند میں بسنے والا ہر شخص ماں بہن بیٹی کی عزت کا درس تو دیتا ہے مگر بھارت کے اس واقعے نے مشرقی معاشرے کو شرمندہ کر کے رکھ دیا ہے۔
نتین کمار کی یہ حرکت بھارت کے اندر اور عالمی سطح پر بھی اسکی رسوائی کا سبب بن گئی ہے۔ گویا نتیش کمار نے حجاب کے ساتھ پورے بھارت کی عزت بھی اتار دی۔ بعض حلقے نتیش کمار کی عمر کے حساب سے اس بات کا گمان کر رہے ہیں کہ شاید انکا دماغی توازن بگڑ گیا ہے جس کے چلتے انہوں نے ایک خاتون کو سرکاری تقریب کے دوران اسکی اجازت کے بغیر ہاتھ لگا کر اسکا حجاب کھینچ ڈالا۔ مگر یہ کونسی ذہنی بیماری ہے جو عورتوں کو دیکھ کر خراب ہو جاتی ہے اور وزیر اعلیٰ کی کرسی پر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا جہاں نتیش کمار برسوں سے گدھ کی طرح پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ اگر یورپ کے کسی ملک میں ایسا ہوتا تو ابھی تک وہاں استعفیٰ آچکا ہوتا۔ عورت کی بے حرمتی اور بے عزتی کا یہ منظر ہر ذی شعور انسان کو شرم کے ساتھ غصہ دلا رہا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کا کہنا ہے کہ کسی عوامی عہدیدار کی جانب سے کسی خاتون کا حجاب یا نقاب زبردستی ہٹانا عورت کی عزت، شناخت اور ذاتی آزادی پر سنگین حملہ ہے۔ اگر یہ کسی ہندو خاتون کے ساتھ ہوتا تو بھی غلط ہی ہوتا، اگر کسی سکھ خاتون کے ساتھ ہوتا تو بھی غلط ہوتا، اور اگر کسی کرسچن خاتون کے ساتھ ہوتا تو بھی غلط ہی ہوتا۔بھارت ماتا کی جئے بولتے ہیں لکشمی ماں کی پوجا کرتے ہیں عورت کو دیوی مانتے ہیں مگر پھر ایسی حرکت بھی کرتے ہیں۔
نتیش کمار کے ریکارڈ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے یہ خواتین کے ساتھ بد تمیزی کرنے کے عادی ہیں۔ ویشالی کے سٹیج پر ایک خاتون کارکن کو زبردستی انہوں نے مالا پہنا دی تھی اور انکی گردن میں ہی مالا لپیٹنے لگے تھے۔ ایسے ہی مارچ 2025 میں پٹنا شہر میں ایک پروگرام چل رہا تھا جہاں نتیش کمار خاتون کو سٹیج پر زبردستی اپنی طرف کھینچنے لگے۔ بغل میں کھڑے وزیر داخلہ امت شاہ یہ منظر دیکھ کر بوکھلا گئے اور یہ واقعہ میڈیا کی سرخیوں میں رہا تھا۔ 2025 کے مارچ میں ہی ایک اور واقعہ بھی پیش آیا۔ پٹنا میں ورلڈ کپ 2025 کی تقریب چل رہی تھی جس میں نتیش کمار بھی موجود تھے۔ بھارتی قومی ترانہ چل رہا تھا اور قومی ترانے کے دوران ہی نتیش کمار عجیب و غریب طرح سے ہنسنے لگے۔ ساتھ کھڑے سیکیورٹی گارڈ کو ہاتھ لگانے لگے۔ سامنے کھڑے شخص کو ہاتھ جوڑ کر نمشکار کرنے لگے۔ مارچ 2025 کی ایک تعلیمی ادارے میں تقریب میں نتیش کمار کو پودے کا گملا تحفے میں دیا گیا۔ جسے وصولنے کے ساتھ ہی نتیش کمار نے وہ گملا ادارے کے سربراہ کے سر پر رکھ دیا۔ اس کے علاوہ گزشتہ ماہ بھارتی جنتا پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد کی جیت کے جشن میں نتیش کمار نے اپنی آئینی حدود اور ذمہ داریوں کو پیچھے چھوڑ کر وزیراعظم نریندرمودی کے پاوں چھو لئے۔ اس سے قبل نتیش کمار نے ریاستی/صوبائی اسمبلی میں آبادی کنٹرول کے موضوع پر اپنی تقریر میں جس طرح کی باتیں کی اور جن الفاظ کا انتخاب کیا وہ انتہائی گھٹیا تھے جنہیں دہرانا بھی مشکل ہے۔
شاید بی جے پی نے نتیش کمار کو اتحاد کے ساتھ وزیراعلیٰ اسی لئے بنایا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے رہیں۔ داڑھی ٹوپی حجاب مسلمان مسجد مدرسے کرتے پجامے کے بعد اب بھارت میں مسلمان عورتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شرم آتی ہے ایسے شخص کو وزیراعلیٰ لکھتے ہوئے جسکا انسانیت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں