یہ تحریر ایک سال بعد منصہ شہود پر لارہا ہوں، ایک سال سے ہمت مجتمع کر رہا تھا۔
20 دسمبر بھی آگئی اور ہماری ماں کو ہم سے جدا ہوئے پورا ایک سال ہوگیا۔ مِل کالونی خیرپور میں ہماری ماں، 5 بھائیوں کی اکلوتی بہن، 28 اگست 1963 کو متولد ہوئیں۔
نانا ہمارے حسن احمد رضوی مِل مزدور تھے اور نانی سائرہ خاتون جعفری خاتونِ خانہ۔ 47 کے لٹے پٹے قافلے میں میری بڑی نانی کو سر پر بلّم مارا گیا جس سے وہ وہیں ٹرین میں شہید ہوئیں، ان کی گود میں میرے بڑے ماموں شیر خواری کے عالم میں پڑے رہے تو میرے نانا نے اپنے پہلوٹے کو اٹھایا؛ بیوی کو بے سر و سامانی کے عالم میں دفن کیا اور عازمِ پاکستان ہوئے۔
ہم سادات اور مہاجرین کی اولاد ہیں اور اس امر پر مفتخر کہ سندھ دھرتی نے ہمیں پناہ دی تو یہیں کے ہو رہے۔
میری نانی، بڑی نانی کی چھوٹی بہن تھیں 6 اولادیں پالیں اور 33 سال کی عمر میں ٹی بی کے عارضے میں جان دے دی۔ نانا نے پھر شادی نہیں کی اور خستہ سامانی میں بچے پالنے کی جی توڑ سعیِ مشکور کی۔ غربت اتنی ہی تھی جتنی سوچ میں سمائی جا سکتی ہے۔ خیر، خیرپور اسٹیٹ میں ہماری ماں نے بچپن اور شباب گزارا اور اسّی کی دہائی میں کراچی آئیں، میٹرک پاس کیا اور وہاں گارمنٹ فیکٹریوں میں جاب کی یعنی باپ کے دیے ہوئے خودداری کےسبق کو اپنایا۔ ساجدہ خاتون خود کو سل می دا گریٹ کہلواتی تھیں اور نوجوان بدمعاش لڑکوں کی طرح چیونگم چباتے ہوئے بہت خوشی محسوس کرتی تھیں۔
نیو کراچی کے خالص مہاجر و دیسی لوئر مڈل کلاس علاقے میں باپ/بھائیوں کے مکان میں رہنے کو ایک کونا مل گیا تھا سو غنیمت تھا۔ بھابیوں سے بھی ٹھیک بنتی تھی، یہاں تک کہ 1987 میں سلمی کی شادی اپنے ماموں زاد سے ہوگئی۔
سلائی کڑھائی، صفائی و نظافت میں فوجیوں والا نظم و ضبط، آپ کا جھگڑا بس اس بات پر ہوتا تھا کہ کمرہ صاف کیوں نہیں ہے۔
بھرے پرے سسرال میں گھر داری کرنی تھی۔ سو گھر بھی سنبھالا، ہمیں بھی اور طفل نما شوہر کو بھی۔ سلمی باجی کے 4 بچے ہوئے، اور سسرال سے بھی بے شمار غم اٹھائے، یہاں تک کہ 1996 میں بائی پولر ڈس آرڈر کی تشخیص ہوئی۔ ساس اور نندیں اتنی ہی بڑی چڑیلیں تھیں کہ اسٹار پلس کے تیس چالیس ڈرامے بن جائیں۔
خیر یہ تو پوری زندگی کا حصہ بن گیا لیکن ماں نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ اپنے بچوں کی پرورش کے لئے نہ کوئی سرکاری نوکری کی جو اس وقت بہت آسانی سے مل رہی تھی، نہ وقت کا ضیاع کیا۔ وقت کی پابندی سے بچوں کو
ہم و دین و دنیوی علوم سے آراستہ کروایا اور اسی اصول پر عمل پیرا رہیں کہ تربیت میں کوئی کمی نہ رہے۔
پڑھا لکھا کر بچوں کی شادیاں کروادیں اور خود اکیلی ہوگئیں۔ مجھ سے کہتی تھیں کہ علی شادی کرلے مجھے بہت اکیلا محسوس ہوتا ہے، اور مجھے لگتا کہ شاید اماں مذاق کر رہی ہیں لیکن قدرت تو ہم سے ہی کھیل کھیلنے والی تھی۔ 28 اکتوبر کو ماں کو شدید درد اٹھا، رپورٹیں دکھوائیں تو آخری اسٹیج کا کینسر تشخیص ہوا۔ بہنوں نے الٹ پلٹ کر رپورٹیں دیکھیں بلکہ ڈاکٹر سے آنکھوں میں آنسو لا کر لڑ بھی گئیں لیکن صد حیف۔ دو ماہ میں میری ماں چٹ پٹ ہوگئی۔
امی کہتی تھیں کہ ہم رضویوں کی بڑی ناک ہوتی ہے، خدا کسی کا محتاج نہ کرے بس چلتے پھرتے اٹھالے۔ میرا بھائی ہر سال چھٹیاں منانے پاکستان آتا ہے، ماں کی دور اندیشی دیکھیے کہ مرتے مرتے بھی تعطیلات میں تغیر برداشت نہ کیا اور اس دنیا سے بروز جمعہ بوقت ظہر اپنی بیٹی کی گود میں دم دیا اور رخصت ہوئیں.
ان کے مرنے سے کیا محلہ، کیا اپنے، کیا پرائے، ہر آنکھ اشک بار۔
میری ماں اللہ میاں کی گائے تھی، انہیں ابلے ہوئے انڈے اور کینو بہت مرغوب تھے، کہتی تھیں کہ ایک دن پورا ایک کریٹ انڈے کھاجاؤں گی اور میں کہتا، “چل جھوٹی!”. اب نیاز میں یہ دونوں اشیاء ہونگی ان کے نام پر۔ مجھے گاڑی چلانے میں تامل ہوتا تھا لیکن ماں کے لیے سیکھی تھی کہ انہیں کراچی گھماؤں گا، ہے ہے قسمت!
گھر ہمارا لبِ سڑک ہے اور وادیِ حسین قبرستان بھی۔ ماں اِٹھلا کے سب کو بتایا کرتی تھیں کہ ہمارا گھر مین روڈ پر ہے، اب جو وہیں آسودۂ خاک ہیں تو مجھے یقین ہے کہ جنت میں بھی سب سے یہی کہتی ہونگی۔

20 دسمبر 2025، کراچی۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں