کیا بیانیہ جات کی تبدیلی کا موسم آن پہنچا

بیانیہ جات دو طرح کے ہوتے ہیں عارضی یا دیرپا۔ دیرپا یا مستقل بیانیہ بھی اکثر عارضی بیانیہ کو جنم دے دیا کرتاہے۔  بعض اوقات مستقل بیانیہ کی کوکھ سے ایسا عارضی بیانیہ جنم لیتا ہے جو بظاہر یا اصولی بنیاد پہ مستقل کا بظاہر الٹ بھی ہوسکتا ہے۔ بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عارضی بیانیہ وقتی حالات کے تابع اپنایا ،یا دیا جاتا ہے اور حالات میں جوہری تبدیلی آنے پہ بیانیہ فرسودہ ہوجاتا ہے تو نیا بیانیہ اپنانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ 
لگتا ہے ہم بہت جلد اس دور میں قدم رکھنے والے ہیں جب نئے بیانیہ جات دیے جائینگے۔ کیونکہ معروضی حالات بھی تبدیل ہوچکے ہیں اور مزید تیز تر تبدیلیاں بھی افق پہ نمایاں ہوتی نظر آرہی ہیں۔ مثلاً مرحوم سوویت یونین کے دور میں سرمایہ دار یا آزاد دنیا کا بیانیہ مختلف تھا۔ امریکہ کی طرف سے مضبوط ریاست اور مضبوط اداروں کی حمایت کی جاتی تھی۔ خاص طور پہ مضبوط فوج اور کرپشن پہ کنٹرول۔ سوویت یونین کے بعد یہ بیانیہ تبدیل ہوگیا۔ 
اب ہمارے ہاں ضیاء کے دور میں ایک بیانیہ آیا اور وہ پاکستان کے اصلی یا اوریجنل بیانیہ سے مختلف تھا۔ پاکستان کے اصل بیانیہ میں پاکستانی فوج اور ادارے پاکستان کے محافظ تھے اور پاکستانی مفادات کے نگہبان ،لیکن ضیا کے دور سے جو بیانیہ آیا اس کے مطابق پاکستانی فوج اور ادارے اسلام کے محافظ تھے اور پاکستان سے انکی دلچسپی کی وجہ محض یہ تھی کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ 
نائن الیون کے بعد اگرچہ مشرف نے یہ بیانیہ دینے کی کوشش کی کہ سب سے پہلے پاکستان  لیکن وہ بوجہ مقبول نہ ہوسکا۔ اسلامی بیانیہ کے شیدائی اس کو تسلیم کرنے پہ تیار نہ تھے کیونکہ انکی ذہنی تربیت ہی مختلف خطوط پہ ہوئی تھی۔ 
۲۰۰۵ کےلگ بھگ ایک نیا بیانیہ تخلیق ہوا۔ اس بیانیہ کے مطابق برصغیر بشمول افغانستان( یاد رہے انگریز ہمیشہ افغانستان کو جنوبی ایشیا کا حصہ مانتے رہے) کے تمام مسائل کی جڑ پاکستان تھا۔ بات پاکستان کے ضیائی دور کے بیانیہ سے شروع کرکے خود پاکستان کے وجود کو کٹہرے میں کھڑا کرنے تک جاتی تھی۔ جواز یہ تھا کہ پاکستان دہشت گردی کا منبع ہے فلاں فلاں سے لیکر فلاں تک یہیں ہیں اور اس کی وجہ بھی فلاں ہے۔ معاشرے کی خود تنقیدی کی صلاحیت اور عادت کو کہیں اور لے جایا گیا۔ کچھ زمینی حقائق بھی اس کی تائید کرتے تھے مثلاً افغان طالبان کا پاکستان کے علاقوں میں موجود ہونا۔ اس پہ ہم نے بہت کچھ سنا اور ہم خود بھی اس تنقید میں شریک ہوئے۔ لیکن اب معروضی حالات ہی بدل چکے ہیں۔ ہمہ نوع طالبان کی موجودگی اب افغانستان میں پائی جاتی ہے۔ نہ صرف طالبان بلکہ داعش بھی وہاں موجود ہے۔ 
اب پرانا بیانیہ بیکار اور از کار رفتہ نظر آرہا ہے۔ مثلاً  حمید جو ہمیشہ ہر بات پاکستان پہ ڈالنے کا عادی تھا ( بیانیہ خرید لینے کی وجہ سے) اب یہ کہے کہ افغانستان اور پاکستان میں تازہ جھڑپ کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان کے لیڈر موجود ہیں تو ریاض یہ کہنے میں حق بجانب ہوگا کہ بھائی بچے کہاں؟ ملا منصور کو ڈرون اٹیک میں مار دیا تو جو بچا ہے اس کو کیوں نہیں پھڑکاتے؟
یا اس طرز کا لمبا سوال جواب ہوگا لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ جنگ کا تھیٹراب افغانستان ہی ہے۔ طالبان بھی وہیں موجود ہیں اور داعش بھی وہیں۔ اب کچھ کیا جاسکتا ہے تو افغانستان میں ہی کیا جاسکتا ہے کہیں اور نہیں۔ الغرض اس نوع کے ہزار سوالات سامنے لائیں انکا ٹھوس اور مدلل جواب موجود ہوگا کیونکہ زمینی حقائق ہی بدل چکے ہیں اب کچھ کرنے کی ضرورت کا بوجھ افغانستان پہ جاچکا ہے۔ داعش کی موجودگی سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ روس، چین اور ایران بھی خوفزدہ ہیں۔ جوہری تبدیلی یہ آچُکی ہے کہ نہ صرف اب پاکستان پہ ذمہ داری ڈال کے جان چھڑائی جاسکتی ہے بلکہ یہ معاملہ بھی دو ملکی نہیں رہا اور کثیر ملکی ہوچکا ہے۔ اب اس عارضی بیانیہ کا تو دور گزر چکا کہ پاکستان پہ بات ڈالی جائے بلکہ معاملہ الٹ گیا۔ تو کیا ان حالات میں کسی نئے بیانیہ کی توقع کی جائے؟ 
شروع میں ایک عرض کی تھی کہ کچھ مستقل بیانیہ جات ہوتے ہیں اور کچھ عارضی۔ پاکستان پہ بات ڈال دینا ایک عارضی بیانیہ تھا جس کا موسم جاچکا لیکن کچھ مستقل بیانیہ جات بھی ہوتے ہیں جنکو مہا بیانیہ کہہ لیتے ہیں۔ اس عارضی بیانیہ کے پیچھے دو مہا بیانیہ جات تھے۔ ایک انڈیا کا مہا بیانیہ کہ برما سے لیکر بامیان تک ہند ایک ہی ہے اور دوسرا برطانیہ کا مہا بیانیہ ایشیا پالیسی میں جو  یہی کہتا تھا۔ تاکہ چین اور روس کو جنوبی سمندروں تک رسائی حاصل کرنے سے روکا جائے۔ امریکی مہا بیانیہ کہ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور ایشیا میں چین اور روس کو پرانی برطانوی پالیسی کے تحت محدود کرنا ہے۔ ان تین مہا بیانیہ جات نے حالیہ عارضی بیانیہ کو جنم دیا۔ 
لیکن اب زمینی حقائق کم سے کم عارضی بیانیہ  کو تو غلط ثابت کررہے ہیں۔ البتہ مہا بیانیہ کی بنیاد کسی خواہش پہ ہوا کرتی ہے۔ مذکورہ تین طاقتوں کی خواہش تبدیل نہ ہوئی ہے۔ لہٰذا انکا مہا بیانیہ بھی تبدیل نہ ہوگا۔ البتہ تصادم سے بچتے ہوئے کوئی نیا عارضی بیانیہ لاسکتے ہیں۔ 
عارضی بیانیہ کی مصیبت یہ ہے کہ انکے علمبرداروں کو یو ٹرن لینا پڑتا ہے جس کی بنا پہ لعن طعن ہوتی ہے۔ مثلاً سابقہ پاکستانی کیمونسٹوں کو ہی دیکھ لیں۔ انہوں نے آزادی کے موقع پہ پاکستان کی حمایت کی کیونکہ سٹالن کا کہنا یہی تھا اور نعرہ بلند ہوا ۔
“سامراج کا سوکھا جنگل اس میں سرخ شرارہ 
یہ پاکستان ہمارا ”
کسی کو شائد نہ یاد ہو لیکن تقسیم کے موقع پہ جہاں یہ نعرہ بلند ہوا کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ تو ساتھ ساتھ یہی بیانیہ بھی گردش کررہا تھا۔ البتہ آزادی کے بعد کانگریسی حکومت نے روس کی طرف مراجعت کی تو پاکستانی کیمونسٹوں کو بھی اپنا بیانیہ تبدیل کرنا پڑا۔ کیونکہ سابقہ کانگریسی( جو کبھی بھی سوشلسٹ نہ تھے) نے بدلے ہوئے حالات میں یک قومی نظریہ کی بجائے کثیر قومی نظریہ اپنا لیا لسان اور نسل کی بنیاد پہ۔ یہاں مزے کی بات ہے کہ کانگریسی جمہوریت پسند اور سوشلسٹ دونوں ہی نسل پرستی کے بدترین مخالف تھے۔ 
کیا ہٹلر کانگریس، سوشلسٹوں یا باچا خان کا آئیڈیل بن سکتا ہے؟ 
لیکن بنیادی برطانوی کانگریسی مہا بیانیہ کی تعمیل میں پاکستانی سوشلسٹوں کو یہ بھی کرنا پڑا۔ ماضی کی تفصیل لمبی ہوجائے گی اس سے بچتے بچاتے عرض ہے کہ یہ سب عارضی بیانیہ جات کسی مہا بیانیہ کے زیر اثر ہی پیدا ہوئے اور اس کی وجہ زمینی حقائق تھے۔ اب پھر زمینی حقائق ایک سو اسی ڈگری  کے زاویہ پہ مڑ چکے ہیں تو کیا عارضی بیانیہ جات پھر تبدیل ہونگے؟ اور اگر ہونگے تو ان کا رخ اور نشانہ کیا ہوگا؟ اگلا سوال یہ ہے کہ جس طرح مشرف نے ضیا کا بیانیہ تبدیل کرنے کی کوشش کی لیکن پرانے بیانیہ کے عاشقوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا اسی طرح نئے بیانیہ کے عاشق بھی کیا اگلے بیانیہ کو تسلیم کرنے سے انکار کردینگے؟ 

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *